68 برس بعد پاکستانی قومی ترانہ دوبارہ کیوں ریکارڈ کرنا پڑا؟

13 اگست 1954 کو جاری کیے گئے پاکستان کے قومی ترانے کو اب 68 برس بعد دوبارہ سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ریکارڈ کرتے ہوئے 155 گلوکاروں کی آوازوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ 75ویں یوم آزادی کے موقع پر دوبارہ ریکارڈ کیا گیا قومی ترانہ ریلیز کر دیا گیا ہے، یہ ترانہ 13 ماہ کے طویل عرصے میں ریکارڈ کیا گیا اور اسے 155 گلوکاروں نے گایا ہے، پاکستان کا قومی ترانہ پہلی مرتبہ 13 اگست 1954 کو ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا تھا، جس کے بول مشہور شاعر حفیظ جالندھری نے لکھے تھے جبکہ دُھن احمد غلام علی چھاگلہ نے تیار کی تھی۔
2022 میں دوبارہ ریکارڈ کیے گئے ترانے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں پاکستان میں موجود تمام کمیوینیٹیز اور تمام انداز کے گلوکاروں کو جگہ دی گئی، اس کے علاوہ لسانی، ثقافتی، مذہبی اور صنفی تنوع کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے، اسے ریکارڈ کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔
اس دھن کو دوبارہ ریکارڈ کرنے کیلئے جون 2021 میں ایک سٹیئرنگ کمیٹی بنائی گئی تھی جس کے چیئرمین سابق سینیٹر جاوید جبار تھے، اس کمیٹی کے اراکین میں معروف موسیقار روحیل حیات، ارشد محمود، استاد نفیس احمد، آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر پروڈکشن بریگیڈیئر عمران نقوی، فلم سیکٹر لیڈر ستیش آنند شامل تھے۔
قومی ترانے کی سٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین جاوید جبار نے بتایا کہ اس پراجیکٹ کے جس پہلو نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ تھا کہ اس میں شرکتی بنیادوں پر نہ صرف اس متنوع معاشرے کے تمام حصوں کی نمائندگی یقینی بنانی تھی، بلکہ موسیقی کے تمام اقسام کو مدِنظر رکھتے ہوئے بھی آوازوں کو شامل کرنا ضروری تھا۔ جاوید جبار بتاتے ہیں کہ جب 1954 میں ترانہ ریکارڈ کیا گیا تھا تو تب اسے 10 گلوکاروں نے گایا تھا تاہم پاکستان میں 68 برس میں ایک متنوع معاشرہ بن چکا ہے اور موسیقی کو ریکارڈ کرنے کے طریقہ کار میں بھی جدت آئی ہے۔
جاوید جبار کا کہنا ہے کہ پاکستان کی 75ویں سالگرہ پر نیا ریکارڈ شدہ ترانہ ایک تحفہ ہے، اس ترانے کو دوبارہ ریکارڈ کرنے کے مراحل کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریکارڈنگ سے قبل تمام 155 گلوکاروں کی ریہرسلز کروائی گئیں اور تیاری میں مدد فراہم کی گئی۔
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے معروف گلوگار عمیر جسوال بھی ان گلوکاروں میں شامل ہیں جنھوں نے مل کر نیا قومی ترانہ گایا ہے، عمیر کا کہنا تھا کہ ملک بھر سے اتنے قابل موسیقاروں اور گلوکاروں کے متنوع گروپ کے ساتھ کام کرنے اور ترانہ ریکارڈ کروانے کا تجربہ بہت ہی شاندار رہا۔ عمیر جسوال اسے حکومت کی جانب سے لیا گیا ایک بہت اہم قدم قرار دیتے ہیں۔۔ وہ کہتے ہیں کہ نئی نسل کے لیے اس ترانے کے ساتھ تعلق بنانے کے لیے بھی یہ بہت ضروری تھا ’میں نے جب بہت سے نوجوان گلوکاروں کو یہ نیا ترانہ گاتے سنا اور مجھے محسوس ہوا کہ جب وہ اسے گاتے ہیں تو انھیں بھی اس ملک سے ویسا ہی مضبوط تعلق محسوس ہوتا ہے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی بسمہ عبداللہ کے لیے ایک چھت کے نیچے 150 سے زائد گلوکاروں کے ساتھ مل کر قومی ترانہ گانے کا تجربہ بہت غیر متوقع تو تھا ہی، مگر وہ اسے زندگی کا ایک بڑا روحانی تجربہ بھی قرار دیتی ہیں۔ بسمہ کے مطابق پرانے اور نئے قومی ترانے کی روح وہی ہے، بسمہ خود کو بہت خوش قمست سمجھتی ہیں کہ 100 سال، 200 سال بعد تک۔ جب تک کوئی اور نیا ترانہ نہیں بنتا، نہ جانے کب تک نسل در نسل لوگ میری آواز سنیں گے۔
معروف گلوکار ساحر علی بگا نے کہا کہ ‘یہ انتہائی پرجوش لمحات تھے جن میں مایہ ناز گلوکار حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ گا رہے تھے۔ میرے لیے یہ انتہائی اعزاز کی بات تھی اور مجھے یقین ہے کہ اس سے ہماری نئی نسل کو پاکستان کی تاریخ سے خود کو جوڑنے میں مدد ملے گی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے 13 اگست 1954 کو ریڈیو پاکستان سے قومی ترانہ پہلی مرتبہ نشر ہوا، قومی ترانے کی دھن اور اس کے بول تیار کرنے کا مرحلہ نہایت طویل تھا، بہرحال دسمبر 1948 میں حکومت پاکستان نے ایس ایم اکرام کی نگرانی اور سردار عبدالرب نشتر کی صدارت میں ایک نو رکنی قومی ترانہ کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا۔
قومی ترانہ کمیٹی کو ملک کے گوشے گوشے سے مجموعی طور پر 200 سے زیادہ نظمیں اور 63 کے لگ بھگ دھنیں موصول ہوئیں، ترانہ کمیٹی کے سامنے ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ چند ماہ بعد شہنشاہ ایران پاکستان کا دورہ کرنے والے تھے، کمیٹی کا خیال تھا کہ اس موقع پر پاکستان کے ترانے کی دھن ضرور بجنی چاہئے چنانچہ اس نے 21 اگست 1949 کو احمد غلام علی چھاگلہ کی تیار کردہ دھن کو پاکستان کے قومی ترانے کی عارضی دھن کے طور پر منظور کرنے کا اعلان کر دیا۔
قومی ترانے کی اس دھن کو ریڈیو پاکستان میں بہرام سہراب رستم جی نے اپنے پیانو پر بجا کر ریکارڈ کروایا تھا، اس دھن کا دورانیہ 80 سیکنڈ تھا اور اسے بجانے میں 21 آلاتِ موسیقی اور 38 ساز استعمال ہوئے تھے۔ جب اس کمیٹی نے احمد غلام علی چھاگلہ کی دھن کو قومی ترانے کی دھن کے طور پر منظور کر لیا تو اس دھن سے مناسبت رکھنے والے الفاظ کی تلاش کا کام شروع ہوا۔ ملک کے تمام مقتدر شعرائے کرام کو اس ترانے کے گرامو فون ریکارڈز بھی بھجوائے گئے اور ہر رات ایک مخصوص وقت پر ریڈیو پاکستان سے اس ترانے کے نشر کرنے کا بھی اہتمام کیا گیا تاکہ وہ اس کی دھن سے ہم آہنگ ترانہ تحریر کر سکیں۔ پانچ اگست 1954 کو کابینہ کا ایک اور اجلاس منعقد ہوا جس میں حفیظ جالندھری کے لکھے گئے ترانے کو بغیر کسی رد و بدل کے منظور کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔
