مہاجرین کے بعد افغان طلبہ کو بھی ملک بدر کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کو بزور طاقت واپس انکے ملک بھجوانے کے بعد اب پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے افغان طلبا کو بھی انکے ملک واپس بھجوانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کے حوالے سے سامنے آنے والے فیصلے کے تحت بعض میڈیکل اداروں نے پہلے سے زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو ضروری دستاویزات جمع کرا کے کلیئرنس حاصل کرنے اور افغانستان واپس جانے کی ہدایت کردی ہے۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی ہدایات کے بعد پنجاب کے بعض بڑے طبی تعلیمی اداروں سمیت دیگر کالجز نے طلبہ کو اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیے ہیں، جس پر افغانستان نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادھر افغان سفارت خانے نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اس فیصلے سے ان طلبہ کی تعلیم، پیشہ ورانہ مستقبل اور کئی سال کی محنت متاثر ہوسکتی ہے جو قانونی طریقہ کار کے تحت پاکستان کے طبی اداروں میں داخل ہوئے اور اپنی تعلیم مکمل کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

افغان سفارت خانے نے پاکستانی تعلیمی حکام کے ساتھ ساتھ متعلقہ بین الاقوامی طبی، تعلیمی اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور انہیں بغیر غیر ضروری رکاوٹ اپنی تعلیم مکمل کرنے کا موقع دیا جائے۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے یکم ستمبر کو جاری مراسلے میں متعلقہ اداروں کو افغان طلبہ کی واپسی کے لیے انتظامی کارروائی مکمل کرنے اور انہیں افغانستان جانے میں سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کونسل کے مطابق موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان شہریوں کو میڈیکل اور ڈینٹل پروگرامز میں نئے داخلے نہیں دیے جائیں گے، جبکہ پلیسمنٹ، منتقلی یا ہجرت کے ذریعے داخلے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

تعلیمی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ افغان شہریوں کو اس حوالے سے غیر مجاز سہولت فراہم نہ کی جائے اور ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ پنجاب میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور علامہ اقبال میڈیکل کالج نے بھی 7 ستمبر کو افغان طلبہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 8 ستمبر تک مطلوبہ دستاویزات جمع کرا کے کلیئرنس حاصل کرنے اور افغانستان واپس جانے کی ہدایت کی۔ تاہم پی ایم ڈی سی کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پاکستان کے میڈیکل اور ڈینٹل اداروں میں اس وقت کتنے افغان طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور جو طلبہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے آخری مراحل میں ہیں، ان کے لیے کسی خصوصی رعایت یا استثنا کی گنجائش رکھی گئی ہے یا نہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے اور اسلام آباد کی جانب سے افغان شہریوں کی واپسی کا عمل بھی تیز کیا گیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی قومی سلامتی اور امیگریشن قوانین کے نفاذ کے لیے ضروری ہے، جبکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ماضی میں کمزور اور خطرے سے دوچار افغان شہریوں کی جبری واپسی پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق ستمبر 2023 سے 31 جولائی 2026 تک 26 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان سے افغانستان واپس جاچکے ہیں۔ تاہم میڈیکل طلبہ کا معاملہ اس اعتبار سے مختلف نوعیت رکھتا ہے کہ ان میں سے بہت سے افراد قانونی طریقہ کار کے تحت پاکستان کے تعلیمی اداروں میں داخل ہوئے اور کئی برس کی تعلیم اور مالی سرمایہ کاری کے بعد اپنی ڈگریاں مکمل کرنے کے مرحلے میں ہیں۔ اسی لیے ان کی واپسی کے فیصلے نے تعلیمی اور انسانی بنیادوں پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

اس معاملے کا ایک اہم پہلو پاکستان میں زیرِ تعلیم ان طلبہ کا مستقبل ہے جو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے قریب ہیں۔ اگر انہیں بھی فوری طور پر واپس جانے پر مجبور کیا جاتا ہے تو ان کے کئی سال کی تعلیم، مالی اخراجات اور پیشہ ورانہ منصوبہ بندی متاثر ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے میڈیکل تعلیم اور پیشہ ورانہ رجسٹریشن کے لیے مقررہ قواعد کی پابندی بھی ایک قانونی اور انتظامی تقاضا ہے۔

Back to top button