طالبان کے ڈرون حملے کاؤنٹر کرنے کے لیے کیا سٹریٹجی بنی ہے؟

تحریک طالبان کے دہشت گردوں کی جانب سے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کو ٹارگٹ کرنے کے لیے ڈرونز کے استعمال کو کاؤنٹر کرنے کے لیے جدید حکمتِ عملی کے تحت تیار کر رہی ہے۔ اس سٹریٹجی کے تحت پاکستان میں پہلا خصوصی انسانی ڈویژن قائم کر دیا گیا ہے، جہاں اہلکاروں کو ڈرون اڑانے، فضائی نگرانی، انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے، حساس تنصیبات کے تحفظ اور دشمن ڈرونز کے خلاف الیکٹرانک جنگ کی تربیت دی جا رہی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک اہم محاذ زمین سے اٹھ کر فضا تک پہنچ دیا گیا ہے اور پولیس کو اب روایتی انسدادِ دہشت گردی حربوں کے ساتھ ساتھ ڈرون وار فیئر سے نمٹنے کی صلاحیت بھی پیدا کرنا پڑ رہی ہے۔
خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق طالبان دہشت گردوں کی کارروائیاں اب روایتی حملوں، گوریلا کارروائیوں اور زمینی نقل و حرکت تک محدود نہیں رہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے سکیورٹی خطرات کی نوعیت تبدیل کر دی ہے۔ دہشت گرد کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے پولیس تنصیبات اور دیگر ممکنہ اہداف کی پہلے سے نگرانی کرتے ہیں اور حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی تنصیب کو نشانہ بنانے سے قبل دہشت گرد ڈرون کے ذریعے علاقے کی نگرانی کرتے ہیں۔
اس دوران وہ ہدف کے اطراف سکیورٹی انتظامات، اہلکاروں کی تعیناتی، آمدورفت اور دیگر اہم معلومات کا جائزہ لیتے ہیں، جس کے بعد حملے کے لیے موزوں وقت اور طریقہ کار طے کیا جاتا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران دہشت گردوں کی جنگی حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ پہلے شدت پسند بڑی حد تک سڑکوں، زمینی راستوں، گھات اور روایتی ہتھیاروں پر انحصار کرتے تھے، تاہم اب ڈرونز کو نگرانی کے علاوہ بارودی مواد یا گولہ بارود ہدف تک پہنچانے کے لیے بھی استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق دہشت گرد ایک سے زیادہ ڈرونز کو بیک وقت استعمال کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس نے سکیورٹی فورسز کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔
سکیورٹی حکام کے مطابق افغانستان سے امریکا اور اس کے اتحادی افواج کے انخلا کے بعد وہاں رہ جانے والے جدید آلات اور ٹیکنالوجی تک طالبان سے وابستہ دہشت گرد گروہوں کی رسائی نے ان کی تکنیکی صلاحیت میں اضافہ کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقامی دہشت گردی کا خطرہ ماضی میں اس سطح تک تکنیکی طور پر ترقی یافتہ نہیں تھا، تاہم اب اسے بیرونی افرادی قوت، مالی وسائل اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد حاصل ہے۔
حکام کے مطابق کواڈ کاپٹرز کے ذریعے نگرانی اور ہدف تک دھماکا خیز مواد پہنچانے کے لیے محض ڈرون کا حصول کافی نہیں بلکہ اس کے لیے مالی وسائل، تربیت، آپریٹنگ مہارت اور جدید تکنیکی معاونت بھی ضروری ہے۔ اسی بدلتے ہوئے خطرے کے پیش نظر خیبر پختونخوا پولیس نے ابتدائی طور پر اہلکاروں کو ہاتھ میں پکڑے جانے والے اینٹی ڈرون گنز فراہم کیں تاکہ مشکوک ڈرونز کو فوری طور پر ناکارہ بنایا جا سکے۔ تاہم ان ابتدائی اینٹی ڈرون گنز کی ایک بڑی حد یہ تھی کہ وہ بیک وقت صرف ایک ڈرون کو نشانہ بنا سکتی تھیں۔ پولیس کو اس صلاحیت سے ابتدائی طور پر کچھ برتری حاصل ہوئی، مگر دہشت گردوں نے بھی جلد اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرلی اور ایک ڈرون کے بجائے ایک ہی وقت میں متعدد ڈرونز استعمال کرنا شروع کر دیے۔
اس تکنیک کو ’سوارم اٹیک‘ swarm attack یعنی ڈرونز کے جھنڈ کے ذریعے حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ متعدد ڈرونز کے بیک وقت استعمال نے روایتی اینٹی ڈرون ہتھیاروں کی افادیت محدود کر دی، جس کے بعد خیبر پختونخوا پولیس نے زیادہ جدید اینٹی ڈرون سسٹمز نصب کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ نظام بیک وقت متعدد کواڈ کاپٹرز کا سراغ لگانے اور ان کے کنٹرول سگنلز کو جام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق صوبے کے مختلف علاقوں میں جدید اینٹی ڈرون سسٹمز کی تنصیب کے بعد کواڈ کاپٹر حملوں کے خطرے میں نمایاں کمی آئی ہے۔
تاہم پولیس نے اس چیلنج کا جواب صرف مشینری کے ذریعے دینے کے بجائے ایسی خصوصی افرادی قوت تیار کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جو ڈرون ٹیکنالوجی کو سمجھنے، چلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اسی مقصد کے لیے خیبر پختون خوا پولیس نے خصوصی یو اے وی ڈویژن قائم کیا ہے، جس کے اہلکاروں کو ڈرون آپریشن، فضائی نگرانی، انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے، حساس تنصیبات کی نگرانی اور دشمن ڈرونز کے خلاف الیکٹرانک وار فیئر کی تربیت دی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملک میں کسی پولیس محکمے کی جانب سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا خصوصی انسانی ڈویژن ہے جو ڈرون جنگ کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم کرے گا۔
پولیس نے پشاور میں ایک خصوصی ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جہاں صوبے میں موجود یا مشکوک کواڈ کاپٹرز سے متعلق معلومات حقیقی وقت میں حاصل اور تجزیہ کی جائیں گی۔ اس مرکز کا مقصد مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور ممکنہ ڈرون خطرے کی صورت میں فوری جوابی کارروائی کو مربوط کرنا ہے۔ خیبر پختون خوا کے پولیس چیف ذوالفقار حمید کے مطابق جنگ کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور آج پولیس کو جس خطرے کا سامنا ہے وہ دو برس قبل درپیش خطرے سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا حصول اپنی جگہ اہم ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے تربیت یافتہ انسانی آپریٹرز بھی ناگزیر ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق صوبے بھر میں پولیس کو نگرانی کے لیے ڈرونز فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ عام پولیس کے علاوہ محکمہ انسدادِ دہشت گردی کو بھی زیادہ جدید اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے ڈرونز فراہم کیے جائیں گے۔ یہ ڈرونز زیادہ بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی استعمال کیے جائیں گے۔
پولیس چیف کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ٹیکنالوجی کے میدان میں پیش رفت کے سوا کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں، کیونکہ دہشت گرد خود جدید ذرائع اور ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سکیورٹی اداروں کو دہشت گردوں سے ایک قدم آگے رہنے کے لیے مسلسل اپنی تکنیکی اور انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔
