ایران کے خلاف جنگ میں 42 امریکی جنگی طیارے تباہ

ایران کے خلاف رواں سال 28 فروری سے شروع ہونے والے 40 روزہ ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران امریکہ کو فضائی محاذ پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا، کیونکہ اس جنگ کے دوران 42 امریکی جنگی طیارے اور ڈرون مکمل اور جزوی طور پر تباہ ہو گئے جس سے اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا۔ یہ انکشاف امریکی کانگریس کے تحقیقی ادارے کانگریشنل ریسرچ سروس کی ایک تفصیلی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

کانگریشنل ریسرچ سروس امریکی کانگریس کے اراکین کے لیے غیر جانبدار تحقیقی اور پالیسی معاونت فراہم کرتی ہے، کانگریشنل ریسرچ سروس کی جانب سے 13 مئی کو جاری کی گئی اس رپورٹ کو امریکی میڈیا نے بڑے پیمانے پر شائع کیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ ایران جنگ کے دوران امریکی فضائی نقصانات کی اب تک کی سب سے تفصیلی عوامی رپورٹ سمجھی جا رہی ہے، جبکہ پینٹاگون کی جانب سے ابھی تک کوئی مکمل سرکاری جائزہ جاری نہیں کیا گیا۔

امریکی دفاعی جریدے ’’ملٹری ٹائمز‘‘ نے بھی اس رپورٹ کو نمایاں انداز میں شائع کیا ہے اور ان ایرانی دعووں کی تصدیق کی ہے کہ جنگ کے دوران امریکی فضائیہ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ رپورٹ تیار کرنے والے محققین نے کہا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع یا ’’ڈیپارٹمنٹ آف وار‘‘ نے اس جنگی مہم میں ہونے والے نقصانات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے پیش نہیں کیں۔ 12 مئی کو امریکی کانگریس میں ہونے والی ایک سماعت کے دوران منتخب اراکین کو بتایا گیق کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی مجموعی لاگت 29 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔ ان اخراجات میں بڑا اضافہ مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہونے والے فوجی سازوسامان کی مرمت اور متبادل خریداری کے باعث ہوا۔ رپورٹ کے مطابق تباہ ہونے والے فضائی اثاثوں میں لڑاکا طیارے، ایندھن فراہم کرنے والے جہاز، ہیلی کاپٹر، نگرانی کرنے والے طیارے اور ڈرون شامل ہیں۔

سب سے سنگین واقعات میں چار جدید F-15E سٹرائیک ایگل جنگی طیاروں کا نقصان شامل ہے۔ سینٹکام کے مطابق 2 مارچ کو کویت کی فضائی حدود میں تین F-15E طیارے غلطی سے اپنے ہی اتحادی دفاعی نظام کی فائرنگ کا نشانہ بن گئے۔ تمام چھ پائلٹ اور عملہ بروقت طیاروں سے نکلنے میں کامیاب رہا۔ چوتھا F-15E طیارہ 5 اپریل کو ایران کے اندر جنگی کارروائی کے دوران مار گرایا گیا، تاہم بعد ازاں دونوں پائلٹوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مارچ میں ایران کے اندر کارروائیوں کے دوران ایک جدید F-35A سٹیلتھ فائٹر جیٹ ایرانی زمینی فائرنگ سے متاثر ہوا۔ اسی طرح 3 اپریل کو ایک A-10 تھنڈر بولٹ حملہ آور طیارہ دشمن کی فائرنگ سے تباہ ہوگیا، تاہم امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے مطابق پائلٹ حادثے سے قبل بحفاظت ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی معاون فضائی بیڑے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ 12 مارچ کو دو KC-135 فضائی ایندھن بردار طیارے دوستانہ فضائی حدود میں ایک حادثے کا شکار ہوئے۔ ان میں سے ایک عراق میں گر کر تباہ ہوگیا جس میں سوار تمام چھ اہلکار ہلاک ہوگئے، جبکہ دوسرا جہاز ہنگامی لینڈنگ کرنے میں کامیاب رہا۔

مزید برآں سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملے کے دوران پانچ اضافی KC-135 ٹینکر طیارے بھی متاثر ہوئے۔ اسی حملے میں ایک E-3 سینٹری اواکد نگرانی طیارہ بھی تباہ ہوا۔ بعد ازاں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا کہ یہ طیارہ بغیر حفاظتی انتظامات کے ٹیکسی وے پر کھڑا تھا۔ اسکے علاوہ خصوصی آپریشنز فورسز کو بھی نقصانات اٹھانا پڑے۔ رپورٹ کے مطابق ایک تباہ شدہ F-15E کے عملے کو بچانے کے مشن میں شریک دو MC-130J کمانڈو طیاروں کو ایران کے اندر زمین پر ہی جان بوجھ کر تباہ کرنا پڑا کیونکہ وہ واپس پرواز کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔ تاہم دونوں طیاروں کے عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

اسی طرح ایک HH-60W جولی گرین ریسکیو ہیلی کاپٹر ایران کے اندر امدادی کارروائی کے دوران چھوٹے ہتھیاروں کی فائرنگ سے متاثر ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ نقصان بغیر پائلٹ کے چلنے والے فضائی نظام یعنی ڈرونز کو پہنچا۔ امریکی فوج نے اس 40 روزہ مہم کے دوران 24 MQ-9 ریپر ڈرون بھی گنوائے، جبکہ ایک MQ-4C نگران ڈرون بھی امریکی بحریہ کے مطابق ایک حادثے میں تباہ ہوگیا۔ کانگریشنل ریسرچ سروس نے خبردار کیا کہ یہ غیر معمولی نقصانات امریکی کانگریس کے لیے کئی اہم سوالات کھڑے کر سکتے ہیں، جن میں امریکی فوجی تیاری، تباہ شدہ طیاروں کے متبادل کی لاگت اور طویل جنگی صورتحال میں امریکی دفاعی صنعت کی فوری پیداواری صلاحیت شامل ہیں۔

کانگریشنل ریسرچ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ان نقصانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید دفاعی فضائی حدود میں امریکی طیاروں کے لیے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث پینٹاگون کو مستقبل میں اپنی جنگی حکمت عملی، تعیناتی کے طریقہ کار اور دفاعی خریداری کے منصوبوں پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔

Back to top button