میر رضا کیس،گواہی دینے والا ڈرائیور بے گھر کیسے ہوا؟

میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے ایک ایسا انسانی پہلو بھی سامنے آیا جس نے سماعت میں موجود افراد کو حیران کر دیا۔ مقتول میر رضا کو آخری سفر میں لے جانے والے آن لائن ٹیکسی ڈرائیور احسان اللہ نے کمیشن کے سامنے نہ صرف اس سفر کی تفصیلات بیان کیں بلکہ بتایا کہ کیس میں تعاون کرنے کی قیمت اسے اپنا روزگار اور گھر کھو کر چکانا پڑ رہی ہے۔ احسان اللہ کے مطابق واقعے کے بعد مکان مالک نے اسے گھر سے نکال دیا جبکہ کمپنی نے گاڑی بھی واپس لے لی، جس کے باعث وہ اس وقت تھانے میں رہنے پر مجبور ہے۔

احسان اللہ نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا نے گلستانِ جوہر جانے کی لوکیشن دی تھی، تاہم دورانِ سفر راستہ تبدیل کروایا اور اسے گاڑی تیز چلانے کو کہا۔ میر رضا نے کہا کہ وہ خود راستہ بتائے گا، جس پر ڈرائیور نے نقشہ دیکھنا چھوڑ کر اس کی ہدایت کے مطابق گاڑی چلائی۔ احسان اللہ کے مطابق میر رضا نے گاڑی کے نظام سے اپنا موبائل منسلک کرکے گانے چلائے اور چونکہ سڑک خالی تھی، اس لیے گاڑی تیز چلانے کو کہا۔ ڈرائیور نے بتایا کہ اس نے میر رضا کو صبح 4 بج کر 28 منٹ پر ایک سنسان مقام پر اتارا، جہاں پہنچنے کے قریب ہی اسے دوسری سواری بھی مل گئی تھی۔

کمیشن نے یہ بھی پوچھا کہ کیا میر رضا راستے میں کسی سے فون پر بات کر رہے تھے یا ڈرائیور سے کوئی گفتگو ہوئی؟ احسان اللہ نے بتایا کہ کوئی فون کال نہیں آئی، تاہم میر رضا موبائل استعمال کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ زیادہ بات چیت نہیں ہوئی کیونکہ اس وقت اس کے منہ میں تمباکو موجود تھا اور وہ بات نہیں کر سکتا تھا۔ ڈرائیور نے میر رضا کے سفر کے راستے سے متعلق نقشہ بھی کمیشن کے سامنے پیش کیا۔

احسان اللہ نے بتایا کہ واقعے کا علم ہونے کے بعد وہ خود میر رضا کے اہل خانہ کے غم میں شریک ہونے کے لیے ان کے گھر پہنچا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے میر رضا کے والد کو بھی یقین دلایا تھا کہ اگر کسی قسم کی ضرورت ہو تو وہ ہر وقت حاضر ہے۔ اس نے کمیشن کے سامنے کہا کہ وہ ایک غریب محنت کش ہے اور اس کی آمدنی سے ہی گھر کا چولہا جلتا ہے۔ اس نے اپنے بھائی کی حادثے میں موت کا بھی ذکر کیا، جو اس وقت پیش آیا جب وہ خود گاڑی چلا رہا تھا۔

تاہم احسان اللہ کے مطابق اس کے بعد حالات اس کے لیے مزید مشکل ہوگئے۔ مکان مالک نے اسے گھر سے نکال دیا جبکہ جس کمپنی کے لیے وہ گاڑی چلاتا تھا، اس نے بھی گاڑی واپس لے لی۔ اسے بتایا گیا کہ جب تک معاملہ حل نہیں ہوتا، نہ گاڑی واپس ملے گی اور نہ ہی کام دیا جائے گا۔ یوں کیس میں بطور گواہ تعاون کرنے والا یہ محنت کش بے روزگاری اور بے گھری کا شکار ہوگیا اور فیروز آباد تھانے میں رہنے پر مجبور ہے۔

جوڈیشل کمیشن نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ احسان اللہ اس مقدمے میں نہ مشتبہ شخص ہے اور نہ ہی ملزم، بلکہ اس نے میر رضا کی تلاش کے دوران ان کے اہل خانہ کی مدد کی اور ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے قانون کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ کمیشن نے تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری کو ہدایت کی کہ وہ گاڑی فراہم کرنے والی کمپنی اور مکان مالک سے رابطہ کرکے ان کے خدشات دور کریں اور انہیں یقین دلائیں کہ محض تفتیش میں تعاون کرنے کی بنیاد پر احسان اللہ کے خلاف کوئی جبری یا ناانصافی پر مبنی کارروائی نہیں ہوگی۔

احاطہ عدالت میں سماعت کے بعد ایک وکیل کی جانب سے احسان اللہ کو ملازمت کی پیشکش بھی کی گئی، تاہم یہ واقعہ اس بڑے سوال کو ضرور جنم دیتا ہے کہ اگر کسی کیس میں تعاون کرنے والے عام شہری کو ہی اپنے روزگار اور رہائش سے محروم ہونا پڑے تو مستقبل میں لوگ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتوں کے سامنے سچ بیان کرنے سے گریز نہیں کریں گے؟

میر رضا کیس کی تحقیقات اب صرف موت کے اصل حقائق تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس نے گواہوں کے تحفظ، عام شہریوں کے ساتھ ریاستی اور معاشرتی رویے اور انصاف کے عمل میں تعاون کرنے والوں کی ذمہ داری جیسے اہم سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ کمیشن کا اگلا اجلاس 7 ستمبر کو ہوگا، جہاں مزید گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے اور تحقیقات کا یہ پہلو بھی اہم رہے گا کہ احسان اللہ جیسے گواہوں کو تحفظ اور بنیادی سہولتیں کس طرح فراہم کی جاتی ہیں۔

Back to top button