نئے صوبوں کا معاملہ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں ٹکراؤ کیوں بڑھ گیا؟

نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں اور سیاسی بیان بازی میں بھی شدت پیدا ہوگئی ہے۔ سندھ اسمبلی کی جانب سے نئے صوبوں کے خلاف قرارداد کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت کی طرف سے قومی سطح پر اس معاملے پر بحث کی حمایت جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ کی تقسیم کی کسی بھی تجویز کی سخت مخالفت نے سیاسی محاذ کو مزید گرم کردیا ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ کسی ایک جماعت یا صوبے کا نہیں بلکہ قومی مسئلہ ہے، جس پر چاروں صوبوں، سیاسی جماعتوں اور تمام متعلقہ فریقین کو سنجیدہ قومی مکالمہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کا مقصد عوام تک وسائل، انتظامی سہولیات اور حکومتی خدمات زیادہ مؤثر انداز میں پہنچانا ہونا چاہیے، جبکہ اگر موجودہ نظام میں اصلاحات کے ذریعے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں تو نئے صوبوں کے مخالفین کو اپنا مدلل مؤقف قوم کے سامنے رکھنا چاہیے۔
طارق فضل چوہدری نے سندھ اسمبلی کی جانب سے قومی اسمبلی کو نئے صوبوں کے معاملے پر بحث سے روکنے کے مؤقف کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں پر بحث اب قومی سطح پر آگے بڑھے گی اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اس مکالمے کا حصہ بننا چاہیے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی جذبات کے بجائے قومی مفاد میں سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔
دوسری جانب سندھ حکومت نے وفاقی وزیر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کے خلاف غیر ذمہ دارانہ زبان برداشت نہیں کی جائے گی۔ ترجمان سندھ حکومت کے مطابق مراد علی شاہ کا مؤقف سندھ کے کروڑوں عوام کے حقوق کی ترجمانی کرتا ہے اور وفاقی وزرا کو سندھ کے آئینی اور جغرافیائی حقوق پر سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ سندھ دھرتی کی تقسیم کی کسی بھی بات پر پیپلز پارٹی خاموش نہیں رہے گی اور وفاقی حکومت کو نئے صوبوں کی بحث کے بجائے ملک کے اصل معاشی اور عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
اسی دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نئے صوبوں کے معاملے کو مزید وسیع تناظر میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ انتظامی نظام آبادی کے دباؤ کے باعث مؤثر انداز میں خدمات فراہم نہیں کر پا رہا۔ ان کے مطابق مسائل کا حل یا تو 160 بااختیار ضلعی حکومتوں کے قیام میں ہے یا ملک میں 12 سے 15 صوبے بنائے جائیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بدین سے گھوٹکی تک سندھ کو کراچی سے اور رحیم یار خان سے اٹک تک پنجاب کو لاہور سے مؤثر طور پر چلانا ممکن نہیں۔
احسن اقبال نے تجویز دی کہ ہر موجودہ صوبے کو تین انتظامی حصوں میں تقسیم کرنے پر غور کیا جائے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کو ڈیرہ اسماعیل خان سے چترال تک، جبکہ بلوچستان کو پسنی سے ژوب اور قلعہ سیف اللہ تک مختلف انتظامی مراکز کے ذریعے چلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں مسلسل اضافے اور موجودہ مرکزیت کے باعث نظام پر دباؤ بڑھ چکا ہے، اس لیے انتظامی ڈھانچے میں توازن پیدا کرنا ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کے قیام کیلئے سیاسی اتفاق رائے ناگزیر ہوگا اور اس معاملے پر جائزہ کمیٹی بنا کر قومی و سیاسی بحث شروع کی جانی چاہیے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی موجودہ انتظامی ڈھانچے کو فرسودہ قرار دیتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاہم وزیراعظم کے مشیر رانا احسان افضل خان نے واضح کیا ہے کہ فی الحال نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی کسی جائزہ کمیٹی کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے۔
یوں نئے صوبوں کا معاملہ ایک مرتبہ پھر قومی سیاست کا اہم موضوع بن گیا ہے۔ ایک جانب مسلم لیگ ن کے بعض رہنما اسے انتظامی اصلاحات، بہتر حکمرانی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی اسے خصوصاً سندھ کی جغرافیائی وحدت اور صوبائی حقوق کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ بحث محض سیاسی بیانات اور باہمی الزام تراشی تک محدود رہتی ہے یا حکومت تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لے کر انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کے معاملے پر باقاعدہ قومی مکالمے کا آغاز کرتی ہے۔
