سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت، پاکستانی بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار کیوں؟

پاکستان کے ڈیجیٹل منظرنامے کا ایک انتہائی تشویشناک رخ سامنے آیا ہے، جہاں ایک عالمی تحقیق کے مطابق انٹرنیٹ استعمال کرنے والے ہر 16 میں سے ایک بچہ ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کا شکار ہوا۔ یہ تعداد تقریباً 15 لاکھ بچوں تک پہنچتی ہے۔ صورتحال کی سنگینی اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ 85 فیصد واقعات میں ملوث افراد اجنبی نہیں بلکہ متاثرہ بچوں کے جاننے والے تھے، جبکہ بڑی تعداد میں بچے خوف، بدنامی اور نظام پر عدم اعتماد کے باعث خاموش رہے۔
یونیسف سے متعلق ’’ڈس رپٹنگ ہارم اِن پاکستان‘‘ رپورٹ کے مطابق 12 سے 17 سال کی عمر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں میں ایک سال کے دوران بڑی تعداد کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ تحقیق نے اس عام تصور کو بھی غلط ثابت کیا کہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں بنیادی خطرہ صرف اجنبی افراد سے ہوتا ہے، کیونکہ 85 فیصد کیسز میں ملزم ایسے افراد تھے جنہیں بچے پہلے سے جانتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق 44 فیصد واقعات سوشل میڈیا پر پیش آئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کی بڑھتی ہوئی آن لائن موجودگی کے ساتھ ان کے تحفظ کے چیلنجز بھی بڑھ رہے ہیں۔ نجی تصاویر یا معلومات حاصل کرکے بلیک میلنگ، دھمکیوں اور جنسی استحصال کے لیے استعمال کرنے جیسے واقعات بچوں کو شدید ذہنی اور سماجی دباؤ کا شکار بنا سکتے ہیں۔
اس پورے معاملے کا سب سے پریشان کن پہلو متاثرہ بچوں کی خاموشی ہے۔ تحقیق کے مطابق نصف سے زیادہ متاثرہ بچوں نے کسی کو اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں نہیں بتایا، جبکہ کسی ایک بچے نے بھی پولیس یا ہیلپ لائن سے رابطہ نہیں کیا۔ معاشرتی بدنامی کا خوف، خاندان یا معاشرے کے ردعمل کا خدشہ اور متعلقہ اداروں پر عدم اعتماد بچوں کو مدد حاصل کرنے سے روکنے والی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
ڈیجیٹل خطرات اب صرف روایتی آن لائن ہراسانی تک محدود نہیں رہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی تصاویر اور دیگر مواد تیار کرنے، بچوں کو بلیک میل کرنے اور جنسی استحصال کے لیے دباؤ ڈالنے جیسے نئے طریقے تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ اس صورتحال نے بچوں کے تحفظ کے موجودہ نظام کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یہ انکشاف اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ بچوں کو صرف انٹرنیٹ سے دور رکھنا مسئلے کا حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کو محفوظ آن لائن رویوں کی تعلیم دی جائے، والدین اور اساتذہ کو ممکنہ خطرات اور علامات سے آگاہ کیا جائے، جبکہ پولیس، ہیلپ لائنز اور متعلقہ اداروں کو ایسے معاملات میں فوری اور قابلِ اعتماد مدد فراہم کرنے کے قابل بنایا جائے۔
پاکستان میں انٹرنیٹ اور سماجی ذرائع ابلاغ کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے، اس لیے بچوں کا ڈیجیٹل تحفظ اب محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سطح کی ترجیح بن چکا ہے۔ اگر متاثرہ بچے خوف اور بدنامی کے باعث خاموش رہیں اور مجرموں کو بروقت کارروائی کا سامنا نہ ہو تو جدید ٹیکنالوجی بچوں کے لیے سہولت کے بجائے استحصال کا ایک خطرناک ذریعہ بن سکتی ہے۔
