افغانستان دہشتگردوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ،خطےکا امن خطرے میں

پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کی دراندازی کی کوششوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، جن میں 15 خوارج کو ہلاک کیے جانے کے بعد دہشتگردی کے خلاف ریاستی حکمت عملی ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد ملک کو دہشتگردی سے پاک کرنا، افغان سرزمین سے ہونے والی دراندازی کا راستہ روکنا اور داخلی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنانا ہے۔ اگرچہ دہشتگردی کا خاتمہ ایک پیچیدہ اور طویل المدتی چیلنج ہے، تاہم پاکستان نے اس کے مقابلے کیلئے واضح حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے۔
دوسری جانب افغان انتظامیہ پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود پاکستان مخالف دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی سے گریزاں ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ افغان طالبان کے اپنے داخلی سیاسی اور سیکیورٹی مسائل بھی قرار دیے جاتے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ متعدد سفارتی اور دیگر راستے اختیار کرنے کے باوجود اگر افغان سرزمین سے دراندازی کا سلسلہ جاری رہا تو ریاست اپنے دفاع کیلئے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے، اسی پالیسی کے تحت سرحد پار دہشتگردوں اور ان کے مبینہ ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاکستان کیلئے خطرہ صرف افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی تک محدود نہیں۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت اور بعض دیگر عناصر بھی ملک کی بڑھتی علاقائی اہمیت کو متاثر کرنے کیلئے دہشتگرد گروہوں کی مالی معاونت، اسلحے اور دیگر وسائل کے ذریعے مدد کرتے رہے ہیں۔ خصوصاً تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان نظریاتی، تاریخی اور قبائلی روابط بھی ایک اہم سیکیورٹی مسئلہ سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان کا الزام ہے کہ ان تعلقات کے باعث افغان انتظامیہ ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی سے گریز کرتی ہے، جبکہ افغان طالبان اپنی داخلی صورتحال اور اقتدار کے استحکام کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔
پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کسی دباؤ کے بغیر کارروائی جاری رکھے گا اور سرحد پار سے دراندازی کرنے والے عناصر کو بھی قانون اور ریاستی طاقت کے ذریعے روکا جائے گا۔ اس صورتحال میں عالمی سطح پر بھی افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے دہشتگردی کے خطرے اور اس کے علاقائی اثرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں اور بعض مغربی ماہرین کی جانب سے افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کو خطے کے امن کیلئے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ امریکی حکام بھی ماضی میں یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ پاکستان دہشتگردی سے شدید متاثر ہوا ہے اور افغان طالبان کی جانب سے انسداد دہشتگردی کے حوالے سے کیے گئے وعدوں پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ ماہرین کے مطابق اگر افغانستان میں موجود دہشتگرد نیٹ ورکس کو مؤثر انداز میں محدود نہ کیا گیا تو اس کے اثرات پاکستان سے آگے پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں علاقائی ممالک کیلئے مشترکہ انسداد دہشتگردی حکمت عملی کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ بعض ماہرین اسے پاکستان کیلئے ایک اہم سٹرٹیجک خطرہ قرار دیتے ہیں، تاہم ان کے نزدیک اس مسئلے کا مستقل حل صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ مؤثر سفارت کاری، سرحدی تعاون اور علاقائی سطح پر مشترکہ اقدامات میں پوشیدہ ہے۔ خلیجی ممالک بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے پرامن حل پر زور دیتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو اس کے اثرات پورے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کرسکتے ہیں۔
یوں افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد عناصر کا معاملہ محض پاکستان اور افغانستان کا دوطرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ پورے خطے کے امن و سلامتی کیلئے ایک سنجیدہ چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اصل امتحان یہی ہوگا کہ پاکستان اپنے دفاع اور انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں کے ساتھ سفارتی محاذ پر کس حد تک علاقائی اور عالمی حمایت حاصل کرتا ہے، جبکہ افغان انتظامیہ اپنی سرزمین کو پاکستان اور دیگر ممالک کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال ہونے سے روکنے کیلئے کیا عملی اقدامات کرتی ہے۔
