اداکار فیصل قریشی ڈیٹنگ کلچر کے خلاف کیوں ہیں؟

معروف اداکار فیصل قریشی نے انکشاف کیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں عجیب روایات جنم لے رہی ہیں، لوگ حلال طریقے سے شادی کو بُرا اور ایک سے زائد خواتین کے ساتھ تعلقات کو اچھا سمجھ رہے ہیں، اداکار فیصل قریشی نے پہلی شادی 18 سال کی عمر میں کی تھی جس سے ان کی ایک بیٹی بھی ہیں، بعد ازاں طلاق ہو گئی تھی، دوسری شادی ثنا فیصل سے 2010 میں کی جس سے ان کے دو بچے ، ایک بیٹی آیت اور بیٹا فرمان قریشی ہیں۔اداکار نے حال ہی میں ایف ایچ ایم پوڈ کاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے بھارت میں پاکستانی اداکاروں کے ساتھ ہونے والے سلوک اور شادی کے علاوہ معاشرے میں ڈیٹنگ کلچر کے حوالے سے کھل کر گفتگو کی، پوڈ کاسٹ کے شروع میں بھارتی عدالت کی جانب سے پاکستانی اداکاروں پر پابندی کے خلاف فیصلے سے متعلق فیصل قریشی نے کہا کہ پہلے زمانے میں پاکستانی اداکار بھارت اور بھارتی اداکار پاکستان میں کام کرنے آتے تھے، دونوں ممالک کے درمیان بہت پیار تھا، ایسا صرف یہاں نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہوتا ہے۔فیصل قریشی نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ کیا وجہ بنی کہ بھارت میں پاکستان اداکاروں اور گلوکاروں کے ساتھ بُرا سلوک کیوں کیا جاتا ہے، جب اپنا گھر ہوتا ہے تو یہ ڈر نہیں ہوتا کہ آپ کو کوئی دھکے دے کر باہر نکال دے گا، فواد خان، سجل علی، عاطف اسلم، ہمایوں سعید، صبا قمر اور دیگر اداکاروں کی بھارت میں کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاکستانی اداکاروں نے بالی وڈ میں جاکر بھارتی اداکاروں کو بہت ٹف ٹائم دیا تھا۔18 سال کی عمر میں شادی ہونے کے بعد طلاق سے حوالے سے بات کرتے ہوئے فیصل قریشی نے کہا کہ آج کل معاشرے میں ایک مرد کے چار لڑکیوں کے ساتھ افیئر ہونے کو اچھا سمجھا جاتا ہے، لیکن شادی کرکے طلاق ہو جانا بُری بات سمجھی جاتی ہے۔فیصل قریشی نے ماہرہ خان کی شادی پر تنقید کرنے والوں پر افسوس کا اظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’لوگوں کو ماہرہ خان کی شادی کو بھی نہیں چھوڑا، وہ اپنی نئی زندگی شروع کر رہی ہے اور لوگ انہیں دوسری شادی کرنے پر طعنے دے رہے ہیں، یہ جہالت ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل فیصل قریشی نے کہا تھا کہ انہوں نے آج تک بھارت میں کام نہیں کیا، کیوںکہ ان کی وہاں کے فلم سازوں سے نہیں بنتی، وہ ہر بات کھلے عام کہنے کی عادی ہیں، جس وجہ سے ان کے بھارتی مداح بھی ان سے ناراض رہتے ہیں، بھارت کی نیٹ فلیکس سیریز ہوں یا فلمیں وہ اس وقت ہی کامیاب ہوتی ہیں جب ان میں پاکستان مخالف مواد شامل کیا جاتا ہے۔

Back to top button