بارشوں، سیلاب سے مزید9افراد جاں بحق ،تعداد 136 ہوگئی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حالیہ مون سون بارشوں سے مزید 9 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد 136 تک جا پہنچی ہے، ادھروزیر اعظم شہبا زشریف کا آج خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ ضلع ٹانک کا دورہ خراب موسم کے باعث ملتوی کردیا گیا۔
ادھر بھارت کی جانب سے دریائے راوی میں 2 لاکھ کیوسک پانی کا ریلہ چھوڑے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سیلاب اور بارشوں نے صوبہ بلوچستان کے کونے کونے میں تباہی کی داستانیں رقم کردیں۔ حد نظر صرف تباہی کی پکار ہے، سیلاب اور ملبے کے ڈھیرے ہی نظر آرہے ہیں۔ متاثرین کے پاس نہ اوڑھنے بچھونے کو ہے اور نہ ہی کھانے پینے کا سامان۔ حکومتی مدد کے منتظر متاثرین دکھ اور بے بسی کی تصویر بن گئے۔ حالیہ مون سون نے لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونچھی بہا دی۔
صوبائی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے تازہ اعدادو شمار کے مطابق بلوچستان میں قدرتی آفت سے جاں بحق افراد کی تعداد ایک سو ستائیس ہوگئی ہے، جب کہ تیرہ ہزار سے زیادہ مکانات زمین بوس ہوئے۔ مختلف حادثات میں تیئس ہزار سے زائد مویشی سیلابی پانی میں بہہ چکے ہیں۔
خضدار اورکوہلو میں طوفانی بارشوں سے مکانات منہدم ، کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں، اُدھرکلی سردار آباد میں کاریز بیٹھنے سے کچے مکانات منہدم ہوگئے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ یہاں پر کاریز ہے زمین کی خرید و فروخت میں ان کے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے، علاقے میں بارش کا پانی گزرنے کے لئے نہ کوئی برساتی نالہ ہے بلکہ ناجائز تعمیراتی کی وجہ سے گلیاں بھی تنگ ہیں کاریز بیٹھنے سے جگہ جگہ کئی کئی فٹ گڑھے پڑگئے اسکے باوجود ناجائز تعمیرات جاری ہیں مستقبل بارشوں سے مزید نقصان کا خدشہ ہے،متاثرہ افراد تاحال امداد کے منتظر ہیں۔
بلوچستان میں 24 جولائی سے شروع ہونے والے مون سون کے تیسرے اسپیل نے صوبے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، ہفتے کو سیلاب اور بارشوں سے مزید سات افراد جب کہ ایک ہفتے کے دوران 27 افراد جاں بحق اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد 127 تک پہنچ گئی ہے۔ ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کوئٹہ اجمل شاد کے مطابق بلوچستان میں مون سون کی بارشوں نے 30 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ صوبے میں معمول سے چار سے پانچ گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔
ادھر سندھ کو بلوچستان سے ملانے والے ایک اور پل کا تین سو فٹ کا حصہ بھی پانی بہا کر لے گیا ہے۔ نیشنل ہائی ویز اٹھارٹی کے مطابق پل کی مرمت میں مزید 2 دن لگ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ متاثرہ پل بند مراد کے مقام پر ہمدرد یونیورسٹی سے آگے واقع ہے۔
حمزہ نے دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب کا حلف اٹھا لیا
وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں صوبائی حکومت، وفاق سے مل کر ریلیف کے کام کر رہی ہے، مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
دوسری جانب قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ ماہ سے جاری بارشوں نے ژوب سے لے کر گوادر تک صوبے کے تمام 34 اضلاع کو متاثر کیا ہے۔ سرکاری و نجی عمارتوں، ڈیموں، سڑکوں، پلوں، ریلوے ٹریکس، زراعت اور گلہ بانی سمیت ہر شعبے کو نقصان پہنچا ہے۔
پی ڈی ایم کی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں اب تک 13 ہزار 320 مکانات جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جب کہ 23 ہزار مال مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔ 500 کلومیٹر سے زائد سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم فیصل طارق نے بتایا کہ 24 جولائی سے شروع ہونے والے مون سون کے اسپیل نے لسبیلہ اور جھل مگسی کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، جہاں سیلابی ریلے آبادیوں میں داخل ہونے کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بہہ گئیں اور متاثرہ علاقوں تک ابھی بھی زمینی رسائی نہیں۔ اس لیے کشتیوں اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کیا جا رہا ہے۔
ضلع لسبیلہ کے کمشنر افتخار بگٹی کے مطابق اب تک مختلف دیہاتوں میں پھنسے ہوئے پانچ ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیلابی ریلوں میں بہنے اور مختلف حادثات میں ایک ہفتے کے دوران 11 افراد کی موت ہو چکی ہے، جب کہ مجموعی طور پر 16 ہلاکتیں ہوئی ہیں، اس ضلع میں گزشتہ ہفتے طوفانی بارش کے بعد سیلابی ریلوں نے آبادیوں کا رخ کیا تھا۔ حب ڈیم بھرنے کے بعد دو لاکھ کیوسک سے زائد پانی کا اخراج ہوا جس سے بڑی آبادی زیرآب آئی۔
بلوچستان کے ضلع خضدار اور باقی بالائی علاقوں سے آنے والے سیلابی ریلوں نے بھی لسبیلہ کے بیلہ شہر اور گردونواح کو متاثر کیا۔ بیلہ میں پانچ بند ٹوٹ گئے جس کی وجہ سے پوری بیلہ تحصیل زیرآب آگئی۔ این 25 کوئٹہ کراچی آر سی ڈی شاہراہ نو مقامات پر پل اور سڑکیں بہنے سے چھ دنوں تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہی، جسے سنیچر کو آٹھ مقامات پر بحال کردیا گیا، تاہم اوتھل کا علاقہ لنڈا ندی کے مقام پر پل بہنے کی وجہ سے اب تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے، سیکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ بلوچستان سے کراچی جانے والے پھلوں اور سبزیوں کی ترسیل بھی معطل ہے جس کی وجہ سے زمینداروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیولسبیلہ روحانہ گل کاکڑ نے بتایا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر پھنسے ہوئے مسافروں اور ڈرائیوروں کو ایک غیر سرکاری ادارے کی مدد سے کھانا فراہم کیا جا رہا ہے، لسبیلہ کی تین تحصیلوں لاکھڑا، بیلہ اور اوتھل کو سیلاب نے بری طرح متاثر کیا ہے۔ تحصیل لاکھڑا، دریجی اور کنراج کا چھ دنوں سے باقی پورے ضلع سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔ سیکڑوں لوگ اب تک پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کے لیے فضائی آپریشن جاری ہے، ضلعی انتظامیہ کے مطابق ضلع میں کپاس کی فصل کاٹنے کے لیے سندھ سے تقریباً 20 ہزار مزدور آئے تھے، جن کی اکثریت سیلاب میں پھنس گئی۔ ان مزدوروں کے ساتھ بچے اور خواتین بھی ہیں۔ متاثرین کے لیے اوتھل کی جاموٹ کالونی میں ریلیف کیمپ لگایا گیا ہے، لیکن متاثرین نے شکایت کی ہے کہ ’انہیں کھانا اور ضروریات کی اشیا نہیں مل رہی۔
بلوچستان کے علاقے جھل مگسی میں طوفانی بارش اور خضدار سے دریائے مولا کے ذریعے آنے والے سیلای ریلوں نے پورے ضلع کو ڈبو دیا ہے۔ جھل مگسی کا باقی صوبے سے چھ دنوں سے رابطہ منقطع ہے۔ گنداوا جیکب آباد شاہراہ سمیت دیہاتوں کو ملانے والی رابطہ سڑکیں ہر قسم کی آمدروفت کے لیے بند ہیں، علاقے میں سڑکیں بہہ جانے کی وجہ سے آمدروفت ممکن نہیں جس کی وجہ سے درجنوں دیہاتوں میں لوگ محصور ہیں اور خوراک کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ تاہم صوبائی حکومت اور پاکستانی فوج ہیلی کاپٹر کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں خوراک پہنچا رہی ہے۔
ضلع چاغی میں سیلابی ریلوں کی وجہ سے تباہ شدہ ریلوے ٹریک آٹھویں روز بھی بحال نہ ہوسکے، جس کی وجہ سے زاہدان جانے والے ٹرینیں دالبندین اور یک مچ ریلوے اسٹیشن میں کھڑی کردی گئی ہیں۔ حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب کے باعث آحمد وال کے مقام پر انگریز کے دور میں بنایا گیا سو سالہ پل سیلابی ریلے کی وجہ سے زمین بوس ہوگیا، سورگل، احمد وال، جوجکی اور دیگر مقامات پر ریلوے ٹریک کی پٹری کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ انتظامیہ کے مطابق ٹریک کی بحالی کا کام جاری ہے، تاہم سیلابی پانی جمع ہونے کی وجہ سے کام میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ضلع کوہلو کے موجودہ حالات سے متعلق صوبائی وزیر تعلیم میر نصیب اللہ مری نے بتایا کہ کوہلو ضلع میں ہونے والی شدید بارشوں کو خود مانیٹر کررہا ہوں، ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکام کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں، کسی بھی صورت حال کے پیش نظر بروقت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ مشکل کی اس گھڑی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں اور ہر جگہ سے مقامی لوگوں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہوں، حالیہ بارشوں نے صوبے کو بری طرح متاثر کیا، جس سے کئی قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ انفراسٹرکچر کو شدید نقصان اور رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں۔ صوبائی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے،انہوں نے تحصیل ماوند اور منجھرا کے ندی نالوں میں بڑے سیلابی ریلے کے پیش نظر شہریوں کو شاہراہ پر سفر سے گریز کی ہدایت بھی کی، کوہلو میں مقامی آبادی کو الرٹ جاری کردیا گیا ہے، جب کہ لوگ مال مویشی اور خاندان کے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہے ہیں۔
ادھر شمالی علاقہ جات کے علاقے گانچھے میں طوفانی بارشوں کے بعد سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی۔ سیلابی ریلے سے کونیس میں ستائیس گھر اور بلغار میں پندرہ گھر مکمل تباہ ہو گئے۔ بلتستان کے چاروں ڈویژن میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی مچ گئی، انتظامیہ کے مطابق دریائے مشہ بروم میں اونچے درجے کا سیلاب ہے، جہاں غورسے رائشہ میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے سیلاب کا پانی آبادی میں داخل ہوگیا، اس دوران قدیم تاریخی مسجد بھی زیر آب آگئی۔ سیلاب سے ضلع کے مختلف علاقوں میں رابط سڑکیں بھی تباہ ہوگئیں۔ سیلاب سے خپلو، کونیس، بلغار اور غورسے میں کھڑی فصلیں تباہ، درختوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
دریائے چناب کا بڑا سیلابی ریلا جھنگ میں داخل ہونے سے سرگودھا روڈ ڈوب گيا۔ جب کہ پانی قریبی دیہات میں داخل ہو گيا۔ تریموں کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے لگی ہے، جہاں متاثرہ علاقوں ميں پھنسے افراد مدد کے منتظر ہيں، دریائے چناب میں گوجرانوالہ کے مقام پر سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ جب کہ ضلعی انتظامیہ نے پانی کے بہاؤ کی مانیٹرنگ کیلئے کنٹرول روم قائم کردیا۔
ادھر دریائے سندھ میں پانی کا بہاو بڑھنے سے کنگری اور گمبٹ کے کچے کے درجنوں دیہات ڈوب گئے۔ متاثرہ علاقوں کا خیرپور، کنگری اور گمبٹ سے زمینی رابطہ کٹ گيا۔ دادو میں کاچھو کی 6 یونین کونسلوں کا آٹھویں روز بھی زمینی رابط منقطع ہے۔ متاثرہ علاقوں میں اشیاء خوردونوش کی قلت پیداء ہوگئی، ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پہاڑپور میں بھی سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی جہاں شہری نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے۔
