ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر

تحریر: یاسر پیر زادہ
بشکریہ: روزنامہ جنگ

’’جنابِ اسپیکر، معزز اراکینِ پارلیمان، خواتین و حضرات! آج کا دن ہماری سیاسی تاریخ کا یادگار دن ہے، آج سے قریباً اسّی برس پہلے قائد نے ہماری ریاست کی سمت متعین کی تھی مگر افسوس کہ ہم بھٹک گئے۔ اسی لیے آج میں کوئی روایتی تقریر کرنے نہیں آیا اور نہ ہی آپ کے سامنے اپنی حکومت کی کامیابیاں گنوانے آیا ہوں۔ آج میں ریاست کی جوابدہی کا عہد کرنے آیا ہوں۔ ریاست کی پہلی ذمہ داری شہری کی جان، مال، عزت اور عقیدے کا تحفظ ہے۔ ریاست کسی مسلح جتھے کو خارجہ پالیسی کا اثاثہ، داخلی سیاست کا معاون یا مذہب کا نمائندہ نہیں سمجھے گی۔ جو شخص آئین کو تسلیم کر کے ہتھیار چھوڑنا چاہے گا، اس کے لیے قانون کے اندر واپسی کا راستہ ہوگا اور جو ہتھیار اٹھا کر شہریوں کو قتل کرے گا، اسے ریاست کی پوری قانونی قوت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کسی دوسرے شہری کے ایمان کی پیمائش کرے اور پھر اسکے زندہ رہنے کا فیصلہ بھی خود صادر کر دے۔ فتویٰ عدالت کا متبادل نہیں، ہجوم قانون کا قائم مقام نہیں اور مذہبی جذبات قتل کا لائسنس نہیں۔ مذہب ہمارے لوگوں کے ایمان کا سرچشمہ ہے، اسے ذاتی دشمنی، زمین ہتھیانے اور سیاسی دکان چمکانے کا ہتھیار نہیں بننے دیا جائے گا۔ آج میں اپنے ملک کے غیر مسلم شہریوں سے بھی براہِ راست مخاطب ہوں۔ آپ کے مندر، چرچ، گوردوارے اور عبادت گاہیں اسی طرح مقدس ہیں جیسے مساجد۔آپ آزاد ہیں، اپنے مندروں میں جانے کیلئے آزاد ہیں، آپ اس ریاست میں اپنی مساجد یا کسی دوسری عبادت گاہ میں جانے کیلئے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب یا ذات یا عقیدے سے ہو، ریاست کے کاروبار سے اُس کا کچھ لینا دینا نہیں ہوگا۔اور اب کچھ بات اُن علیحدگی پسندوں کی بھی ہو جائے جو بے گناہ مزدوروں، مسافروں، اساتذہ، پولیس اور فوج کے جوانوں کو قتل کرتے ہیں۔ کوئی سیاسی محرومی کسی بے گناہ کے قتل کا جواز نہیں بن سکتی۔ علیحدگی کے نام پر بس سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھنے اور انسان کو گولی مار دینے والا کسی قوم کا خیر خواہ نہیں، قاتل ہے۔ ریاست ایسے قاتلوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ ہر ناراض نوجوان دہشت گرد نہیں اور ریاست سے سوال پوچھنے والا ہر شخص غدار نہیں۔ لاپتا افراد کا مسئلہ محض پروپیگنڈا کہہ کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ آج میں چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں بااختیار ’کمیشن برائے حقیقت، انصاف اور مصالحت‘ قائم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ اِس اعلان کے بعد جو گروہ تشدد ترک کر کے آئین کے اندر مذاکرات چاہیں گے، ان کیلئے ہمارے دروازے کھلے رہیں گے۔ ہمارے ملک کے زیرِ انتظام کسی علاقے کے شہری کو غدار کہہ کر خاموش کرنا ہمارے مقدمے کو مضبوط نہیں بلکہ کمزور کرتا ہے۔ ریاست کا موقف تب معتبر ہوتا ہے جب اس کا اپنا کردار اس موقف کی تصدیق کرے۔

معزز اراکین! آج میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک قومی جمہوری میثاق کی دعوت دیتا ہوں۔ حکومت اور حزبِ اختلاف مل کر یہ طے کریں گے کہ جیتنے والا پورا ملک نہیں جیت لیتا اور ہارنے والا پاکستان کا دشمن نہیں بن جاتا۔ قومی سلامتی، اہم معاہدوں اور بڑے معاشی فیصلوں پر پارلیمانی نگرانی یقینی بنائی جائے گی اور تمام ریاستی ادارے آئین کے متعین کردہ دائرے میں کام کریں گے۔ہماری معیشت نے گزشتہ برسوں میں کچھ استحکام حاصل کیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے، مالی نظم میں پیش رفت ہوئی، ٹیکس وصولی بڑھی اور شرحِ نمو میں بحالی کے آثار ہیں۔ لیکن وزیراعظم کا فرض صرف یہ بتانا نہیں کہ معیشت کے گراف میں لکیر اوپر جا رہی ہے، اسے یہ بھی دیکھنا ہے کہ مزدور کے گھر میں چولہا جل رہا ہے یا نہیں۔ اگر قومی آمدن کیساتھ غربت بھی بڑھ جائے، اسٹاک مارکیٹ اوپر جائے مگر مزدور کا بچہ اسکول کی بجائے ورکشاپ میں کام کرے تو ایسی ترقی کو میں نہیں جانتا، میں نہیں مانتا۔ جس ملک کے کروڑوں بچے اسکول سے باہر ہوں، وہاں ہر سرکاری عمارت کی تزئین و آرائش سے پہلے یہ سوال ہونا چاہیے کہ کیا ہم نے ہر بچے کیلئے استاد اور کلاس روم مہیا کر دیا؟ وفاق اور صوبے دس سالہ قومی تعلیمی معاہدہ کریں گے۔ نصاب میں نفرت، رٹے اور جھوٹی عظمت کے بجائے زبان، ریاضی، سائنس، منطق، تاریخ، آئینی شعور اور برداشت کو جگہ دی جائیگی۔آبادی میں تیز رفتار اضافہ ہماری ہر ترقی کو نگل رہا ہے۔ یہ مسئلہ وعظ یا جبر سے حل نہیں ہوگا۔ لڑکیوں کی تعلیم، بنیادی صحت، خواتین کے معاشی اختیار، خاندانی منصوبہ بندی کی باعزت سہولت اور مذہبی و سماجی قیادت کی شمولیت سے حل ہوگا۔ کسی قوم کی آدھی آبادی کو گھر کی چار دیواری میں محدود کر کے پوری معیشت دوڑائی نہیں جا سکتی۔ بلدیاتی حکومتوں کو آئینی روح کے مطابق سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار دیا جائیگا۔ گلی کی نالی، پینے کا پانی، کچرا، ٹرانسپورٹ اور بنیادی صحت کا فیصلہ صوبائی یا وفاقی دارالحکومت میں نہیں بلکہ یونین کونسل میں ہوگا۔ جمہوریت صرف وزیراعظم اور وزیراعلیٰ منتخب کرنے کا نام نہیں، جمہوریت اس وقت شروع ہوتی ہے جب شہری اپنے محلے کا جواب دہ نمائندہ منتخب کر سکے۔میرا خواب ایک ایسا ملک ہے جہاں وزیراعظم کا قافلہ گزرنے پر ایمبولینس نہ رکے، تھانے میں غریب کی درخواست بغیر سفارش درج ہو، عدالت کا فیصلہ فریق کی حیثیت دیکھ کر نہ بدلے، بچے کا مستقبل اس کے باپ کے نام سے متعین نہ ہو، عورت کو تحفظ کے عوض آزادی قربان نہ کرنا پڑے، اقلیت کو برابر ثابت ہونے کیلئے اکثریت سے زیادہ وفادار نہ بننا پڑے اور نوجوان کو کامیابی کیلئے ملک چھوڑنا واحد راستہ محسوس نہ ہو۔ اگر ہم یہ نہ کر سکے تو ہمارے ترانے، نعرے، پریڈیں اور تقاریر اس حقیقت کو نہیں چھپا سکیں گی۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔“

 

Back to top button