گزشتہ سال پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

کرپشن کےخاتمےکےلیےکام کرنےوالےبین الاقوامی ادارےٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نےکرپشن پراپنی سالانہ عالمی رپورٹ جاری کی ہےجس کےمطابق پاکستان میں سال 2018 کےمقابلہ میں سال 2019 میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہےاورپاکستان تین درجےنیچےچلا گیا۔ جرمنی کےشہربرلن سےجاری رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ پاکستان کی حکومت کی طرف سےکرپشن کے خاتمےکےلیےکوششوں کےدعوؤں کےباوجود سال2019 میں پاکستان تین درجےتنزلی کےبعد زیادہ کرپٹ ملکوں کی رینکنگ میں120نمبرپرچلا گیا ہے۔
واضح رہےکہ سال2018میں پاکستان اس رینکنگ میں سے117ویں نمبرپرتھا۔ رینکنگ کےمطابق دس سالوں میں پہلی بار پاکستان کاکرپشن پرسیپشن انڈکس(سی پی آ ئی)سکورکم ہوکر32 پرآ گیا ہےجو کہ 2018میں33تھا۔ یاد رہےکہ 2013 میں پاکستان عالمی رینکنگ میں127ویں نمبرپرتھا جبکہ سال2014 میں 126ویں نمبرپرپہنچ گیا۔ سال2015 میں پاکستان عالمی رینکنگ میں117 نمبرپرتھا 2016 میں 116 پراور2017 میں117پرتھا ۔ یہی رینکنگ 2018میں برقراررہی تاہم2019 میں پاکستان تنزلی کے بعد 120 ویں نمبر پر آ گیا۔
اسی طرح سی پی آئی انڈیکس میں پاکستان 2013 میں 28 ویں نمبر پر تھا جبکہ 2014 میں 29 ویں، 2015 میں 30 ویں، 2016 میں 32، 2017 میں 32 اور 2018 میں 33 ویں نمبر پر تھا جبکہ 2019 میں انڈکس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک پوائنٹ کمی ہوئی اور پاکستان پھر 32 ویں نمبر پر پہنچ گیا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ سے متعلق کوئٹہ پریس کلب میں نیوز کانفرنس کے دوران وزیراعظم کی معاون خصوسی برائے اطلاعات فردوش عاشق اعوان سے سوال کیا گیا۔

اس سوال کے جواب میں فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ حکومت پاکستان کی تاریخ کی واحد حکومت ہے جس کا اب تک کرپشن کا کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا۔‘ ’کرپشن کے خلاف جہاد کوئی آسان عمل نہیں ۔ 72 سال کے گند کو صاف کرنے کے لیے 15 ماہ ناکافی ہیں۔ یہ مسلسل عمل ہے جس سے ہم کرپشن زدہ نظام اور کرپشن سے فائدہ اٹھانے والے دونوں کو شکست دیں گے۔‘
رپورٹ کے مطابق دنیا کے 180 ممالک کی رینکنگ میں کم کرپشن ڈنمارک میں ہے جس کا سکور 87 ہے اور سب سے زیادہ کرپشن صومالیہ میں ہے جس کا سکور نو رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک سمیت دنیا کے دو تہائی ممالک میں کرپشن کے خلاف کوششیں یا تو رک گئی ہیں یا کم ہوئی ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جن ممالک میں الیکشن یا سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ پر غیرضروری ذاتی مفادات کا اثر ہوتا ہے وہ کرپشن کے خاتمے کی کوششوں میں کمزور ہوتے ہیں
برلن سے جاری رپورٹ میں پاکستان کا ذکر صرف ایک بار ہی ہے جہاں کرپشن کی رینکنگ یا انڈیکس میں ملک کی پوزیشن کا ذکر ہے تاہم ادارے کے پاکستان چیپٹر نے اپنی پریس ریلیز میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی تعریفیں کی ہیں۔ ٹی آئی پاکستان کے چیئرمین سہیل مظفر نے اپنے بیان میں پاکستان کی کرپشن روکنے کی رینکنگ میں تنزلی کے باجود نیب اور اس کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی اور ترقی پذیر ملکوں کی رینکنگ میں بھی کمی آئی ہے۔
سہیل مظفر سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ: ’جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نے بہت بہتر کام کیا ہے اور نیب کو متعدد اقدامات جیسے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام سے نئی زندگی ملی ہے۔‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’نیب نے 530 ریفرنس فائل کیے اور کرپٹ عناصر سے 153 ارب روپے بھی برآمد کیے جبکہ سزاؤں کی شرح 70 فیصد رہی۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button