خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب کااہل نہیں،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس شاہد وحید نے اہم فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا، جج کے لیے معیار صرف بے گناہی نہیں بلکہ بے داغ کردار بھی ہے، جج کی خراب شہرت پورے عدالتی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے ایسا جج جس کی دیانت داری پر سوال ہو اسے منصب پر برقرار رکھنا عدلیہ کے بطور ادارہ مفادات کے منافی ہے۔
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس شاہد وحید نے اہم فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا، جج کے لیے معیار صرف بے گناہی نہیں بلکہ بے داغ کردار بھی ہے، جج کی خراب شہرت پورے عدالتی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے ایسا جج جس کی دیانت داری پر سوال ہو اسے منصب پر برقرار رکھنا عدلیہ کے بطور ادارہ مفادات کے منافی ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری ملازم اور ایک جج کو برابر نہیں ٹھہرایا جاسکتا، سرکاری ملازم کی معمولی کوتاہی جبری ریٹائرمنٹ کا باعث بن سکتی ہے، ایک جج کی دیانت داری او ر ساکھ اہم ہوتی ہے، جج کی اہلیت کو اس کے فیصلوں کے ذریعے جبکہ اُس کی دیانت کو شہرت کے ترازو سے تولا جاتا ہے، درست فیصلہ دینے والا جج عوامی ذہن میں داغ دار ہو تو اُس کے فیصلے کو شک کی نظر سے دیکھا جائے گا، جج کی دیانت اور ساکھ پر عوامی اعتماد نہ ہو تو اُس کا اثر قانون کی حکمرانی کے پورے ڈھانچے تک پھیل جاتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسا جج جس کی دیانت داری پر سوال ہو اُس کا جج کے منصب پر برقرار رہنا عدلیہ کے بطور ادارہ مفادات کے منافی ہے، بدنام یا کرپٹ جج کو عہدے سے ہٹانے پر عدالتی ادارہ صحت یاب ہونا شروع ہوجاتا ہے کیونکہ مخصوص ٹیومر کو الگ کر دیا ہوتا ہے۔
9 صفحات پر مشتمل فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا، عوام کا اعتماد کھو دینے والا جج عدلیہ کی نمائندگی نہیں کر سکتا، جج کی ساکھ پر سوال اٹھ جائے تو عدلیہ کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے، جج کے لیے معیار صرف بے گناہی نہیں بلکہ بے داغ کردار ہے، بدنام شہرت کے حامل جج کو ریٹائر نہیں بلکہ برطرف کیا جا سکتا ہے، جج کی شہرت مشکوک ہو تو عوام کا انصاف پر اعتماد مجروح ہوتا ہے،عدلیہ کو صرف انصاف نہیں بلکہ انصاف کا اعتماد بھی برقرار رکھنا ہوتا ہے، جج کی خراب شہرت پورے عدالتی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے، بدعنوانی ثابت نہ ہونے کے باوجود خراب شہرت سنگین معاملہ ہے، خراب شہرت والے جج کی برطرفی قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے، عدالتی منصب پر رہنے کے لیے بے داغ ساکھ ناگزیر ہے،جج کی ساکھ متاثر ہو جائے تو اس کی عدالتی حیثیت برقرار نہیں رہ سکتی، خراب شہرت رکھنے والے جج کو مراعات کے ساتھ ریٹائر نہیں کیا جا سکتا،عوامی اعتماد عدلیہ کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔
