نائن الیون کے 25 برس بعد بھی کراچی جہادیوں کے چنگل میں؟

امریکہ میں نائن الیون حملوں کے بعد القاعدہ اور طالبان سے وابستہ دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا مرکز بن جانے والے شہر قائد کراچی کو جہادی دہشت گردی کے گرداب سے نکلنے میں 25 برس لگ گئے لیکن ابھی تک یہ فتنہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
یاد ریے کہ نائن الیون حملوں کے بعد افغانستان میں قائم طالبان حکومت کے خاتمے اور القاعدہ کے خلاف امریکی کارروائیوں نے دہشت گردی کی جنگ کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا تھا۔ افغانستان سے فرار ہونے والے القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں نے جوابی امریکی حملوں کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں کے ساتھ کراچی کا رخ کر لیا، جہاں انہیں ایک بڑی آبادی، بڑے کاروباری مرکز، اہم ترین شاہراہوں، بندرگاہ اور بین الاقوامی ہوائی اڈے کی وجہ سے نقل و حرکت کرنے اور روپوش ہونے کے بہتر مواقع میسر آئے۔
کراچی میں اس نئے دہشت گرد نیٹ ورک کی پہلی بڑی جھلک 2002 میں سامنے آئی جب مولانا مسعود اظہر کے ساتھی احمد عمر سعید شیخ نے وال سٹریٹ جرنل سے وابستہ امریکی صحافی ڈینیئل پرل کو اغوا کرکے قتل کر دیا۔ اسی سال کراچی میں فرانسیسی انجینئرز لے جانے والی بس پر خودکش حملہ، امریکی قونصل خانے پر حملہ اور مسیحی اداروں کو نشانہ بنانے کے واقعات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خبردار کر دیا کہ کراچی میں دہشت گردی کا ایک نیا باب شروع ہوچکا ہے۔ ان حملوں کی تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ افغانستان سے آنے والے القاعدہ کے جنگجو کراچی میں پہلے سے موجود مقامی شدت پسند اور فرقہ وارانہ گروہوں کے ساتھ رابطے قائم کررہے تھے۔ یوں کراچی میں دہشت گردی کا وہ نیٹ ورک تشکیل پانے لگا جس میں القاعدہ، لشکر جھنگوی، جنداللہ اور دیگر تنظیموں کے عناصر ایک دوسرے سے تعاون کرتے رہے۔
کراچی شہر میں موجود ہزاروں کی تعداد میں مذہبی مدارس، مقامی رابطوں اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس نے بھی مختلف شدت پسند گروہوں کی سہولت کاری کی۔ چنانچہ جب ان دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑنے کے لیے پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے جوابی کاروائیاں شروع کیں تو کراچی عالمی سطح پر القاعدہ کے خلاف کارروائیوں کا اہم میدان بھی بن گیا۔ پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے امریکی انٹیلی جنس اداروں کے تعاون سے شہر اور ملک کے مختلف حصوں میں القاعدہ کے اہم ارکان کو گرفتار کیا۔
تاہم ایک طرف القاعدہ کے اہم کمانڈرز گرفتار یا ہلاک ہورہے تھے تو دوسری طرف ان کے مقامی روابط اور زیر زمین نیٹ ورکس کراچی میں شدت پسندی کی نئی شکلوں کو جنم دے رہے تھے۔
کراچی میں فرقہ وارانہ دہشت گردی نے بھی اسی عرصے میں شدت اختیار کی۔ لشکر جھنگوی اور دیگر فرقہ وارانہ جہادی تنظیموں کی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ نشتر پارک کا ہولناک بم دھماکا اور عاشورہ جلوس پر حملہ ایسے واقعات تھے جنہوں نے شہر کے امن کو شدید متاثر کیا۔ تاہم آنے والے برسوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے ساتھ طالبان کی شہری سطح پر موجودگی کراچی کے لیے سب سے بڑا نیا خطرہ بن کر ابھری۔ سال 2009 کے بعد قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں تحریک طالبان سے وابستہ جنگجو کراچی پہنچنے لگے۔ پشتون آبادی والے علاقوں اور شہر کے مضافاتی حصوں میں طالبان کے مختلف دھڑوں نے اپنے ٹھکانے قائم کیے اور بھتہ خوری، اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم کے ذریعے مالی وسائل حاصل کرنا شروع کیے۔ اسکے بعد پولیس اہلکار، سیاسی کارکن، اساتذہ اور پولیو ٹیمیں بھی ان حملوں کا نشانہ بنیں۔
طالبان کے مقامی گروہوں نے کراچی میں پہلے سے موجود شدت پسند عناصر کے ساتھ اتحاد قائم کیے۔ مقامی جنگجو شہر کے راستوں، آبادیوں اور لوگوں سے واقف تھے جبکہ قبائلی علاقوں سے آنے والے شدت پسند اپنے ساتھ جنگی تجربہ، اسلحہ اور خودکش حملہ آور لائے۔ اس تعاون نے دہشت گردوں کو کراچی میں حساس فوجی اور سیکیورٹی تنصیبات تک پہنچنے کی صلاحیت دی، جس کا اظہار پی این ایس مہران اور بعد ازاں کراچی ایئرپورٹ پر ہونے والے بڑے حملوں میں ہوا۔ لیکن جون 2014 میں کراچی ایئرپورٹ پر حملہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس کے بعد قبائلی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب اور کراچی میں ستمبر 2013 سے جاری سیکیورٹی آپریشن مزید مؤثر ہوئے۔ رینجرز، پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں نے طالبان اور القاعدہ سے وابستہ گروہوں کے ٹھکانوں، سہولت کاروں اور مالی نیٹ ورکس کو توڑ دیا اور شہر میں مسلح گروہوں کی کھلی سرگرمیاں بڑی حد تک ختم ہوگئیں۔
تاہم دہشت گردی نے اپنا انداز تبدیل کرلیا۔ بڑے گروہوں اور کھلے ٹھکانوں کی جگہ چھوٹے اور خفیہ سیل سامنے آنے لگے۔ 2015 کا صفورا گوٹھ سانحہ اس تبدیلی کی نمایاں مثال تھا جب ایک بس پر حملے میں اسماعیلی برادری کے 45 افراد قتل کردیے گئے۔ اس کارروائی میں ایسے تعلیم یافتہ شہری بھی ملوث پائے گئے جو بظاہر عام معاشرے کا حصہ تھے۔ اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اندازہ ہوا کہ شدت پسندی اب صرف قبائلی علاقوں سے آنے والے جنگجوؤں تک محدود نہیں رہی بلکہ کراچی کے اندر بھی نئے ذہنی اور سماجی راستوں سے پھیل سکتی ہے۔
آج نائن الیوں حملوں کے 25 برس بعد کراچی ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ پرامن ہے اور شہر میں وہ مسلسل ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور بڑے دہشت گرد حملے نظر نہیں آتے جو ایک زمانے میں معمول بن گئے تھے۔ تاہم خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ 2023 میں کراچی پولیس آفس پر تحریک طالبان کے حملے اور اس کے بعد سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں نے ثابت کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں اب بھی مقامی سہولت کاروں اور چھوٹے خفیہ سیلز کے ذریعے شہر تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف 25 سالہ جنگ نے کراچی کے لیے ایک اہم سبق چھوڑا ہے کہ تنظیموں کے نام اور قیادتیں ختم ہونے کے باوجود ان کے نظریاتی اثرات، مقامی روابط اور سہولت کاری کے نیٹ ورک مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔ موجودہ دور میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی سمیت شدت پسند گروہوں کا خطرہ زیادہ تر غیر مرکزی اور خفیہ نیٹ ورکس کی صورت میں موجود ہے۔ اسی لیے کراچی میں حاصل کیے گئے امن کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر انٹیلی جنس، مقامی سطح پر نگرانی اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف مسلسل کارروائی ناگزیر ہے۔
