نئے صوبوں کے قیام میں اصل رکاوٹ کون؟نام سامنے آ گیا

نئے صوبوں کے قیام پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کے پس منظر میں سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ نئے صوبوں کی راہ میں اصل رکاوٹ پیپلز پارٹی اور بالخصوص صدر آصف علی زرداری ہیں، جبکہ مسلم لیگ ن پنجاب کی تقسیم کے معاملے پر مزاحمت نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے ہی پیش گوئی کی تھی کہ پیپلز پارٹی نئے صوبوں کی کھل کر مخالفت کرے گی اور سندھ اسمبلی میں اس مخالفت کا آغاز اس پیش گوئی کی تصدیق ہے۔
دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس معاملے پر خاموش نہیں بیٹھ سکتی اور صدر زرداری نے کراچی کے دورے کے دوران اپنے ارکان اسمبلی کو ممکنہ سیاسی ردعمل کیلئے تیار رہنے کی ہدایت کی تھی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے اب اپنے سیاسی پتے ظاہر کردیئے ہیں اور سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے خلاف مؤقف اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
نجم سیٹھی نے لندن میں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری کے لندن جانے کے بعد نئے صوبوں کے معاملے پر مزید مشاورت اور سیاسی حکمت عملی بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق محسن نقوی کی لندن میں صدر زرداری سے ملاقات بھی اسی تناظر میں اہم سمجھی جا سکتی ہے، تاہم ان کی یہ باتیں تجزیے اور ذرائع سے متعلق دعووں پر مبنی ہیں۔
سینئر تجزیہ کار نے موجودہ علاقائی صورتحال کو بھی نئے صوبوں کی بحث سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اس وقت دفاعی اخراجات کیلئے وفاق کو اضافی وسائل کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو خطے میں متعدد سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے اور دفاع کیلئے بڑے بجٹ کی ضرورت ہے، جبکہ وفاقی حکومت کے مالی وسائل محدود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبوں سے اضافی مالی تعاون یا وسائل کا تقاضا کیا جاتا ہے تو پنجاب اس میں حصہ ڈال سکتا ہے، لیکن خیبر پختونخوا اور سندھ کے حوالے سے معاملات زیادہ پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔
نجم سیٹھی کے مطابق پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان نئے صوبوں کے معاملے پر سخت پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، جبکہ مسلم لیگ ن فی الحال محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے اپنی جماعت کے رہنماؤں کو نئے صوبوں کے معاملے پر زیادہ بات نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، تاہم اگر انہیں پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی جائے تو وہ اس پر آمادگی ظاہر کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے تجزیے میں اصل سیاسی مسئلہ پنجاب نہیں بلکہ سندھ ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کو اپنے سیاسی وجود اور صوبائی سیاست کیلئے بڑا خطرہ سمجھتی ہے۔ نجم سیٹھی کے مطابق اگر نئے صوبوں کے قیام کیلئے سیاسی دباؤ یا زور زبردستی کی گئی تو بالآخر پیپلز پارٹی بھی کسی سمجھوتے پر آمادہ ہوسکتی ہے، کیونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہتی جو اس کے اپنے سیاسی مفادات کیلئے نقصان دہ ثابت ہو۔
یوں نئے صوبوں کا معاملہ محض انتظامی اصلاحات کی بحث نہیں رہا بلکہ اس کے ساتھ وفاقی وسائل، دفاعی ضروریات، صوبائی خودمختاری اور بڑی سیاسی جماعتوں کے مفادات بھی جڑ گئے ہیں۔ ایک طرف حکومت کے بعض رہنما اسے بہتر انتظامی نظام کیلئے ضروری قرار دے رہے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ اب آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی جماعتیں مذاکرات اور اتفاق رائے کی راہ اختیار کرتی ہیں یا یہ بحث وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک نئے سیاسی تنازع کی شکل اختیار کرتی ہے۔
