عمران خان کے بعد نورین خان کی بھی گرفتاری کا خدشہ

بانی تحریک انصاف عمران خان کی بہن نورین خان نیازی کی جانب سے عسکری قیادت کے خلاف زہریلے بیانات کے بعد یہ خدشات زور پکڑ گئے ہیں کہ انہیں بھی اپنے بھائی کی طرح گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ادھر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے نورین خان کے خلاف پیکا ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔
این سی سی آئی اے نے نورین نیازی کے خلاف درج مقدمے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران ریاستی اداروں اور افواج پاکستان کے خلاف جھوٹا، گمراہ کن اور اشتعال انگیز بیانیہ اختیار کیا، جس سے عوام میں بداعتمادی، اشتعال اور انتشار پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان کے بیانات متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں، جس کی بنیاد پر باضابطہ مقدمہ درج کیا گیا۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق مقدمہ درج ہونے سے قبل این سی سی آئی اے نے نورین نیازی کو 20 جولائی اور 27 جولائی کو تفتیش میں شامل ہونے کے لیے نوٹس جاری کیے تھے، تاہم وہ دونوں مواقع پر پیش نہ ہوئیں۔ پہلے نوٹس کے بعد ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نورین نیازی بیرون ملک موجود ہیں اور فوری طور پر پاکستان واپس آنا ممکن نہیں، اس لیے انہیں مزید مہلت دی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دوسری مرتبہ طلبی کے باوجود بھی عدم پیشی کے بعد تحقیقاتی ادارے نے قانونی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا۔ این سی سی آئی اے کے مطابق ابتدائی شواہد کی روشنی میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے اور آئندہ کارروائی قانون کے مطابق کی جائے گی۔
دوسری جانب نورین نیازی نے ابتدائی طور پر اپنے خلاف مقدمہ درج ہونے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں ان کا مؤقف سامنے آیا کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا اور ان پر اس سے قبل کبھی کسی نوعیت کا مقدمہ درج نہیں ہوا۔ انہوں نے اپنے خلاف الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانون کے مطابق اپنا دفاع کریں گی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی مقدمے کے اندراج کے بعد تفتیشی ادارے کو ضرورت پڑنے پر ملزم کی گرفتاری کا اختیار حاصل ہوتا ہے، تاہم ہر مقدمے میں فوری گرفتاری قانونی تقاضا نہیں ہوتی۔ متعدد مقدمات میں ملزم پہلے متعلقہ عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرتا ہے، جس کے بعد عدالت کی ہدایات کے مطابق آئندہ قانونی کارروائی آگے بڑھتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر عدالت نورین نیازی کی قبل از گرفتاری ضمانت منظور کر لیتی ہے تو انہیں عارضی طور پر گرفتاری سے تحفظ حاصل ہو سکتا ہے، تاہم اگر ضمانت مسترد ہو جائے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں حراست میں لینے کے لیے کارروائی کر سکتے ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق نورین نیازی کے خلاف پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 20 اور 26-اے جبکہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 505 اور 506 شامل کی گئی ہیں۔ ان دفعات کا تعلق مبینہ طور پر جھوٹی معلومات پھیلانے، عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے، ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی اور مجرمانہ دھمکی جیسے الزامات سے ہے۔
قانونی حلقوں کے مطابق پیکا ایکٹ کی دفعہ 20 کے تحت کسی شخص یا ادارے کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹی معلومات پھیلانے پر زیادہ سے زیادہ تین سال قید، دس لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں، جبکہ دفعہ 26-اے کے تحت خوف یا افراتفری پھیلانے والی جھوٹی معلومات کی تشہیر پر تین سال تک قید، بیس لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ممکن ہیں۔
اسی طرح تعزیرات پاکستان کی دفعہ 505 عوامی امن خراب کرنے یا ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی سے متعلق ہے، جس میں جرم ثابت ہونے پر سات سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے، جبکہ دفعہ 506 مجرمانہ دھمکیوں سے متعلق ہے، جس کے تحت جرم کی نوعیت کے مطابق دو سال سے سات سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق مختلف دفعات کے تحت درج سزائیں لازمی طور پر ایک دوسرے میں جمع نہیں ہوتیں بلکہ اگر ایک سے زیادہ الزامات ثابت ہو جائیں تو عدالت شواہد، مقدمے کی نوعیت اور قانونی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرتی ہے کہ سزائیں بیک وقت چلیں گی یا ایک کے بعد ایک نافذ ہوں گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق عمران خان پہلے ہی کئی مقدمات کے باعث جیل میں ہیں، جبکہ اب ان کی بہن کے خلاف مقدمے کے اندراج نے تحریک انصاف کے حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف مقدمہ درج ہونا گرفتاری یا سزا کی ضمانت نہیں ہوتا اور ہر معاملہ عدالت کے سامنے پیش ہونے والے شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر ہی طے ہوتا ہے۔
فی الحال نہ تو کسی عدالت نے نورین خا نیازی کو ان الزامات میں قصوروار قرار دیا ہے اور نہ ہی انہیں کوئی سزا سنائی گئی ہے۔ آئندہ چند روز میں یہ واضح ہوگا کہ آیا وہ عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرتی ہیں، تحقیقاتی ادارہ انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کرتا ہے یا تفتیش مکمل ہونے کے بعد مقدمہ باقاعدہ ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق ہر ملزم عدالت سے جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔
