کپتان اور الیکشن کمیشن کے مابین جنگ میں تیزی آگئی

یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں اپنے امپورٹڈ امیدوار حفیظ شیخ کی شکست پرشدید جھنجھلاہٹ کا شکار وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنی ہار کا ملبہ الیکشن کمیشن پر ڈالتے ہوئے یہ بھونڈا الزام عائد کر دیا ہے کہ اس نے سیکریٹ بیلٹ کروا کر مجرموں کو بچایا ہے حالانکہ سپریم کورٹ نے اسے اوپن بیلٹ پر الیکشن کروانے کا موقع فراہم کیا تھا۔ تاہم سچ یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے ایسا کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا تھا اور صرف اپنی رائے دی تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ سینٹ کا الیکشن آئین کے تحت بیلٹ کے تحت ہی ہو سکتا ہے تاہم ووٹ کے تقدس خو یقینی بنانا ضروری یے۔
الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم یہ بھی بھول گئے کہ یہ وہی الیکشن کمیشن ہے جو پچھلے 6 برس سے ان کی جماعت تحریک انصاف کے خلاف دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس کو ٹھوس ثبوت ہونے کے باوجود لٹکائے چلا جا رہا ہے اور اگر اس کیس میں فیصلہ خلاف آ جائے تو نہ صرف ان کی جماعت پر پابندی لگ جائے گی بلکہ وہ بھی وزارت عظمی کے لئے نااہل ہو جائیں گے۔ خان صاحب یہ بھی بھول گئے کہ راجہ سکندر سلطان انہی کے دور حکومت میں چیف الیکشن کمشنر بنے تھے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عمران حکومت کے پچھلے چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ترین تھے۔
4 مارچ کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے ہارے ہوئے کپتان نے کہا کہ اپوزیشن کا مقصد یہ تھا کہ سینیٹ انتخابات کے نتائج کو استعمال کرتے ہوئے اُن کی حکومت پر ’عدم اعتماد کی تلوار لٹکا دیں۔‘ اُنھوں نے کہا کہ اپوزیشن مجھے بلیک میل کرنا چاہتی تھی تا کہ میں انھیں این آر او دوں لیکن ایسا نہیں یو گا۔ انھوں نے الیکشن کمیشن کی ساکھ پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے سیکریٹ بیلٹ کروا کر مجرموں کو بچا لیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نہ صرف جمہوریت بلکہ اخلاقیات کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ جب آپ کو عدالت نے موقع دیا تھا تو آپ نے کیوں سیکریٹ بیلٹ کی حمایت کی۔ انھوں نے کہا کہ وہ آج پتا لگانا چاہتے ہیں کہ ہمارے کون لوگ بکے ہیں لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے بیلٹ پیپر ناقابلِ شناخت رکھنے کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکتا۔ عمران خان نے کہا کہ وہ 6 مارچ کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔ اُنھوں نے اپنے ارکانِ اسمبلی سے کہا کہ وہ ووٹنگ کے دوران اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں اور جو بھی حکومتی لوگ کھل کر ان کے خلاف آئیں گے وہ انکی زیادہ عزت کریں گے۔ یاد رہے کہ اعتماد کا ووٹ اوپن بیلٹ کے ذریعے ہونا ہے لہذا اس بات کے واضح امکان موجود ہے کہ کوئی بھی حکومتی رکن سامنے آ کر منتقم مزاج عمران خان کی مخالفت نہیں کرے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی تقریر ایک ہارے ہوئے شخص کی جانب سے اظہار برہمی سے بھر پور تھی اور اسی لیے انہوں نے اپنی جماعت میں موجود ناراض اراکین کی بغاوت کا ملبہ الیکشن کمیشن پر ڈال دیا اور اس اہم ترین قومی ادارے کو متنازعہ بنا تے ہوئے اس پر ویسے ہی تنقید کی جیسے وہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی نشست پر حکومت کے امیدوار اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں شکست ہوئی۔ بظاہر پاکستان تحریکِ انصاف کے اپنے کئی ارکانِ قومی اسمبلی نے حفیظ شیخ کو ووٹ دینے سے گریز کیا ہے جس پر حکمران جماعت میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ تاہم اس شکست کا نتیجہ یہ نکلا کہ قومی اسمبلی سے وزیر اعظم کو دوبارہ سے اعتماد کا ووٹ لینا پڑ رہا ہے جسے کہ اپوزیشن کی ایک بڑی جیت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دوران عمران خان نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے سینیٹ میں اپنے امیدوار کی کامیابی کے لیے ووٹ خریدے ہیں۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے اپنے بیانات میں اس الزام کی بالواسطہ طور پر تردید کی ہے اور حفیظ شیخ کے خلاف بغاوت کرنے والے حکومتی اراکین اسمبلی کو بہادر لوگ قرار دیا ہے جنہوں نے عمران خان کی منتقم مزاجی کے باوجود اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا۔ مریم اور بلاول کا یہ موقف تھا کہ عمران خان اپنی ناکامیوں کا ملبہ اپوزیشن اور الیکشن کمیشن پر ڈالنے کی بجائے اپنی صفوں کو درست کریں۔
یاد رہے کہ عمران خان نے اپنی 4 مارچ کی تقریر میں مذید کہا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں ایک شخص رشوت دے کر سینیٹر بن رہا ہے اور ارکانِ اسمبلی اپنے ضمیر بیچ رہے ہیں، یہ کیسی جمہوریت ہے۔ انھوں نے کہا کہ میثاقِ جمہوریت میں دونوں جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے مگر جب پی ٹی آئی نے یہ بیڑا اٹھایا تو اس کا ساتھ نہیں دیا گیا۔ انھوں نے براہِ راست الزام عائد کیا کہ سینیٹ کی اسلام آباد سیٹ پر گیلانی کو جتوانے کے لیے پیسہ چلایا گیا اور الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنا ریا۔ عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کی پوری کوشش تھی کہ پیسے دے کر ہمارے لوگوں کو ساتھ لائیں۔ ’ان کو خوف ہے کہ عمران خان ہماری کرپشن پر آگے نہ بڑھے۔ یہ مجھے بلیک میل کرنا چاہتے تھے کہ مجھ پر عدم اعتماد کی تلوار لٹکا دیں۔‘ وزیرِ اعظم عمران خان نے کسی رکنِ قومی اسمبلی کا نام لیے بغیر کہا کہ ان کی جماعت کے 26 اراکین اسمبلی بک گے لیکن خفیہ رائے شماری کی وجہ سے وہ ان کا پتہ نہیں چلا سکتے۔ دوسری جانب اپوزیشن کا الزام ہے کہ دراصل پیسہ ارب پتی پی ٹی آئی امیدواروں نے چلایا اور عمران خان سے کروڑوں روپے دے کر ٹکٹیں خریدیں جن کا ثبوت ان کی اپنی جماعت کے اراکین کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کی صورت میں موجود ہے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے الیکشن کمیسن پر الزام عائد کرنے کا بنیادی مقصد اسے دباؤ میں لانا ہے تاکہ یوسف رضا گیلانی کی بیٹے کی ویڈیو پر کوئی بڑا فیصلہ لیا جا سکے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے عمران خان کی غیر ذمہ دارانہ تقریر اور خود پر لگائے جانے والے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے ایک مشاورتی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے صدر عارف علوی کی جانب سے دائر کیے گئے مشاورتی ریفرینس پر رائے دی تھی کہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کروانے کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن نے ووٹ مروجہ قوانین کے تحت سیکریٹ بیلٹ کے ذریعے ہی کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن وزیراعظم نے اپنی تقریر میں الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آئین وعٹ چوری کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ بظاہر اُن کا اشارہ الیکشن کمیشن کے اس مؤقف کی جانب تھا کہ آئین سینیٹ الیکشن میں اوپن بیلٹ کی اجازت نہیں دیتا۔ اس معاملے پر الیکش کمیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمشنر حیران ہیں کہ وزیراعظم کس طرح خفیہ ووٹنگ کرانے کا آئینی طریقہ اختیار کرنے پر کمیشن کو قصور وار قرار دے سکتے ہیں۔ ذرائع نے کہا کمیشن پر الزام عائد کرنے کی بجائے حکومت خفیہ ووٹنگ ختم کرنے کیلئے آئین میں ترمیم کرے۔
سپریم کورٹ میں کمیشن کی جانب سے اختیار کردہ قانونی موقف کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن ذرائع کہتے ہیں کہ کمیشن نے وہ بات کہی جو قانون اور آئین میں درج ہے۔ لیکن لگتا یے کہ وزیراعظم نے کمیشن سے غلط توقعات وابستہ کرلی تھیں کیونکہ کمیشن نہ تو آئین میں ترمیم کر سکتا ہے اور نہ ہی خفیہ بیلٹنگ کی صورت میں اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں الیکشن کمیشن پر ان لوگوں کو تحفظ دینے کا الزام عائد کیا جنہوں نے سیکرٹ بیلٹ کی وجہ سے مال بنایا، وزیراعظم نے کہا کہ جس وقت یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا، ای سی پی نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کی جبکہ عدالت نے متعدد مرتبہ کہا کہ یہ ای سی پی کی ذمہ داری ہے کہ شفاف اور ایماندارانہ الیکشن کرائے جس وقت الیکشن کمیشن پر وزیراعظم نے الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے نہ کرانے کا الزام عائد کیا، سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے جواب میں قرار دیا تھا کہ سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے نہیں ہو سکتے۔
سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ الیکشن میں شفافیت کو یقینی بنانے کے اقدامات کرے۔ عدالت نے کہا تھا کہ یہ ای سی پی کی ذمہ داری ہے کہ انتخابی عمل کی بدعنوانیوں کا خاتمہ کرے اور اس مقصد کیلئے کمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کر سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ اداروں کا فرض ہے کہ وہ ای سی پی کی ہدایات پر عمل کریں اور پارلیمنٹ آئینی ترامیم منظور کر سکتی ہے۔ زیادہ تر ماہرین قانون اور ماہرین آئین کی رائے ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے خفیہ رائے شماری کے حوالے سے آئینی پوزیشن واضح ہوگئی اور ای سی پی آئین پر عمل کا پابند ہے۔ آئین کا آرٹیکل 226 کہتا ہے کہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کے الیکشن کے سوا آئین کے تحت تمام الیکشن خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہونگے۔
دوسری جانب یہ بھی یاد ریے کہ الیکشن کمیشن کو اپنی ساکھ پر حملہ کرنے اور الزام لگانے والوں کو توہین عدالت پر سزا دینے کا اختیار حاصل ہے۔ قانون کے تحت الیکشن کمیشن ہائیکورٹ کو حاصل اختیارات استعمال کر سکتا ہے تاکہ توہین مرتکب شخص کو سزا دی جا سکے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے میں الیکشن کمیشن کیا فیصلہ کرتا ہے۔
