کیا ریفرنڈم کے ذریعے نئے صوبے بنانا آئینی طور پر ممکن ہے؟

نئے صوبوں کے قیام اور ملک کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ریفرنڈم کا راستہ اختیار کرنے کی تجویز تو سامنے آ چکی ہے لیکن آئینی طور پر ایسا کرنا کافی مشکل دکھائی دیتا ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو ناگزیر قرار دینے اور ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی رائے جاننے کا اشارہ اس معاملے کو مزید اہم بنا رہا ہے، تاہم آئینی ماہرین کے مطابق محض ریفرنڈم کسی موجودہ صوبے کی حدود تبدیل کرکے نیا صوبہ قائم کرنے کا متبادل آئینی طریقہ نہیں بن سکتا۔
پاکستان کے آئین میں صوبے کی حدود تبدیل کرنے اور نئے صوبے کے قیام کا واضح طریقہ موجود ہے۔

آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت ایسی آئینی ترمیم جس سے کسی صوبے کی حدود متاثر ہوں، اسے صدر کے سامنے پیش کرنے سے پہلے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ارکان کی منظوری ضروری ہے۔ اس کے علاوہ آئینی ترمیم کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی صوبے کو تقسیم کرکے نیا صوبہ بنانے کا فیصلہ براہ راست وفاقی حکومت، کسی وفاقی وزیر یا ریفرنڈم کے ذریعے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔

آئین نے اس اختیار کو منتخب ایوانوں کے ذریعے استعمال کرنے کا طریقہ متعین کیا ہے تاکہ کسی صوبے کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت میں بنیادی تبدیلی عوام کے منتخب نمائندوں کی آئینی منظوری کے بغیر نہ کی جا سکے۔
ریفرنڈم کے حوالے سے آئین کا آرٹیکل اڑتالیس چھ 48(6) وزیراعظم کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر وہ کسی قومی اہمیت کے معاملے پر ریفرنڈم ضروری سمجھیں تو معاملہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں لے جائیں۔ مشترکہ اجلاس سے منظوری کے بعد وزیراعظم اس معاملے کو ایسے سوال کی صورت میں ریفرنڈم کے لیے پیش کر سکتے ہیں جس کا جواب ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ میں دیا جا سکے۔

تاہم آرٹیکل اڑتالیس چھ 48(6) کو آرٹیکل 239 کے متبادل کے طور پر استعمال کرنا ایک بنیادی آئینی سوال پیدا کرے گا۔ ریفرنڈم میں عوام کی رائے حاصل کرلینا اپنی جگہ، لیکن اگر اس رائے کے نتیجے میں کسی موجودہ صوبے کی حدود تبدیل کرنا مقصود ہو تو اس مقصد کے لیے آئین میں درج مخصوص طریقہ ختم نہیں ہو جاتا۔چنانچہ ریفرنڈم کو زیادہ سے زیادہ عوامی رائے جاننے کا ذریعہ تو سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اسے صوبائی اسمبلی اور پارلیمان کی آئینی منظوری کا متبادل قرار دینا ممکن نہیں ہو گا۔

موجودہ صورتحال میں بنیادی سوال یہی ہے کہ انتظامی اصلاحات کے نام پر جس منصوبے کی بات کی جا رہی ہے، اس کے پیچھے اصل مقصد کیا ہے اور آیا اس میں نئے صوبوں کا قیام بھی شامل ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیانات سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ طاقتور فوجی حلقے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی چاہتے ہیں، جبکہ اس منصوبے کی مکمل تفصیلات اب تک واضح نہیں کی گئیں۔
اس معاملے نے حکمران اتحاد کے اندر بھی اختلافات پیدا کر دیے ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم یا سندھ میں نئے صوبے کے قیام کی کسی بھی کوشش کے خلاف واضح طور پر سامنے آچکی ہے، جبکہ سندھ اسمبلی کی قرارداد نے بھی انتظامی اصلاحات کے نام پر صوبے کی تقسیم کی مخالفت کی ہے۔ اس صورتحال میں کسی نئے صوبے کے قیام کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ایک انتہائی مشکل سیاسی مرحلہ ہوگا۔

پنجاب کے معاملے میں بھی صورتحال کم پیچیدہ نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کا سیاسی مرکز پنجاب ہے اور اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ آیا پارٹی کی قیادت صوبے کی تقسیم کے کسی منصوبے کی مکمل حمایت کرے گی۔ دوسری جانب تحریک انصاف بھی کسی ایسے منصوبے کی حمایت کرنے سے گریزاں دکھائی دیتی ہے جسے وہ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے مسلط کردہ اقدام تصور کرے۔ یوں پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت کا حصول ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں ریفرنڈم کا راستہ طاقتور حلقوں کے لیے بظاہر ایک سیاسی راستے کے طور پر سامنے آسکتا ہے، کیونکہ آئین کا آرٹیکل اڑتالیس چھ 48(6) قومی اہمیت کے معاملے پر اس کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ لیکن ایسا ریفرنڈم اگر نئے صوبوں کے قیام کے لیے منتخب ایوانوں میں موجود آئینی رکاوٹوں کو عبور کرنے کے مقصد سے استعمال کیا گیا تو اس کے نتیجے میں آئینی اختیار، پارلیمانی بالادستی اور صوبائی خودمختاری کے بارے میں سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعظم شہباز شریف فوجی دباؤ کے تحت نئے صوبوں کے قیام کے معاملے کو ریفرنڈم کی طرف لے جانے کی کوشش کرتے ہیں تو صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کی پوزیشن اس عمل میں اہم سیاسی رکاوٹ بن سکتی ہے خصوصاً سندھ کی تقسیم کے معاملے پر۔ تاہم یہ کہنا کہ صدر زرداری ریفرنڈم یا کسی آئینی ترمیم کو دستخط نہ کرکے ہمیشہ کے لیے روک سکتے ہیں، موجودہ آئینی متن کی مکمل ترجمانی نہیں؛ صدر کے صدارتی مرحلے سے متعلق اختیارات بھی آئین کے مقررہ طریقۂ کار کے تابع ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم سے نئے صوبوں کا راستہ نکالنے کی کوشش کا ایک بڑا نقصان یہ ہوگا کہ اس سے پہلے ہی متنازع سیاسی ماحول مزید تقسیم کا شکار ہوسکتا ہے۔ سندھ میں صوبائی خودمختاری اور تقسیم کے خلاف ردعمل، پنجاب میں سیاسی مفادات اور خیبر پختونخوا میں ممکنہ مزاحمت مل کر ایسا سیاسی بحران پیدا کرسکتے ہیں جس میں انتظامی اصلاحات کا بنیادی مقصد پس منظر میں چلا جائے گا۔
پاکستان کی تاریخ بھی اس حوالے سے ایک اہم سبق فراہم کرتی ہے۔ ماضی میں فوجی حکمرانوں کی جانب سے ریفرنڈم کو سیاسی جواز حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے جانے کی مثالیں موجود ہیں۔ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار کے ریفرنڈمز آج بھی اس بحث کا حصہ ہیں کہ آیا ریفرنڈم حقیقی عوامی مینڈیٹ کا اظہار تھا یا پہلے سے طے شدہ سیاسی فیصلوں کو عوامی تائید کا رنگ دینے کی کوشش۔ اسی لیے نئے صوبوں جیسے بنیادی آئینی معاملے پر ریفرنڈم کرانے کی کوشش سیاسی اعتماد کو مزید متاثر کرسکتی ہے۔

Back to top button