امریکا ایران سے دوریاں کم کرنے کا خواہشمند

امریکا ایران کے ساتھ ایسے اقدامات کا خاکہ تیار کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے جو ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کر سکتے ہیں، کچھ زیر حراست امریکی شہریوں کو رہا کر سکتے ہیں اور بیرون ملک ایران کے کچھ اثاثوں کو غیر منجمد کر سکتے ہیں۔رائٹرز نے ایران اور مغربی حکام کے حوالے سے خبر کی تصدیق دی۔
رائٹرز کے مطابق یہ اقدامات امریکی کانگریس کی طرف سے نظرثانی کرنے والے معاہدے کے بجائے ایک افہام و تفہیم کے طور پر کیے جائیں گے، جہاں بہت سے لوگ ایران کو فوائد دینے کی مخالفت کرتے ہیں۔2015 کے ایران جوہری معاہدے کو بحال کرنے میں ناکام ہونے کے بعد واشنگٹن کو امید ہے ایران پر کچھ حدود بحال کرے گا تاکہ اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے جو اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور اسلحے کی علاقائی دوڑ شروع کر سکتا ہے جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتا۔2015 کا معاہدہ، جسے اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ترک کر دیا تھا، جس میں تہران کی یورینیم کی افزودگی کو 3.67 فیصد خالصتا پر رکھا گیا تھا اور اس کے اس مواد کے ذخیرے کو 202.8 کلوگرام (447 پاؤنڈ) تک محدود کر دیا گیا تھا – اس کے بعد سے تہران حد سے تجاوز کر چکا ہے۔
امریکی اور یورپی حکام بالواسطہ امریکا ایران مذاکرات کے ٹوٹنے کے بعد سے تہران کی جوہری کوششوں کو روکنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کی آمادگی ایران کے پروگرام کے بارے میں مغربی
ال پچینو 83 سال کی عمر میں بیٹے کے باپ بن گئے
دارالحکومتوں میں عجلت کے بڑھتے ہوئے احساس کی عکاسی کرتی ہے۔
