افغان حکومت خودکو علاقائی امن کے تقاضوں سے بری نہیں کر سکتی، دفتر خارجہ

پاکستان نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے بھارت میں دیے گئے حالیہ بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کی ذمہ داری صرف پاکستان پر ڈالنے سے افغان حکام اپنی علاقائی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے ہفتے کی شب جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ افغان وزیر خارجہ کے بیان اور بھارت-افغانستان مشترکہ اعلامیے پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں، جو افغان سفیر کو وزارت خارجہ میں ایڈیشنل سیکریٹری کے توسط سے پہنچا دیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ امیر خان متقی نے حال ہی میں بھارت کا دورہ کیا تھا، جو 2021 میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔ نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران متقی نے کابل میں حالیہ دھماکے کے تناظر میں پاکستان پر بالواسطہ الزامات عائد کیے تھے اور کہا تھا کہ "ہر ملک کو اپنے مسائل خود حل کرنے چاہئیں”۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں اور گزشتہ کئی مہینوں میں وہاں کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا، اس لیے دیگر ممالک کو بھی داخلی امن کا راستہ اپنانا چاہیے۔
دفتر خارجہ نے ان بیانات کو "غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے بھی بارہا افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں جیسے ’فتنۃ الخوارج‘ اور ’فتنۃ الہند‘ کے بارے میں شواہد اور اطلاعات فراہم کر چکا ہے، جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ افغان حکام کی جانب سے مسئلے کو صرف پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دینا زمینی حقائق کے منافی ہے اور خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
دفتر خارجہ نے بھارت-افغانستان مشترکہ اعلامیے میں جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیے جانے پر بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیر کی قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ اعلامیہ کشمیری عوام کی قربانیوں اور ان کی منصفانہ جدوجہد کے لیے بے حسی کا مظہر ہے۔
پاکستان نے مزید کہا کہ اسلامی بھائی چارے اور ہمسائیگی کے جذبے کے تحت پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں سے تقریباً 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے، لیکن اب جب افغانستان میں حالات معمول پر آ رہے ہیں، تو غیر قانونی افغان شہریوں کی واپسی ناگزیر ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کو بھی دیگر ممالک کی طرح اپنے قانون اور سرحدی نظم و نسق کا حق حاصل ہے، تاہم تعلیم و صحت جیسی انسانی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ویزے جاری کیے جا رہے ہیں۔
دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کو تجارتی، اقتصادی اور سفری سہولیات فراہم کی ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے، لیکن یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کا استعمال روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گی۔
اس سے قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی برآمد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی کارروائیاں دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچائیں گی، جو پاکستان نہیں چاہتا۔
افغان حکومت نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان نے حالیہ دنوں میں افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے، جس پر پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کو اپنی سلامتی کے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ شواہد موجود ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
