مولانا فضل کو کردار کشی کی مہم سے فرق کیوں نہیں پڑے گا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے فوج پر تنقیدی تقریر کے بعد ان کے خلاف سوشل میڈیا پر کردار کشی کی مہم چلانے والوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ گالم گلوچ، الزامات اور تضحیک آمیز مہمات سے نہ کوئی سیاست دان اپنی رائے تبدیل کرتا ہے اور نہ ہی اس کے حامی اپنی سوچ بدلتے ہیں۔ ان کے بقول آرا دلائل، شواہد اور مخلصانہ نصیحت سے تبدیل ہوتی ہیں، جبکہ کردار کشی کی مہمات چلانے والوں کو وقتی تسکین تو مل سکتی ہے لیکن ان کا ہدف بننے والے افراد پر اس کا کوئی عملی اثر نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے جتنے کارکن اور حامی کل تھے، آج بھی اتنے ہی ہیں اور ان کی سیاسی حیثیت اور اثر و رسوخ میں بھی کوئی فرق نہیں آیا۔

سلیم صافی نے روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو عموماً مصالحت، سیاسی جوڑ توڑ، اتحاد سازی اور مفاہمت کی سیاست کے حوالے سے جانا جاتا ہے، تاہم ان کی شخصیت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق مولانا نے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز جیل سے کیا، اس وقت ان کے مقابلے میں علمائے کرام کے بڑے بڑے نام موجود تھے، مگر انہوں نے کم عمری میں ہی اپنی قیادت کا لوہا منوایا اور علما کی ایک بڑی تعداد کو اپنی قیادت پر متحد کر لیا۔ آج وہ ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ مولانا فضل الرحمن غیر معمولی حد تک جرات مند سیاست دان ہیں۔ ان پر چار خودکش حملے ہو چکے ہیں جن میں وہ بال بال بچے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے عوامی رابطہ مہم یا سیاسی سرگرمیاں ترک نہیں کیں۔ اگر کسی دوسرے رہنما کو اس نوعیت کے مسلسل خطرات لاحق ہوتے تو شاید وہ عوامی اجتماعات سے گریز کرتا، مگر مولانا خیبر پختونخوا سے بلوچستان اور پنجاب سے سندھ تک مسلسل عوامی جلسوں سے خطاب کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مولانا سیاسی مفاہمت اور جوڑ توڑ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، تاہم جب کسی مؤقف پر ڈٹ جائیں تو پھر ثابت قدمی سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں وہ ایم آر ڈی تحریک کا حصہ رہے جبکہ عمران خان کے دور حکومت میں انہوں نے تنہا اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ اسی طرح وہ مدارس اور مذہبی طبقے کے مفادات کے محافظ ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی دوستی اور مخالفت دونوں کو نبھانے کا ہنر بھی رکھتے ہیں۔

سلیم صافی کے مطابق مولانا فضل الرحمن اس وقت بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے نالاں ہیں، حالانکہ ان کے سب سے بڑے سیاسی مخالف عمران خان جیل میں ہیں۔ ان کے بقول اس ناراضی کی متعدد وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ مولانا کے آبائی گاؤں اور ان کے زیر اثر علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے، جسے مولانا اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مولانا کا مؤقف ہے کہ گزشتہ انتخابات میں انہیں شکست دلانے کے لیے مداخلت کی گئی۔ سلیم صافی نے لکھا کہ وہ ذاتی طور پر اس رائے سے اتفاق نہیں رکھتے اور ان کے نزدیک یہ بات قابل یقین نہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مولانا کو ہرا کر پی ٹی آئی کو کامیاب کرایا ہو، تاہم مولانا کے اپنے دلائل ہیں اور وہ اس مؤقف پر قائم ہیں کہ انتخابات میں ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔

تجزیہ نگار کے مطابق مولانا یہ بھی سمجھتے ہیں کہ انہوں نے شعوری طور پر خود کو عسکریت پسند تنظیموں کا اولین ہدف بنایا اور اسی بنیاد پر ریاست کو ان کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیے۔ ان کے بقول مولانا کا استدلال ہے کہ ان کے ساتھ وابستہ افراد کی بڑی تعداد نظریاتی اعتبار سے انہی مذہبی رجحانات کی حامل ہے جن کی نمائندگی ٹی ٹی پی کرتی ہے، لیکن انہوں نے ان لوگوں کو پاکستان، آئین اور پارلیمانی نظام سے جوڑے رکھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مدارس سے وابستہ ایک بڑی قوت عسکریت پسندوں کے ساتھ جا سکتی تھی، جس کے نتائج ریاست کے لیے نہایت سنگین ہوتے۔ اسی وجہ سے ٹی ٹی پی اور داعش سے وابستہ عناصر مولانا کو اپنے نظریاتی راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں اور ان پر خودکش حملے کرتے رہے ہیں۔

سلیم صافی نے لکھا کہ اگرچہ عسکریت پسند اور مولانا ظاہری طور پر داڑھی اور پگڑی جیسی مذہبی علامات میں مشترک دکھائی دیتے ہیں، لیکن جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ کے حوالے سے دونوں کے نظریات ایک دوسرے کی ضد ہیں، اسی لیے شدت پسند عناصر بغیر داڑھی والے سیاست دانوں کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن کو زیادہ بڑا ہدف تصور کرتے ہیں۔ انکے مطابق چند روز قبل پنجاب میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمن نے اسی پس منظر میں فوجی اسٹیبلشمنٹ سے اپنے شکوے شکایات کا اظہار کیا اور اس کے کردار پر تنقید بھی کی۔ تاہم تقریر کے تسلسل میں ان کی زبان سے شہدائے وطن کے بارے میں بعض ایسے الفاظ ادا ہوئے جو مناسب نہیں تھے۔ سلیم صافی کا خیال ہے کہ اگر مولانا وہ جملے ادا نہ کرتے تو بہتر ہوتا، لیکن اس کے بعد جس انداز سے ردعمل سامنے آیا، وہ بھی انتہائی افسوس ناک تھا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف ایسے افراد کو میدان میں اتارا گیا جن کی معاشرے میں کوئی خاص حیثیت نہیں۔ بعض نے انہیں نہایت گھٹیا القابات سے نوازا جبکہ سوشل میڈیا پر مخصوص اکاؤنٹس کے ذریعے بدزبانی اور مغلظات کی انتہا کر دی گئی۔ یہاں تک تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مولانا کا ملکی سیاست میں کوئی مثبت کردار نہیں اور وہ خدا نخواستہ ملک دشمن ہیں، جبکہ غداری کے الزامات بھی ان پر عائد کیے گئے۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ اس مہم کا نتیجہ الٹا نکلا۔ جن لوگوں نے مولانا کی تقریر نہیں سنی تھی، وہ بھی اسے تلاش کر کے سننے پر مجبور ہوئے۔ ہر شخص کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ آخر مولانا نے ایسی کیا بات کہی جس پر اتنا شدید ردعمل سامنے آیا۔ ان کے بقول اگر خاموشی کے ساتھ مولانا سے رابطہ کر کے انہیں یہ احساس دلایا جاتا کہ ان کے الفاظ سے شہدا کے اہل خانہ کی دل آزاری ہوئی ہے تو غالب امکان تھا کہ وہ اپنی بات سے رجوع کر لیتے، مگر جس انداز میں ان پر حملے کیے گئے، اس کے بعد اس گنجائش کو بھی ختم کر دیا گیا کیونکہ ضد کے جواب میں مولانا بھی ضد اختیار کرتے ہیں۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر کردار کشی کی جو روایت پروان چڑھ رہی ہے، اس کے فروغ میں کردار ادا کرنے والوں کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ گالم گلوچ، تضحیک اور الزامات سے نہ کوئی فرد اپنی رائے بدلتا ہے اور نہ ہی اس کے پیروکار اپنی سوچ تبدیل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق رائے صرف مضبوط دلائل، ٹھوس شواہد اور مخلصانہ نصیحت سے تبدیل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کردار کشی کی مہمات سے شاید ان کے چلانے والوں کو وقتی اطمینان حاصل ہو جائے، لیکن جنہیں نشانہ بنایا جاتا ہے ان کی سیاسی حیثیت یا عوامی حمایت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا، یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے جتنے حامی پہلے تھے، آج بھی اتنے ہی ہیں اور ان کی سیاسی حیثیت بھی بدستور برقرار ہے۔

Back to top button