نواز شریف نے کس صحافی کو آزاد کشمیر کا صدر بنانے کی آفر کی؟

سینئر صحافی اظہر جاوید نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے معروف صحافی مرتضیٰ علی شاہ کو آزاد کشمیر کا صدر بنانے کی پیشکش کی تھی، تاہم مرتضیٰ علی شاہ نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اظہر جاوید کے مطابق نواز شریف نے یہ بات محض مذاق کے طور پر نہیں بلکہ سنجیدگی سے کہی تھی۔
ایک پوڈکاسٹ میں واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے اظہر جاوید نے بتایا کہ ایک مرتبہ کھانے کی میز پر نواز شریف، مرتضیٰ علی شاہ اور دیگر افراد موجود تھے۔ نواز شریف مرتضیٰ علی شاہ کو پہلے سے جانتے تھے اور چونکہ مرتضیٰ علی شاہ کا تعلق باغ، آزاد کشمیر سے ہے، اس لیے دونوں کے درمیان کشمیر کے حوالے سے بھی اکثر گفتگو ہوتی رہتی تھی۔
اظہر جاوید کے مطابق ایسی ہی ایک گفتگو کے دوران نواز شریف نے مرتضیٰ علی شاہ سے کہا کہ ’’میرا خیال ہے کہ آپ کو آزاد کشمیر کا صدر ہونا چاہیے۔‘‘ اس موقع پر کچھ کشمیری رہنما بھی موجود تھے۔ اظہر جاوید کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے یہ بات کسی مزاح یا غیر سنجیدہ انداز میں نہیں کہی تھی بلکہ وہ واقعی سمجھتے تھے کہ مرتضیٰ علی شاہ اس منصب پر فائز ہو سکتے ہیں۔
تاہم مرتضیٰ علی شاہ کی جانب سے اس واقعے کی مختلف وضاحت سامنے آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی طرف سے یہ بات محض مذاق کے طور پر کہی گئی تھی۔ مرتضیٰ علی شاہ کے مطابق ایسے عہدے ان لوگوں کے لیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں جو بااثر ہوں، مراعات اور طاقت میں دلچسپی رکھتے ہوں، جبکہ وہ خود ایک عام آدمی ہیں اور اپنے موجودہ پیشے اور کام سے مطمئن ہیں۔
اظہر جاوید کے مطابق مرتضیٰ علی شاہ نے واضح کیا تھا کہ وہ کسی سیاسی عہدے کا حصہ نہیں بننا چاہتے اور اپنی صحافتی ذمہ داریاں جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی ترجیح سیاست میں آنے کے بجائے صحافت کو جاری رکھنا تھی، اسی وجہ سے انہوں نے نواز شریف کی مبینہ پیشکش قبول نہیں کی۔
اظہر جاوید نے اس گفتگو کے دوران نواز شریف کے اپنے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کو یاد رکھنے اور ان کا خیال رکھنے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے ناصر بٹ، زبیر گل، راشد نصراللہ اور قاصر کاظمی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ افراد ہیں جنہوں نے نواز شریف کے ساتھ کام کیا اور بعد میں سیاسی طور پر بھی فعال رہے۔
ان کے مطابق اگر مرتضیٰ علی شاہ اس وقت نواز شریف کی پیشکش قبول کر لیتے تو ممکن ہے کہ آج وہ آزاد کشمیر کے صدر ہوتے اور لندن میں صحافتی ذمہ داریاں انجام دینے کے بجائے ایک اہم سیاسی منصب پر فائز ہوتے۔
آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک اور صحافی مشتاق منہاس کا نام بھی اس حوالے سے سیاسی حلقوں میں زیر بحث آتا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مشتاق منہاس وزارتِ عظمیٰ کے خواہش مند تھے۔ اظہر جاوید نے اس تناظر میں ایک دلچسپ سیاسی امکان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر نواز شریف مشتاق منہاس کو وزیراعظم بنا دیتے اور مرتضیٰ علی شاہ بھی آزاد کشمیر کی صدارت کی پیشکش قبول کر لیتے تو خطے کے دونوں بڑے عہدے ایک ہی علاقے سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے پاس آ جاتے۔
تاہم خود اظہر جاوید نے بھی واضح کیا کہ یہ صورتحال زیادہ قرینِ قیاس نہیں تھی۔ بہرحال، ان کے اس انکشاف نے نواز شریف اور مرتضیٰ علی شاہ کے درمیان ہونے والی اس مبینہ گفتگو کو ایک بار پھر موضوعِ بحث بنا دیا ہے، جبکہ مرتضیٰ علی شاہ کی جانب سے اس پیشکش کو مذاق قرار دینا اس واقعے کا دوسرا اہم پہلو ہے۔
