داعش خراسان نے اختر مینگل کو مارنے کی کوشش کیوں کی؟

کوئٹہ میں ہونے والے خود کش دھماکے میں 15 افراد کی ہلاکت کے بعد یہ تاثر تقویت پکڑ گیا ہے کہ داعش خراسان نامی دہشت گرد تنظیم ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان میں اپنا نیٹ ورک مضبوط تر کرتی چلی جا رہی ہے جو کہ خفیہ اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس حملے کا مقصد سردار اختر مینگل اور محمود اچکزئی کو قتل کرنا تھا تاکہ پاکستان بھر میں فسادات پھوٹ پڑیں۔
سینیئر صحافی نصرت جاوید اپنی سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کوئٹہ میں سردار عطاء اللہ مینگل کی برسی کے موقع پر ہوئے خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے داعش نے خودکش بمبار کا نام اور تصویر بھی شائع کر دی ہے۔ اس جلسے کا اہتمام اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی نے کیا تھا۔ جلسے سے خطاب کیلئے پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی بھی مدعو کئے گئے تھے۔ اختر مینگل اور محمود اچکزئی کی سیاست سے پاکستانیوں کی ایک مؤثر تعداد اتفاق نہیں کرتی۔ اسکے باوجود یہ حقیقت بھی جھٹلائی نہیں جاسکتی کہ اختر مینگل بلوچستان کی ایک توانا آواز ہیں۔ اچکزئی بھی کئی بار قومی اسمبلی کے رکن بننے کی وجہ سے ملک بھر میں جانے جاتے ہیں۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ اچکزئی کی پارلیمانی سیاست سے وابستگی نے تحریک انصاف کے بانی کو یہ سوچنے پر مائل کیا کہ انہیں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کردیا جائے حالانکہ نواز شریف کی تیسری حکومت کے دوران عمران خان، محمود اچکزئی کی نواز شریف سے دوستی پر نہایت ناخوش تھے۔ انکا کہنا ہے کہ اسلام کے نام پر فروغ پانے والی انتہا پسند تنظیموں میں داعش خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ داعش خراسان نے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز کو دنیا بھر میں ’’خلافت اسلامی‘‘ کے احیاء کے لئے کافی متاثر کن انداز میں استعمال کیا ہے۔ اس کے پیغام نے امریکہ اور بے تحاشہ یورپی ممالک میں برسوں سے مقیم مسلمان نوجوانوں ہی کو نہیں بلکہ خواتین کو بھی اْکسایا کہ وہ اپنے گھر چھوڑ کر عراق اور شام کے دور دراز علاقوں میں پہنچ جائیں اور خلافت اسلامی کے قیام کے لئے ’’جہاد‘‘ میں حصہ لیں۔ ان نوجوانوں کی ذہن سازی کے عمل کو سماجی علوم کے محققین کے علاوہ یورپ کے تخلیقی فلم سازوں نے بھی لگن کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
لیکن نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں اس تنظیم پر علمی اور صحافتی انداز میں توجہ دینےوالوں کی تعداد ہاتھ کی انگلیوں سے بڑھ کر نہیں۔ ان کی جانب سے کیا جانے والا کام بھی چند انگریزی اخبارات کے صفحات پر کبھی کبھار نظر آتا ہے۔ شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک ’’حالاتِ حاضرہ‘‘ کے بارے میں ہمیں ’’باخبر‘‘ رکھنے کے دعوے دار شاید ہی اس تنظیم کو زیر بحث لاتے ہیں۔
اس تنظیم کا پاکستان میں اثر اگرچہ اتنا تگڑا ہے کہ دوسری بار امریکہ کا صدارتی انتخاب جیتنے کے فوری بعد ٹرمپ نے اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے ہماری ریاست کو مطلع کیا کہ اگست 2021ء میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے دوران کابل ایئرپورٹ کے گیٹ پر خودکش دھماکے کا ماسٹر مائنڈ ہمارے بلوچستان میں افغان سرحد کے قریب ایک مقام پر چھپا ہواہے۔
نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ اس دھماکے کا ذمہ دار شخص شرف اللہ افغانستان سے شام گیا اور وہاں سے ماسکو پہنچ کر ایک میوزک ہال میں ہولناک دہشت گردی کا ارتکاب یقینی بنایا۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی دی گئی ٹپ پر پاکستانی متحرک ہوئے تو اس دہشت گرد گرفتار کرلیا گیا۔ اسکی امریکہ حوالگی نے ٹرمپ کو خوش کر دیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں ٹرمپ نے کابل ایئرپورٹ خودکش حملے کے ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کرنے پر پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ٹرمپ سے پاکستان کی تعریف کی توقع نہیں تھی اور عمومی خیال یہ تھا کہ اپنے پہلے دور اقتدار کی طرح وہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ دوستی کو مضبوط تر بنانا چاہے گا۔ یہی نہیں بلکہ عاشقان عمران یہ امید باندھے ہوئے تھے کہ اقتدار سنبھالتے ہی ٹرمپ خان کی رہائی کے لئے پاکستان پر دبائو بڑھائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہو پایا۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ مئی میں پاکستان پر بھارتی حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کروائی۔ ریاست پاکستان نے اس ضمن میں ان کے کردار کو کھلے دل سے سراہا اور ان کے لیے نوبیل امن انعام کی سفارش کی۔ لیکن مودی سرکار ڈھٹائی سے اصرار کئے چلے جارہی ہے کہ امریکہ نے پاک بھارت جنگ رکوانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب داعش اس جنگ کے بعد پاکستان میں اور بھی زیادہ متحرک ہو چکی ہے۔ داعش کی اس خطے میں اٹھان افغان طالبان کے زیر تسلط افغانستان میں سب سے ذیادہ ہے جس پر قابو پانے کے بجائے طالبان نے حکومت بچانے کے لئے اسئلے نہایت مکاری سے پاکستانی سرحد کے قریبی علاقوں میں متحرک ہونے دیاہے۔
نصرت کہتے ہیں کہ افغان طالبان خیبر پختونخواہ میں اپنے ’’برے دنوں‘‘ کے میزبان پاکستانی طالبان کی مچائی دہشت گردی کو نظرانداز کرتے چلیں آ رہے ہیں۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ انہہں نے بالآخر بلوچستان بھی داعش کے حوالے کر دیا ہے۔ عطا اللہ مینگل کی جلسہ گاہ کے باہر داعش نے جو خودکش دھماکہ کیا اس کا واضح مقصد اختر مینگل اور محمود اچکزئی کی جانیں لینا تھا۔ خدانخواستہ داعش انہیں قتل کرنے میں کامیاب ہوجاتی تو بلوچستان میں ویسے ہی فسادات پھوٹ پڑتے جیسے بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سندھ میں پھوٹے تھے۔ اس کے علاوہ داعش خراسان پاکستانی سکیورٹی ایجنسیز کے ہاتھوں اپنے ایک اہم ترین کمانڈر کی گرفتاری اور امریکہ حوالگی کا بدلہ بھی لینا چاہتی تھی۔ لہٰذا ہمیں داعش پر کڑی نگاہ رکھنا ہو گی۔
