دہشتگردی کا خاتمہ، فیصل نصیر کی نیکٹا میں 3 سالہ تعیناتی اتنی اہم کیوں؟

نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈی نیٹر کے طور پر میجر جنرل فیصل نصیر کی 3 سال کیلئے تعیناتی نے ایک بار پھر اس ادارے کو قومی سلامتی کے منظرنامے میں توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ نیکٹا ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے اہم مقصد کے تحت قائم کیا گیا تھا، تاہم گزشتہ برسوں میں وسیع قانونی مینڈیٹ رکھنے کے باوجود اس کی عملی فعالیت اور ادارہ جاتی حیثیت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق فیصل نصیر کو نیکٹا ایکٹ 2013ء کی دفعہ 9(1) کے تحت ڈیپوٹیشن پر فوری طور پر 3 سال کیلئے نیشنل کوآرڈی نیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک کو دہشت گردی اور سیکیورٹی کے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے اور نیکٹا کے پاس قومی سطح پر انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہاپسندی کی حکمت عملی، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کا وسیع قانونی اختیار موجود ہے۔

نیکٹا کا قیام ابتدا میں 2008ء میں وزارت داخلہ کے ایک انتظامی یونٹ کے طور پر عمل میں آیا تھا، بعد ازاں نیکٹا ایکٹ 2013ء کے تحت اسے انتظامی اور مالی خودمختاری دے کر ایک کارپوریٹ ادارے کی حیثیت دی گئی۔ قانون کے مطابق نیکٹا کو انٹیلی جنس اور معلومات جمع و یکجا کرنے، قومی انسداد دہشت گردی و انسداد انتہاپسندی کی حکمت عملی تیار کرنے، ایکشن پلان مرتب کرنے اور ان پر عملدرآمد کی نگرانی، تحقیق، متعلقہ قوانین کے جائزے اور بین الاقوامی اداروں سے رابطے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

دسمبر 2014ء میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملے کے بعد نیکٹا کا کردار مزید اہم ہوگیا۔ ادارہ 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان کی تیاری میں شامل رہا اور بعد ازاں اس پر عملدرآمد کی نگرانی بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل کی گئی۔ تاہم اتنی اہم ذمہ داریوں کے باوجود نیکٹا ایک مضبوط اور بااختیار قومی سلامتی کے ادارے کے طور پر اپنی مستقل ادارہ جاتی حیثیت مستحکم کرنے میں مشکلات کا شکار رہا ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ دیگر سرکاری محکموں اور سروسز سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران پر انحصار ہے۔ نیکٹا آج بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مختلف آسامیوں کیلئے افسران طلب کرتا ہے، جس کے باعث یہ تاثر پیدا ہوا کہ نیکٹا میں تعیناتی پولیس، انٹیلی جنس، صوبائی انتظامیہ یا دیگر اہم سیکیورٹی اداروں کے مقابلے میں افسران کے عملی اختیار اور پیشہ ورانہ مستقبل پر زیادہ اثر نہیں ڈالتی۔ حکومت ماضی میں نیکٹا میں ملازمت کو پرکشش بنانے کیلئے رسک الاؤنس اور دیگر مراعات بھی فراہم کرچکی ہے، لیکن اس کے باوجود ادارے کی فعالیت کا سوال برقرار رہا۔

نیکٹا کے اعلیٰ فیصلہ ساز فورمز کے اجلاسوں کا تسلسل بھی ایک اہم سوال ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق نیکٹا کی ساتویں ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 24 اپریل 2024ء کو ہوا تھا، جبکہ 4 ستمبر 2026ء تک ادارے کی ویب سائٹ پر آٹھویں ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کا اندراج موجود نہیں۔ دوسری جانب اپریل 2025ء میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہوا، جس میں نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کے قیام کی منظوری دی گئی۔

انٹیلی جنس اور سیکیورٹی امور کا وسیع تجربہ رکھنے والے فیصل نصیر کی تعیناتی نے اس پس منظر میں نیکٹا کے بنیادی کردار پر نئی توجہ مرکوز کردی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا ان کی آمد کے ساتھ نیکٹا کے ادارہ جاتی اختیارات میں اضافہ، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ کاری میں بہتری اور قومی سطح پر انسداد دہشت گردی کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانے کیلئے بھی عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

ایک سرکاری ذریعے کے مطابق فیصل نصیر کی 3 سالہ تعیناتی نیکٹا کو اپنا کردار مضبوط کرنے کا اہم موقع فراہم کرسکتی ہے، تاہم اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا انحصار نئے نیشنل کوآرڈی نیٹر کو حاصل اختیارات، وسائل اور ادارہ جاتی حمایت پر ہوگا۔ نیکٹا کی کامیابی صرف اس کی اپنی صلاحیتوں سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی جڑی ہے کہ دیگر متعلقہ ادارے اس کے جائزوں، اطلاعات اور رابطہ کاری کے طریقہ کار کو قومی سلامتی سے متعلق فیصلہ سازی میں کتنی اہمیت دیتے ہیں۔

نیکٹا کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی اس کے ابتدائی دور کے طاقتور ڈھانچے میں بھی آئی۔ ایک وقت میں اس کے بورڈ آف گورنرز کی سربراہی وزیراعظم کرتے تھے اور اس میں تمام وزرائے اعلیٰ، انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان اور دیگر اہم شخصیات شامل ہوتی تھیں، تاہم بعد میں ادارے کو وزارت داخلہ کے ماتحت کردیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ فیصل نصیر کی 3 سالہ تعیناتی کو محض ایک انتظامی تقرری کے بجائے نیکٹا کے اختیارات، ادارہ جاتی حیثیت اور قومی انسداد دہشت گردی کے نظام میں اس کے مستقبل کے کردار کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

Back to top button