پیپلز پارٹی ڈٹ گئی سندھ کی تقسیم پر دوٹوک مؤقف برقرار

پاکستان کی سیاست میں سندھ کی تقسیم کا معاملہ ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اس حوالے سے اپنا مؤقف ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے۔ لندن میں بلاول بھٹو زرداری اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے درمیان پانچ گھنٹے طویل ملاقات ہوئی، جس میں سندھ کی تقسیم سے متعلق سیاسی صورتحال، فریال تالپور کی تقریر اور آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوسری جانب باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پارک لین میں ہونے والی ایک اہم اور کشیدہ ملاقات میں آصف علی زرداری نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق تجویز کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔
ذرائع کے مطابق صدر زرداری نے محسن نقوی سے کہا کہ متعلقہ حلقوں کو واضح طور پر بتا دیا جائے کہ سندھ کو تقسیم کرنا یا اس سے ملتی جلتی کوئی بھی تجویز پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے ناقابل قبول ہے اور اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکتی۔ آصف زرداری نے یہ بھی واضح کیا کہ اہم آئینی اور قومی معاملات کو وسیع تر قومی اتفاق رائے کے بغیر آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔
صدر مملکت کے مطابق ایسے حساس معاملات میں تمام سیاسی اور دیگر متعلقہ فریقوں کو قومی مفاد میں مل کر کام کرنا ہوگا، کیونکہ پائیدار حل صرف مشاورت، اتفاق رائے اور تمام فریقوں کو اعتماد میں لینے سے ہی ممکن ہے۔
اسی پس منظر میں لندن میں بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کی پانچ گھنٹے طویل ملاقات کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ ملاقات آصف زرداری کی رہائش گاہ پر ہوئی، جس میں بختاور بھٹو زرداری بھی شریک تھیں۔ ذرائع کے مطابق سندھ کی تقسیم سے متعلق پارٹی کے مؤقف پر تفصیلی مشاورت ہوئی اور پیپلز پارٹی کی جانب سے اپنے موجودہ مؤقف پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ملاقات میں فریال تالپور کی حالیہ تقریر بھی زیر بحث آئی، جبکہ سندھ کی موجودہ سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ وہ آئندہ چند روز لندن میں موجود رہیں گے۔
سندھ کی تقسیم کا معاملہ پیپلز پارٹی کے لیے سیاسی اور جذباتی طور پر انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیادت کی جانب سے ایک طرف اس تجویز کو ناقابل قبول قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف یہ مؤقف بھی سامنے آ رہا ہے کہ ملک کے اہم آئینی معاملات کو سیاسی اتفاق رائے کے بغیر آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں سندھ کی تقسیم سے متعلق جاری سیاسی بحث خصوصی طور پر زیر غور آئی۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس معاملے پر اپنے پہلے سے قائم مؤقف کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے ایسے کسی بھی مطالبے کی مخالفت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا جس سے سندھ کی انتظامی یا جغرافیائی تقسیم کا تاثر پیدا ہوتا ہو۔بلاول بھٹو زرداری نے ملاقات کے بعد بتایا کہ وہ آئندہ چند روز تک لندن میں موجود رہیں گے۔ ان کی آصف علی زرداری سے یہ تفصیلی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سندھ کی سیاسی صورتحال ایک مرتبہ پھر قومی سطح پر سیاسی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے اور صوبے کی تقسیم سے متعلق مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔
مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کے لیے سندھ کی سیاسی صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ صوبہ طویل عرصے سے پارٹی کا بنیادی سیاسی مرکز رہا ہے۔ سندھ میں پارٹی کی مضبوط سیاسی موجودگی اور تنظیمی اثر و رسوخ کے باعث صوبے کی انتظامی یا جغرافیائی تقسیم سے متعلق کسی بھی بحث کو پیپلز پارٹی کی قیادت انتہائی حساس سیاسی معاملہ تصور کرتی ہے۔ اسی تناظر میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ہونے والی پانچ گھنٹے طویل ملاقات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ملاقات میں نہ صرف سندھ کی تقسیم کے معاملے پر پارٹی کے مؤقف کا اعادہ کیا گیا بلکہ صوبے میں پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال، پارٹی کے بیانیے اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم سے متعلق اپنے سابقہ مؤقف میں کسی تبدیلی کے لیے تیار نہیں اور پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ صوبے کی وحدت برقرار رہنی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کی تقسیم سے متعلق کسی بھی نئی سیاسی بحث کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔
یوں آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی لندن ملاقات، محسن نقوی سے ہونے والی مبینہ مشاورت اور سندھ کی تقسیم سے متعلق پیپلز پارٹی کے واضح مؤقف نے اس معاملے کو ایک بار پھر ملکی سیاست کے اہم موضوعات میں شامل کر دیا ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ نئے صوبوں سے متعلق بحث کس سمت آگے بڑھتی ہے اور کیا حکومت تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لے کر کسی وسیع تر اتفاق رائے کی طرف بڑھ پاتی ہے یا نہیں۔
