یاسین ملک اور مشعال کی محبت اور جدائی کی کہانی

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک کی جانب سے اپنی اہلیہ مشعال ملک کو نکاح کے بندھن سے آزاد کرنے کے فیصلے کو نہ تو ان کی اہلیہ نے تسلیم کیا ہے اور نہ ہی ان کی بیٹی نے لہٰذا اس ایشو پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو پایا۔ دونوں کی داستان محبت کا آغاز دو دہائیاں قبل ہوا تھا۔
یاد ریے کہ جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے یاسین ملک اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی مشعال حسین ملک کی شادی فروری 2009 میں ہوئی تھی، لیکن دونوں کی مجموعی ازدواجی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ گزارا جانے والا وقت انتہائی مختصر رہا۔ اب یاسین ملک کے حالیہ بیانِ حلفی میں اپنی اہلیہ کو رفاقت سے آزاد کرنے کے اعلان نے اس شادی کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یاسین ملک اور مشعال کی کہانی روایتی طے شدہ شادی کے بجائے ایک ایسے تعلق سے شروع ہوئی جسے محبت کی شادی قرار دیا گیا تھا۔ دونوں کی پہلی ملاقات 2005 میں ہوئی، جب یاسین ملک پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔ اس دوران مشعال حسین ان کی شخصیت، خیالات اور کشمیر کے بارے میں ان کے مؤقف سے متاثر ہوئیں۔ بعد ازاں دونوں کے درمیان رابطہ بڑھا اور یہ تعلق باقاعدہ محبت میں تبدیل ہوگیا۔
دونوں کے درمیان کئی برس تک رابطہ رہا اور جس کے بعد شادی کا فیصلہ ہوا۔ 24 اکتوبر 2008 کو انکی منگنی ہوئی اور چند ماہ بعد 22 فروری 2009 کو راولپنڈی میں یاسین ملک اور مشعال حسین کا نکاح ہوگیا۔ شادی میں سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ تب بھارتی میڈیا نے مشعال کو یاسین ملک کی پاکستانی گرل فرینڈ قرار دیتے ہوئے ان کی شادی کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک نمایاں سرحد پار شادی کے طور پر رپورٹ کیا تھا۔ مشعال ملک عمر میں یاسین ملک سے تقریباً دو دہائیاں چھوٹی تھیں، تاہم عمر کا یہ فرق ان کے تعلق کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا۔ شادی کے بعد مشعال سری نگر گئیں اور کچھ عرصہ یاسین ملک کے ساتھ رہیں۔ تاہم یاسین ملک کی سیاسی سرگرمیوں، گرفتاریوں اور مسلسل قانونی مشکلات کے باعث دونوں میاں بیوی کو معمول کی ازدواجی زندگی گزارنے کا موقع بہت کم ملا۔
فروری 2009 میں شادی کے بعد تقریباً ایک دہائی کے دوران یاسین ملک اور مشعال ملک محض دو ماہ ہی اکٹھے رہ سکے۔ یعنی جس رشتے کا آغاز محبت اور شادی کے ذریعے ہوا، اس کی عملی ازدواجی زندگی کا بڑا حصہ دونوں کی مسلسل جدائی میں گزرا۔ اسی دوران مارچ 2012 میں اس جوڑے کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام رضیہ سلطانہ رکھا گیا۔ رضیہ کی پیدائش تب ہوئی جب یاسین ملک اور مشعال ملک پہلے ہی ایک انتہائی غیر معمولی ازدواجی زندگی گزار رہے تھے۔ دونوں کی بیٹی رضیہ سلطانہ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ والد سے دور گزارا ہے کیونکہ وہ کئی برسوں سے مسلسل بھارتی حکومت کی قید میں ہیں اور تہاڑ جیل میں بند ہیں۔
مشعال ملک نے یاسین ملک کی گرفتاری اور قید کے دوران مسلسل ان کی رہائی کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ وہ پاکستان میں رہتے ہوئے یاسین ملک کے مقدمات، قید اور کشمیر کے معاملے پر اپنا مؤقف پیش کرتی رہیں جبکہ رضیہ سلطانہ بھی اپنی والدہ کے ساتھ مل کر اپنے والد کے حق میں آواز اٹھاتی رہیلتی ہیں۔ اس رشتے میں ایک نیا اور انتہائی حساس موڑ حال ہی میں تب آیا جب یاسین ملک نے سرینگر کی ایک عدالت میں جمع کرائے گئے 25 صفحات کے بیانِ حلفی میں اپنے خلاف کیسز کا مزید دفاع نہ کرنے اور عدالت سے اپنے لیے سزائے موت طلب کرنے کا اعلان کیا۔ اسی بیان حلفی میں انہوں نے اپنی اہلیہ مشعال ملک اور بیٹی رضیہ سلطانہ کا بھی ذکر کیا اور مشعال کو ازدواجی رفاقت سے آزاد کرنے کا اعلان کیا۔
یاسین ملک کے مؤقف کے مطابق ان کی طویل قید، مستقبل کی غیر یقینی صورت حال اور اپنی زندگی کو لاحق خطرے کے باعث وہ نہیں چاہتے کہ مشعال ملک اپنی پوری زندگی ان کے انتظار میں گزاریں۔ بیان حلفی میں انہوں نے اپنی اہلیہ کے لیے نئی زندگی شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس طرح ان کے اعلان کو محض طلاق کے ایک قانونی معاملے کے بجائے اپنی اہلیہ کو طویل انتظار اور ممکنہ بیوگی سے بچانے کے فیصلے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ لیکن یاسین ملک کے فیصلے نے تاہم مشعال ملک اور ان کی بیٹی رضیہ سلطانہ کو شدید جذباتی صدمے سے دوچار کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مشعال نے بیان حلفی پڑھنے کے بعد شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ عمر کا فرق ان کے لیے کبھی اہم نہیں رہا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر یاسین ملک ان سے 100 سال بھی بڑے ہوتے تو انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
سب سے زیادہ جذباتی ردعمل یاسین ملک کی 13 سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ کی جانب سے سامنے آیا۔ رضیہ نے اپنے والد کے نام ایک جذباتی پیغام میں کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کے والد اپنی اہلیہ کو ان سے الگ کرنے کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کی والدہ نے یاسین ملک کی قید اور مشکلات کے باوجود ان کا ساتھ نہیں چھوڑا، اس لیے اب انہیں رفاقت سے آزاد کرنے کا فیصلہ ان کے لیے ناقابل قبول ہے۔ رضیہ سلطانہ نے اپنے والد سے اپیل کی کہ وہ موت کو قبول کرنے یا اپنے خاندان سے دستبردار ہونے کے بجائے حالات کا مقابلہ کریں۔
انہوں نے اپنے والد کو یاد دلایا کہ ان کی اہلیہ اور بیٹی اب بھی ان کے ساتھ کھڑی ہیں اور وہ تنہائی میں کوئی ایسا فیصلہ نہ کریں جس سے خاندان ہمیشہ کے لیے بکھر جائے۔ رپورٹس میں رضیہ کے انتہائی جذباتی ردعمل میں خود کو نقصان پہنچانے کی دھمکی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جسے ایک کم عمر بیٹی کی شدید جذباتی کیفیت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے یاسین ملک کے بیان حلفی کے بعد مشعال ملک اور رضیہ سلطانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی نے یاسین ملک کے بیان حلفی کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی رہائی کے لیے عالمی مہم مزید تیز کرنے کا اعلان کیا اور عالمی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے ان کی زندگی اور رہائی کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ یوں یاسین ملک اور مشعال ملک کی 17 سالہ ازدواجی کہانی کو ایک غیر معمولی انجام کا سامنا ہے۔
