روسی افواج کا ہوا بھرے راکٹ، میزائل اور جنگی ٹینکوں کا استعمال

محبت اور جنگ میں اگر سب جائز ہے تو جعلی ٹینکوں، توپوں، عسکری گاڑیوں اور میزائل بیٹریوں کا استعمال روسی فوج کا مرغوب مشغلہ ہے۔
ایک عرصے سے روسی افواج ہوا بھرے ٹینک اور دیگر بڑے ہتھیار استعمال کرکے دشمن کو دھوکا دیتی آرہی ہے اور آج کے دور میں بھی اسے دشمن کو جل دینے کے لیے ایک بہترین حربے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ تمام ہتھیار گرم ہوا بھر کر پھلائے جاتے ہیں اور دیکھنے میں پارک میں رکھے ربڑ کے گھروں اور جمپنگ کاسل کی طرح ہیں جن میں بچے کھیلتےہیں۔ بچوں کی تفریح کا سامان بنانے والی روسی کمپنیاں ہی جعلی ہیلی کاپٹر اور میزائل بنارہی ہیں۔ ایک ٹینک کا وزن ٹنوں میں ہوسکتا ہے لیکن ہوا بھرے ٹینک کا وزن صرف 90 کلوگرام ہے جو اصل جنگی مشین سے ہزاروں گنا سستا اور دور سے اتنا ہی حقیقی لگتا ہے۔ روسی افواج انہیں بہترین ہتھیار قرار دیتی ہے اور انہیں ایک سے دوسری جگہ بہت آسانی سے پہنچایا جاسکتا ہے۔ اسی وجہ سے ماسکو انہیں اپنے اسلحہ خانے کا اہم جزو قرار دیتا ہے۔ کئی لڑائیوں میں ان سے دشمن کو دھوکا دیا گیا اور اس کا وقت ضائع کیا گیا ہے۔
یہ روسی کمپنی اصل جسامت کے لڑاکا طیارے، راکٹ لانچر، میزائل، فوجی خیمے اور ریڈار اسٹیشن تک بناتی ہے۔ دور سے دیکھنے پر یہ بالکل اصلی دکھائی دیتےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کے کھیل اور گرم غبارے بنانے والی یہ کمپنی آج روسی افواج کو خدمات فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنی بن چکی ہے۔ مہارت کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی تھرمل ریڈار اور جدید کیمرے ان سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔ ٹی 80 ٹینک کی قیمت 16 ہزار ڈالر (25 لاکھ پاکستانی روپے) کے برابر ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں امریکا اور اتحادی بھی ایسے ہی جعلی ہتھیاروں سے دھوکا کھاچکے ہیں۔ کوسوو کی جنگ میں سرب افواج نے بھی ایسے ہی ہتھیاروں سے اپنی مخالف فوج کو بے وقوف بنایا تھا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button