عارف علوی بھی عمران خان کی طرح محسن کش نکلے

پی ٹی آئی ہو، عمران خان ہوں یا عارف علوی سب نے اپنے محسنوں کو مایوس کیا۔محسن کشی کا موسم اب ایوان صدر میں بھی آ چکا ہے۔صدر عارف علوی کو اچھی طرح علم ہے کہ آج جس مسند پر وہ بیٹھے ہیں یہ منصب انہیں عمران خان کی وجہ سے نہیں ملا لیکن اب اس عہدے کی معینہ مدت ختم ہونے کے بعد ان کے اندر پارٹی ورکر والی سرشت بیدار ہوئی ہے۔ آئینی طور پر اختیارات سلب ہونے کے بعد اچانک انتخابات کی تاریخ کا غلغلہ ایسے مچا دیا کہ جیسے آئین کے واحد محافظ وہی بچے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار عمار مسعود نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے. وہ لکھتے ہیں کہ عمران خان کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنی تمام تر ناکامیوں اور نامرادیوں کا طوق اپنے محسنوں کے گلے میں ڈال دیا۔ شجر کی جس شاخ پر بیٹھے اسی کو خنجر کی نوک پر رکھ لیا۔ نتیجہ اس کوشش کا وہی نکلا جو اس طرح کی مہم جوئی کا ہوتا ہے۔ نہ شاخ رہی نہ خنجر بچا اور نہ ہی خنجر چلانے والا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ایسے محسن کش لوگوں کے لیے مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔ اب نہ کوئی جنرل باجوہ کو الزام دے رہا ہے، نہ جنرل فیض کے کوئی لتے لے رہا ہے، صرف عمران خان ہی کا نام عدالتوں کی تاریک گزر گاہوں میں گونج رہا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ عمران خان نے جن کے نمبر بلاک کیے تھے اب اگر وہاں کال بھی کریں تو پیغام یہی ملتا ہے کہ ’اب آپ کو مطلوبہ سہولت میسرنہیں، اب آپ کے لاڈلے پن کا دور بیت گیا، اب آپ کے پیروں تلے سے سرخ قالین کھینچ لیا گیا ہے‘۔ اب آپ ہیں، ضمانتوں کی درخواستیں ہیں، نیب کے افسران ہیں، جیل کی بی کلاس کے مطالبے ہیں اور قید وبند کی صعوبتوں کی داستان ہے۔

عمار مسعود کے مطابق ایک لمحے کو سوچیں اگر عمران خان جنرل باجوہ کو برے برے ناموں سے نہ پکارتے ، ان پر امریکی غلامی کے الزامات نہ لگاتے اور جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی رکھنے کی ضد نہ کرتے تو آج بھی خان صاحب اقتدار کے ہنڈولے میں جھول رہے ہوتے اور متحدہ اپوزیشن عمران خان کی منشا کے مطابق جیل میں سڑ رہی ہوتی۔ صدر عارف علوی کا معاملہ بھی مختلف نہیں۔ ساری بساط کسی اور نے سجا کر دی۔ شاہ کی نشست پر کسی اور نے بٹھایا، ایوان صدر میں کسی اور کمپنی کے تعاون سے براجمان ہوئے۔ اور اب مدت ختم ہونے کے بعد، آئینی طور پر اختیارات سلب ہونے کے بعد اچانک انتخابات کی تاریخ کا غلغلہ ایسے مچا دیا کہ جیسے آئین کے واحد محافظ وہی بچے ہیں۔ ووٹ کی عزت کے واحد علمبردار وہی زندہ ہیں۔ اس اچانک ہڑبونگ میں صدر مملکت بھول گئے کہ وہ کیسے اس منصب جلیلہ پر فائز ہوئے تھے۔ وہ بھول گئے کہ کس طرح انہوں نے کراچی میں ٹخنوں ٹخنوں تک بہتے پانی میں احتجاجاً کشتی نکال لی تھی، کس طرح عمران خان کو پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر چڑھائی کی نوید سنائی تھی، کس طرح صدر کے عہدے کو استعمال کر کے سندھ کے گورنر ہاؤس میں اپنے بیٹے کے کاروبار کی ترویج کی تھی۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ جمہوریت کے حالیہ چیمپئن عارف علوی کی یادداشت ان سارے معاملات میں دھندلا سی جاتی ہے، پھر الیکشن کا لفظ ذہن میں آتے ہی ایک فلمی جھٹکے سے ان کی یادداشت واپس آ جاتی ہے۔ صدر عارف علوی کو اچھی طرح علم ہے کہ آج جس مسند پر وہ بیٹھے ہیں یہ منصب انہیں عمران خان کی وجہ سے نہیں ملا لیکن چونکہ اب اس عہدے کی معینہ مدت ختم ہو چکی ہے اور آئینی انتظام کی وجہ سے وہ صدارتی محل میں براجمان ہیں تو ان کے اندر پارٹی ورکر والی سرشت بیدار ہوئی ہے۔ اب پھر جلاؤ گھراؤ کی یاد انہیں ستا رہی ہے۔ اب پھر دھرنوں اور احتجاجوں کی طرف ان کا دل مائل ہو رہا ہے کیونکہ اب محسن کشی کا موسم ایوان صدر میں بھی آ چکا ہے۔ پی ٹی آئی ہو، عمران خان ہوں یا عارف علوی سب نے اپنے محسنوں کو مایوس کیا۔ المیہ یہ ہے کہ ایسے محسن کش ہر زمانے میں رہے ہیں اور گماں یہی ہوتا ہے اگلے زمانوں میں محسنوں کو ایسے ہی محسن کشوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ ریت روایت ٹوٹتی نطر نہیں آ رہی۔ یہ رسم، یہ رواج بدلتا دکھائی نہیں دے رہا۔

Back to top button