امریکا میں قید عافیہ صدیقی کی 24 سال بعد بہن سے ملاقات

 امریکا کی زیرحراست پاکستانی عافیہ صدیقی کی 24 سال بعد بہن سے ملاقات ہوئی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورٹ ورتھ میں واقع کارسویل فیڈرل میڈیکل سینٹرمیں قید عافیہ صدیقی سے ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ملاقات کی۔دو بہنوں کے درمیان 24 سال بعد ملاقات شیشے کے آر پار بیٹھ کر ہوئی۔ ڈھائی گھنٹے کی ملاقات کے دوران عافیہ صدیقی نے بہن کوخود کے ساتھ ہونے والے سلوک سے آگاہ کیا جبکہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے عافیہ کو ان کے بچوں کے بارے میں بتایا۔ عافیہ صدیقی جیل کے خاکی لباس میں تھیں اور انہوں نے سر پراسکارف لیا ہوا تھا۔

امریکی حکام نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو عافیہ صدیقی کے بچوں کی تصاویر دکھانے کی اجازت نہیں دی۔ عافیہ صدیقی کی گرفتاری کے وقت ان کے بیٹے کی عمر 6 ماہ تھی۔ عافیہ صدیقی کی بیٹی اب ڈاکٹر بن چکی ہے اور بیٹا جوان ہو چکا ہے۔

فوزیہ صدیقی ، سینیٹر مشتاق اور ان کی رہائی کی کوشش کرنے والے وکیل کی عافیہ سے ملاقاتیں بدھ اور جمعے کو بھی متوقع ہیں جن میں عافیہ کی رہائی کے لئے مزید ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ دونوں بہنوں کی ملاقات ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی، اس دوران ڈاکٹر فوزیہ کو عافیہ سے گلے ملنےاور ہاتھ ملانے کی اجازت نہیں تھی۔

سینیٹر مشتاق احمد نے مزید کہا کہ جمعرات کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے دوبارہ ملاقات طے ہے، وہ خود بھی ملاقات کریں گے۔

ڈاکٹر فوزیہ کی ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات تشویش ناک صورتِ حال میں ہوئی ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی بیٹی کے ساتھ اب ملاقاتوں اور بات چیت کا راستہ کھل گیا ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے عوام آواز اٹھائیں اور حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے امریکی حکومت سے بات چیت کریں۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کے لیے ان کی بہن فوزیہ صدیقی کو 5 سال کا ویزا ملا ہے۔

عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کی ریاست ٹیکساس کی ایک ایسی وفاقی میڈیکل جیل میں زیر علاج ہیں جہاں خواتین قیدیوں کو، خصوصی طبی اور ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

عافیہ صدیقی کو 2010 میں مین ہیٹن میں چھیاسی سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان پرالزام تھا کہ انہوں نے 2 سال قبل افغانستان میں دورانِ

ہائیکورٹ کا آڈیو لیکس تحقیقاتی کمیٹی کو کارروائی روکنے کاحکم

حراست امریکی فوجی افسران کو گولی مارنے کی کوشش کی تھی۔

Back to top button