اتحادی جماعتیں نئے صوبوں پر فوج کو ناراض کرنے سے گریزاں

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کو موجودہ سیاسی حالات میں ایک حساس اور متنازع معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران اتحاد کی دونوں بڑی جماعتیں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی، اس معاملے پر انتہائی محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کی جانب سے جذباتی ردعمل فوجی قیادت کے ساتھ کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔
سہیل وڑائچ نے یہ خیالات روزنامہ جنگ میں شائع اپنے تجزیے میں ظاہر کیے، جس میں انہوں نے نئے صوبوں کی تجویز کے سیاسی، انتظامی اور آئینی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے خصوصی طور پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی ممکنہ سیاسی حکمت عملی اور ردعمل کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ دونوں جماعتیں گزشتہ چار دہائیوں میں اقتدار، اپوزیشن، جیلوں، مقدمات، سیاسی بحرانوں اور اقتدار سے محرومی جیسے تلخ تجربات سے گزر چکی ہیں، اسی لیے وہ اب جذباتی سیاست کے بجائے محتاط اور حقیقت پسندانہ طرزِ عمل کو ترجیح دیتی ہیں۔ ان کے مطابق سیاست میں صرف مقبولیت یا عزت ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی بلکہ اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے تدبر، برداشت، مفاہمت اور حالات کے مطابق فیصلے کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عملی سیاست میں تعلقات اور جذبات سے زیادہ اہمیت طاقت کے توازن اور سیاسی حقیقت پسندی کو حاصل ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ حکمران اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں نے محسن نقوی کی تجویز پر فوری اور جارحانہ ردعمل دینے سے گریز کیا۔ سہیل وڑائچ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ نئے صوبوں کا معاملہ محض انتظامی تقسیم کا سوال نہیں بلکہ ایک نہایت حساس سیاسی اور آئینی مسئلہ ہے، جس کے ساتھ لسانی، ثقافتی اور علاقائی شناختوں کے معاملات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے معاملات پر جلد بازی یا یکطرفہ فیصلے نئے سیاسی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، اس لیے انہیں صرف وسیع قومی اتفاقِ رائے کے ذریعے ہی آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جنوبی پنجاب سمیت مختلف علاقوں میں نئے صوبوں کے مطالبات کئی دہائیوں سے موجود ہیں، تاہم اگر صرف ایک خطے کو صوبے کا درجہ دیا گیا تو دوسرے علاقوں میں بھی اسی نوعیت کے مطالبات شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورت حال سے ملک کے مختلف حصوں میں نئی سیاسی کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے اس معاملے کو انتہائی احتیاط سے نمٹانے کی ضرورت ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت اس تجویز کو موجودہ حالات میں سیاسی طور پر موزوں نہیں سمجھتی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ انتظامی اصلاحات اور بہتر طرز حکمرانی کی ضرورت اپنی جگہ مسلمہ حقیقت ہے، تاہم ملک اس وقت پہلے ہی مختلف سیاسی، معاشی اور سکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے، لہٰذا نئے صوبوں جیسے حساس معاملے کو چھیڑنا مزید تنازعات پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے ایک تصوراتی مشاورت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ وزیراعظم شہباز شریف ممکنہ طور پر یہ مؤقف اختیار کرتے کہ ریاستی ادارے بہتر انتظامی نظام کے لیے نئے انتظامی یونٹس کی حمایت کر سکتے ہیں، تاہم اس نوعیت کی کسی بھی تجویز کو آگے بڑھانے سے قبل تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لینا اور قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ناگزیر ہوگا۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اس تصوراتی مشاورت میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے سب سے اہم سوال یہ اٹھایا گیا ہوگا کہ اتنے اہم اور حساس معاملے پر مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو پہلے اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔ ان کے مطابق پارٹی قیادت یہ محسوس کرتی ہوگی کہ جب سیاسی حالات نسبتاً متوازن تھے تو اچانک ایسا اعلان کرکے غیر ضروری سیاسی بحران پیدا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ انکے اندازے کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اس معاملے پر زیادہ محتاط رائے رکھتے ہوں گے۔ ان کے بقول خیبر پختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر پہلے ہی مختلف سیاسی اور سکیورٹی بحرانوں سے گزر رہے ہیں، لہٰذا سندھ اور پنجاب جیسے نسبتاً پُرسکون صوبوں میں بھی ایک نئے تنازع کو جنم دینا دانشمندی نہیں ہوگی۔ اسی طرح ان کے خیال میں نواز شریف بھی فوری محاذ آرائی کے بجائے مکمل مشاورت اور تدبر کے ساتھ آگے بڑھنے کو ترجیح دیتے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی مجموعی حکمت عملی یہی ہوگی کہ محسن نقوی کی تجویز پر عوامی سطح پر سخت مؤقف اختیار کرنے کے بجائے خاموش سفارت کاری، باہمی مشاورت اور سیاسی رابطوں کے ذریعے معاملے کو حل کیا جائے تاکہ حکمران اتحاد اور ریاستی اداروں کے درمیان کسی نئی کشیدگی سے بچا جا سکے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کے ممکنہ ردعمل کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا۔ ان کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان بھی اس معاملے پر سنجیدہ مشاورت ہوئی ہوگی کیونکہ نئے صوبوں کا معاملہ خصوصاً سندھ کی سیاست سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق صدر زرداری ممکنہ طور پر اس بات پر حیران ہوئے ہوں گے کہ محسن نقوی سے ملاقات کے باوجود انہیں اس اہم اعلان سے پہلے آگاہ نہیں کیا گیا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ اہم اتحادی جماعت کو مکمل اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
ان کے مطابق بلاول بھٹو اس معاملے کو زیادہ سیاسی زاویے سے دیکھتے ہوں گے اور انہیں خدشہ ہوگا کہ نئے صوبوں کی بحث سندھ میں پیپلز پارٹی کے سیاسی مفادات اور عوامی حمایت کو متاثر کر سکتی ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق صدر زرداری کا ممکنہ مؤقف یہ ہوسکتا ہے کہ ایسے حساس حالات میں جذباتی ردعمل کے بجائے تحمل، سیاسی حکمت عملی، مذاکرات اور مفاہمت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ سہیل وڑائچ نے زور دیا کہ اگر واقعی مقصد بہتر طرز حکمرانی ہے تو سب سے پہلے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور صوبائی انتظامی اصلاحات پر توجہ دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کی تشکیل کوئی سادہ انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ آئینی تقاضوں، پارلیمانی منظوری اور متعلقہ صوبوں کے اتفاقِ رائے سے مشروط ایک پیچیدہ قومی معاملہ ہے، اس لیے اسے صرف سیاسی بیان بازی کے ذریعے آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کی جانب سے نئے صوبوں کی تجویز نے حکمران اتحاد کے اندر کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے کھل کر محاذ آرائی سے گریز کیا ہے، تاہم دونوں جماعتوں کے اندر اس تجویز کے سیاسی مضمرات پر سنجیدہ غور و فکر جاری ہے۔ ان کے مطابق مجموعی صورت حال یہ ظاہر کرتی ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ محض انتظامی اصلاحات کا نہیں بلکہ ایک نہایت حساس سیاسی اور آئینی مسئلہ بن چکا ہے، جس پر کسی جلد بازی کے بجائے وسیع قومی مشاورت، پارلیمانی اتفاقِ رائے اور حالات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کوئی پیش رفت کی جا سکتی ہے۔
