اسرائیلی فوج کے فلوٹیلا پرحملےکےباوجود4کشتیاں رواں،دنیابھرمیں مظاہرے

غزہ امداد فلوٹیلا پر اسرائیلی فورسزکےحملےکےباوجود4کشتیاں غزہ کی جانب رواں دواں ہیں۔اسرائیلی حملےکیخلاف دنیابھر میں مظاہرے کئےگئے۔

غزہ کی جانب امدادی سامان لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی بحری افواج نے 2 اکتوبر کو عالمی یومِ عدم تشدد کے موقع پر حملہ کر کے سیکڑوں انسانی حقوق کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ہونے والوں میں سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے فلوٹیلا کی 44 میں سے 40 کشتیاں روک لیں، جبکہ صرف 4 کشتیاں تاحال بحیرہ روم میں غزہ کی جانب رواں دواں ہیں۔ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے تھے، جنہیں دیگر کارکنوں کے ساتھ حراست میں لیا گیا۔ فلوٹیلا میں 37 ممالک کے کارکن شامل تھے، جن میں اسپین، اٹلی، ترکی، ملائیشیا اور جنوبی افریقہ کے وفود نمایاں تھے۔

فلوٹیلا انتظامیہ کے مطابق 200 سے زائد کارکن گرفتار ہوئے ہیں۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ تمام حراست میں لیے گئے افراد "محفوظ اور صحت مند ہیں” اور انہیں یورپ واپس بھیجنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس دوران، فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے دنیا بھر میں احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ اٹلی، اسپین، یونان، ترکی، برازیل، کولمبیا اور پاکستان میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں بھی نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

جنوبی افریقہ کے رہنما منڈلا منڈیلا، جو فلوٹیلا میں شریک ہیں، نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں تاکہ کارکنوں کو غزہ تک محفوظ راستہ دیا جا سکے۔

رکاوٹوں اور گرفتاریوں کے باوجود فلوٹیلا کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشن جاری ہے اور چار کشتیاں اب بھی قابض افواج کی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے غزہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

Back to top button