حکومت مہنگا تیل بیچ کر عوام کا خون کیسے چوس رہی ہے؟

ایران پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے دنیا بھر میں خام تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا یے، تاہم پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے غیر معمولی اضافے کا تمام بوجھ صرف جنگ پر ڈالنا غلط ہے، کڑوا سچ تو یہ ہے کہ تاریخ کے مہنگے ترین تیل کی بڑی وجہ حکومت کے عائد بھاری ٹیکسز، ڈیوٹیز اور لیویز ہیں جن سے ہر برس 1500 ارب روپے سے زائد کمائی کی جا رہی ہے۔
یاد ریے کہ جنگ سے پہلے پاکستان میں پیٹرول 258 روپے فی لیٹر تھا جو اپریل کے اوائل میں 458 روپے 40 پیسے تک پہنچ گیا، جبکہ ڈیزل 275 روپے 70 پیسے سے بڑھ کر 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ دراصل حکومت کے لیے پیٹرولیم لیوی محض قیمتوں کا ایک جزو نہیں بلکہ آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ وزارتِ خزانہ کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران حکومت نے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی مد میں عوام سے 1566 ارب روپے وصول کیے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی سے 1576 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی لیے حکومت مہنگے تیل کی صورت میں عوام کا خون چوسنے پر لگی ہوئی ہے۔
رواں سال فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے قبل عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں نسبتاً کم تھیں اور پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کے نرخ موجودہ سطح کے مقابلے میں خاصے کم تھے۔ جنگ طول پکڑتی گئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور اس کے اثرات پاکستان تک پہنچے، جہاں درآمدی تیل پر انحصار کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔
اپریل میں پیٹرول 458 روپے 40 پیسے جبکہ ڈیزل 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا، جو اب تک ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلند ترین قیمتیں رہیں۔ تاہم قیمتوں میں اس اضافے کی وجہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو قرار دینا غلط ہے۔ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی حتمی قیمت میں حکومت کی جانب سے وصول کیے جانے والے ٹیکسز، ڈیوٹیز اور لیویز کا نمایاں حصہ ہے۔ چنانچہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت کی آمدن برقرار رکھنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری مالی بوجھ عائد رہنے سے عام صارف کو دوہرا دباؤ برداشت کرنا پڑا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی اور یمن میں لڑائی میں شدت آنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں اس اضافے کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئی ہیں اور حکومت نے رواں ماہ مسلسل سات مرتبہ پیٹرول اور ڈیزل کے نرخ بڑھائے۔ اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق 12 ستمبر سے پیٹرول کی قیمت میں مزید 5 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 375 روپے 82 پیسے جبکہ ڈیزل 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
موجودہ صورت حال میں عالمی سطح پر تیل کی رسد کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد یمن میں حوثیوں کی جانب سے خلیج عدن کو بحیرۂ احمر سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کی پیش رفت نے بھی عالمی منڈیوں میں خام تیل کی ترسیل کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔ اگر اہم سمندری راستوں سے تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو عالمی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔
خام تیل درآمد کرنے والے پاکستان جیسے ممالک عالمی منڈی میں قیمتوں اور رسد میں پیدا ہونے والی کسی بھی بڑی تبدیلی سے فوری متاثر ہوتے ہیں۔ جنگ اور کشیدگی کے باعث عالمی قیمتیں بڑھنے سے درآمدی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا اثر مقامی پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں پر پڑتا ہے۔
تاہم عوامی حلقوں کا سوال یہ ہے کہ جب عالمی حالات غیر معمولی ہوں اور تیل پہلے ہی انتہائی مہنگا ہو چکا ہو تو حکومت اپنے ٹیکسز اور لیویز میں کمی کرکے عوام کو ریلیف کیوں نہیں دے رہی۔ اسی لیے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی یعنی پی ڈی ایل اس بحث کا مرکزی نکتہ بن چکی ہے۔ حکومت فی لیٹر پیٹرول پر عوام سے 80 روپے پی ڈی ایل، 5 روپے کلائیمیٹ لیوی اور 21 روپے 15 پیسے کسٹم ڈیوٹی وصول کر رہی ہے، جبکہ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن کی مد میں 17 روپے 85 پیسے فی لیٹر شامل ہیں۔ اس طرح مختلف ٹیکسز، ڈیوٹیز اور دیگر چارجز کی صورت میں پیٹرول کی قیمت میں حکومت اور متعلقہ شعبوں کا نمایاں مالی حصہ شامل ہو جاتا ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول پر حکومت مختلف ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں تقریباً 106 روپے وصول کر رہی ہے، جبکہ مختلف مارجنز کو شامل کر لیا جائے تو صارف کو فی لیٹر 130 روپے سے زائد اضافی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عوام، تاجر اور ٹرانسپورٹرز یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ عالمی منڈی کے دباؤ کو مکمل طور پر عوام تک منتقل کرنے کے بجائے حکومت اپنی وصولیوں میں عارضی کمی کیوں نہیں کرتی۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود کمزور اور متاثرہ طبقات کو وفاقی حکومت نے 130 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی ہے۔ وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق پاکستان اس وقت عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام میں ہے، اس لیے حکومت کو اپنی محدود مالی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی عوام کو ریلیف دینا پڑ رہا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مکمل بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا گیا۔ جنگ کے طول پکڑنے اور عالمی مارکیٹ میں مسلسل غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے جولائی کے وسط میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اعلان کا طریقہ کار بھی تبدیل کر دیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ اب قیمتوں کا اعلان ہفتہ وار کے بجائے یومیہ بنیادوں پر کیا جائے گا تاکہ عالمی منڈی میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں کو مقامی قیمتوں میں نسبتاً فوری طور پر شامل کیا جا سکے۔
اس فیصلے کے بعد روزانہ تیل کی قیمتوں میں ردوبدل ہو رہا ہے اور صارفین کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔ حکومتی ظلم کی حد یہ ہے کہ رواں ماہ اب تک پیٹرول کی قیمت میں سات مرتبہ اضافہ ہو چکا ہے جبکہ پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی فی لیٹر قیمتوں میں مجموعی طور پر 30 روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ اس مسلسل اضافے نے نہ صرف موٹر سائیکل اور گاڑی استعمال کرنے والے عام شہریوں بلکہ تاجروں، ٹرانسپورٹرز، صنعتوں اور دیگر کاروباری شعبوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل مہنگی ہونے اور اس کے اثرات عام صارف تک منتقل ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں۔
