عارف علوی کی غداری نے عمران خان کو سیاسی موت کیسے مارا؟

سینئر صحافی مزمل سہروری نے کہا ھے صدر عارف علوی بظاہر تو عمران خان کے اپنے ہیں لیکن وہ ہی اپنے لیڈر کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے رہتے ہیں۔ دیگرسابق پی ٹی آئی رہنماؤں سے عمران خان کو کیا گِلہ ہو گا، انہوں نے تو پارٹی ہی چھوڑ دی۔ اصل غدار تو عارف علوی ہیں جو ان کی پارٹی کے ٹکٹ پر صدر بنے اور اسٹیبلشمنٹ سے پس پردہ ہاتھ ملا کر چئیر مین پی ٹی آئی کو دھوکا بھی دیتے رہے۔ عارف علوی تو چاہتے ہیں کہ سیاسی طور پر عمران خان کو دفنا کر ہی ایوان صدر سے رخصت ہوں۔ نیا دور ٹی وی پر ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار مزمل سہروردی نے کہا کہ یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے نمبر ون غدار اور ان کی ’ سیاسی موت‘ کے ذمہ دار صدرعارف علوی ہیں۔خواہ وہ جتنا مرضی کہیں کہ عمران خان ان کے لیڈر ہیں لیکن وہ پہلے ہی اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملاچکے ہیں۔ عمران خان کی ’ سیاسی موت‘ کے ذمہ دار صدر علوی ہیں۔ صحافیوں کے ساتھ انٹرویوز میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خان ان کے لیڈر ہیں لیکن دوسری طرف وہ اسٹیبلشمنٹ پر زور دیتے ہیں کہ وہ عمران خان خان پر سخت گرفت رکھیں۔ صدر نے اختیار ہونے کے باوجود عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا کیونکہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملایا تھا۔ جب ‘بڑوں’نے فیصلہ کر لیا تھا کہ الیکشن فروری میں ہوں گے تو عارف علوی ان کے ساتھ تھے۔ عارف علوی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہیں عمران خان کے ساتھ نہیں ہیں ۔
مزمل سہروری نے کہا کہ عارف علوی کی حرکتوں کی وجہ سے عمران خان کو 9 مئی کے کیس میں آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کا سامنا ہے کیوں کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے 90 دن کے اندر الیکشن نہیں کرائے گئے۔ عارف علوی نے چیئرمین پی ٹی آئی کے ہر ایک سیاسی ایجنڈے کو قتل کیا کیونکہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ فکسڈ میچ کھیلا جس کی وجہ سے عمران خان کی ‘ سیاسی موت’ ہوئی۔
مزمل سہروردی نے کہا کہ اس سے بہتر تو یہ تھا کہ عمران خان عارف علوی سے استعفیٰ دلوا لیتے ۔ عارف علوی نے الیکشن کی تاریخ میں التوا ہونے دیا، سائفر کیس آگے بڑھنے دیا تاکہ عمران خان کو سزا ہو سکے۔ صدر علوی ایک مرکزی کردار ہیں جنہوں نے پاکستان کی سیاست سے خان کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عمران خان کو چاہیے کہ اب لندن پلان کا ذکر نہ کریں اور نہ ہی کسی کا نام لیں کہ مجھَے نواز شریف نے، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، جنرل فیصل نصیر نے نکالا ہے کیونکہ ان کی سیاسی موت کا ذمہ دار عارف علوی ہے۔ انہوں نے دوسروں کے ساتھ ہاتھ ملا لیا اور اپنی جان بچا لی اور آپ کی جان کا سودا کر دیا۔
مزمل سہروری نے تجویز دی کہ پی ٹی آئی کو صدر علوی کے خلاف یوم سیاہ منانا چاہیے اور یہ قرار دینا چاہیے کہ وہ ہمارے صدر ہیں ہیں اور ان کے ساتھ کوئی رابطہ بھی نہیں ہے۔ اصل دشمن کو پہچانو۔
سلو پوائزننگ کے بیان پر عمران خان کے یو ٹرن سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے مزمل سہروردی نے کہا کہ عمران خان ایک میڈیا سے بہت اچھے طریقے سے کھیلنا جانتے ہیں انہوں نے اس بیان کے ذریعے ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ عمران خان کو جیل میں نیٹ فلکس، پرتعیش کھانے کی اشیاء اور ورزش کا سامان فراہم کیا گیا ہے۔ جیل میں 8 کمرے چیئرمین پی ٹی آئی کے زیر استعمال ہیں جبکہ ان کے علاج کیلئے 9 ڈاکٹر ڈیوٹی پر ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ جن لوگوں نے انہیں اس طرح کی سہولیات فراہم کیں انہوں نے انہیں خبردار کیا کہ اگر ‘ سلو پوائزننگ ‘ والا ڈرامہ کر کے عوام کو گمراہ کرنا ہے اور ایسی افواہیں پھیلائیں گے تو یہ مراعات واپس لے لی جائیں گی۔ جس کے بعد عمران خان کے غبارے میں سے ھوا نکل گئی اور جس وکیل کے ذریعے سلو پوائزنگ والی افواہ پھیلائی گئی اسے سے ہی چند گھنٹوں میں تردید اور معذرت بھی کروا دی گئی۔
