بشریٰ کی رہائی کے بعد عمران کی رہائی کے لیے بھی ڈیل کی کوشش

مقتدر حلقوں سے صف آراء ہوکر بند گلی میں پہنچنے والی تحریک انصاف نے ایک بار پھر مذاکرات کا ڈھول گلے میں ڈال کر ڈیل کیلئے ترلے منتیں شروع کر دی ہیں۔ ڈیل کے تحت بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی رہائی کے بعد تحریک انصاف یوتھیوں کے سامنے عمران خان کی جلد رہائی کے دعوے کرتی دکھائی دیتی ہے ۔
تاہم مبصرین کے مطابق عمران خان کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ریڈ لائن کراس کرنے کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے امکانات معدوم ہیں اور عمران خان بارے حکومت اوراسٹیبلشمنٹ تو ایک طرف ان کے قریبی رفقاء بھی گارنٹی دینے سے انکاری ہیں۔ جس کے بعد عمران خان آنے والے چند مہینوں تک جیل سے باہر آتے دکھائی نہیں دیتے۔
پی ٹی آئی ڈیل روڈ استعمال کرے گی،عادل شاہ
سینئر صحافی عادل شاہ زیب کے لگتا ہے پی ٹی آئی کی قیادت انقلاب چوک تک پہنچنے کے لیے ڈیل روڈ کو استعمال میں لانے پر مکمل رضامند ہو چکی ہے۔کیونکہ تحریک انصاف کی لیڈر شپ کو بھی اب باقی سب رستوں پر کنٹیرز ہی کنٹینرز لگے دکھائی دینا شروع ہو گئے ہیں۔
عاد ل شاہ زیب کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم سے پہلے پی ٹی آئی کی طرف سے چیف جسٹس کی تعیناتی بارے بڑے بڑے دعوے کرتے ہوئے ملک بند کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں تاہم آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد پی ٹی آئی کی ہوا نکل گئی۔
بشریٰ بی بی کی رہائی،معاملہ مشکوک
عادل شاہ زیب کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے آئینی ترامیم کے لیے مذاکرات سے ووٹنگ تک اور احتجاج کے اعلان سے حلف برداری میں شرکت تک تمام معاملات فکسڈ اور طے شدہ معلوم ہوتے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ آئینی ترمیم کے منظوری کے ساتھ ہی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بیگم بھی آخرکار ضمانت پا کر رہا ہو جاتی ہیں۔جو اب نہ صرف خیبر پختونخوا کی حکومت بلکہ پارٹی کے معاملات وزیر اعلیٰ ہاؤس کی انیکسی میں رہتے ہوئے خاموشی کے ساتھ اسی بھرپور انداز سے چلائیں گی، جس انداز میں پنجاب میں عثمان بزدار کی حکومت چلائی گئی تھی۔
وزرا بھی بدعنوانی کی نشاندہی کرچکے،لکھاری
عادل شاہ زیب کے بقول تحریک انصاف کے کم از کم سات ارکان صوبائی اسمبلی بذات خود بتا چکے ہیں کہصوبے میں ہر کام کے پیسے فکس ہو چکے ہیں۔ ارکان صوبائی اسمبلی حتیٰ کہ وزرا تک کو بغیر پیسے دیے اپنے کام کروانا ممکن نہیں رہا۔
ان اراکین اسمبلی کے بقول سابق صوبائی وزیر شکیل خان نے عمران خان سے ملاقات میں بدعنوانی کی بالکل درست نشاندہی کی تھی۔لیکن ’پھر وزیر اعلیٰ علی امین نے عمران خان سے مل کر بدعنوانی کا ایسے دفاع کیا کہ احتجاج اور جلسوں پر کروڑوں کے خرچے آتے ہیں۔ میں وہ جیب سے تو نہیں ادا کر سکتا۔‘’اس ملاقات کے بعد بدعنوانی کی شکایت کرنے والے وزیر شکیل خان کو کابینہ سے فارغ کر دیا گیا۔
امن وامان کی صورتحال خراب قرار
عادل شاہ زیب کے مطابق جہاں ایک طرف خیبرپختونخواہ میں ام و امن کی صورتحال یہ ہے کہ صوبے کے 8 بڑے اضلاع میں پولیس کی عمل داری تقریباً ختم ہو چکی ہے وہاں کی حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی میں بڑھتی ہوئی بے۔
چینی تحریک انصاف کی تقسیم شدہ قیادت کے لیے یقیناً اچھی خبر نہیں۔‘ نہ صرف صوبے میں تحریک انصاف میں انتشار دکھائی دیتا ہے بلکہ مرکز میں بھی اگر دیکھا جائے تو بیرسٹر گوہر، حامد خان، سردار لطیف کھوسہ اور ایک درجن دوسرے رہنما اپنی الگ الگ سیاست کر رہے ہیں۔ایسے میں وہ کارکن جو ماریں کھا کھا کر ڈی چوک پہنچتے ہیں۔ قیادت کے غائب ہونے پر کافی مایوس ہو چکے ہیں۔
عادل شاہ زیب کا مزید کہنا ہے کہ پارٹی میں انتشار اور کارکنان کی مایوسی کو دیکھتے ہوئے ہی تحریک انصاف کی قیادت نے ڈیل روڈ کے ذریعے انقلاب چوک پہنچنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اگلے مرحلے میں انقلاب چوک سے وزیر اعظم ہاؤس تک پہنچا جا سکے جس کے فی الحال دور دور تک کوئی امکانات نہیں۔
