فیصلہ سازوں نے کشمیر میں پنگا لے کر نیا بحران کیوں کھڑا کیا؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے طاقتور فیصلہ سازوں کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا پاکستان کے لیے عمران خان، طالبان اور بلوچستان جیسے تین بڑے بحران کافی نہیں تھے کہ اب آزاد کشمیر میں بھی ایک نیا بحران کھڑا کر دیا گیا ہے، جو بتدریج ریاستی کنٹرول سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔

بی بی سی اردو کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں انہوں نے کہا کہ پہلے ہی ملک کئی سنگین داخلی چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں آزاد کشمیر میں پنگا لینا ایک ایسا فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے جس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔ وسعت اللہ خان نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ پاکستان میں کئی دہائیوں سے کشمیر کو قومی بیانیے کا بنیادی حصہ بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ عوام کو یہ بتایا گیا کہ کشمیر پاکستان کی "شاہ رگ” ہے، مظفرآباد کو سری نگر کی آزادی کا بیس کیمپ قرار دیا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان نے کشمیر کے لیے تین جنگیں لڑیں جبکہ مختلف ادوار میں قبائلی لشکر، مجاہدین اور جہادی تنظیموں کے ذریعے بھی اس مقصد کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جاتی رہی۔

ان کے مطابق برسوں تک پاکستانی معاشرے میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے سرکاری و نجی میڈیا پر بھارتی زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تصاویر، ویڈیوز اور دستاویزی فلمیں نشر کی جاتی رہیں، سیاسی و مذہبی جماعتیں جلسے اور ریلیاں منعقد کرتی رہیں جبکہ ہر سال پانچ فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر قومی سطح پر منایا جاتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی بھارتی کشمیر سے متعلق رپورٹس کو پاکستان میں ہمیشہ بھرپور انداز میں اجاگر کیا جاتا رہا، جبکہ پاکستانی حکومتیں بھی عالمی فورمز پر بھارتی اقدامات کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتی رہیں اور پارلیمنٹ میں متعدد قراردادیں منظور کی جاتی رہیں۔

وسعت اللہ خان کے مطابق گزشتہ 78 برسوں سے پاکستانی عوام کے سامنے یہ تصویر پیش کی جاتی رہی کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر کے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں خوشحالی، استحکام اور اطمینان کی فضا قائم ہے، تاہم اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ اچانک ایسی کیا تبدیلی آ گئی کہ آزاد کشمیر خود ایک بڑے سیاسی اور انتظامی بحران کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ موجودہ بحران کی بنیاد تقریباً چار سال قبل اس وقت پڑی جب میرپور اور راولاکوٹ میں واپڈا کے خلاف عوامی بائیکاٹ کی تحریک شروع ہوئی۔ اس کے بعد ناقص طرز حکمرانی، مہنگائی، عوامی مسائل، منتخب نمائندوں کی مراعات اور ریاست سے باہر مختص بارہ نشستوں کے کردار پر سوالات اٹھنا شروع ہوئے، جنہیں عوام نے اسلام آباد کی سیاسی مداخلت کی علامت قرار دینا شروع کر دیا۔

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا کہ اسلام آباد میں حکومت تبدیل ہونے کے ساتھ ہی مظفرآباد کی حکومت بھی بدل جاتی ہے، جبکہ عام شہری اس پورے سیاسی عمل سے عملاً باہر رہتے ہیں۔ یہی احساسِ محرومی رفتہ رفتہ وسیع عوامی بے چینی میں تبدیل ہو گیا۔ سینیئر تجزیہ کار نے لکھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کسی روایتی سیاسی جماعت کی پیداوار نہیں بلکہ متوسط طبقے کے نوجوانوں، تاجروں اور عام شہریوں کی اس مایوسی کا نتیجہ ہے جو روایتی سیاسی قیادت اور حکمرانی کے نظام سے پیدا ہوئی۔ ان کے بقول مختلف احتجاجی تحریکوں، لانگ مارچز اور مذاکرات کے باوجود حکومت کی جانب سے کیے گئے معاہدوں پر بروقت عملدرآمد نہ ہونے سے اعتماد کا بحران مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔

وسعت اللہ خان کا کہنا ہے کہ جو دراڑ ڈھائی سے تین سال پہلے پیدا ہوئی تھی، اسے بروقت فیصلہ سازی سے پر کرنے کے بجائے مسلسل نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ آج ایک گہری خلیج میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق جس مسئلے کا حل ابتدا میں نسبتاً آسان تھا، وہ اب ایک پیچیدہ بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ گورننس اور عوامی حقوق کے مسئلے کو اب غیر ملکی مداخلت اور دہشت گردی کے بیانیے سے جوڑا جا رہا ہے۔ ایک طرف جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف اسی تنظیم سے مذاکرات اور اسے سیاسی دھارے میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی جا رہی ہے، جس سے حکومتی حکمت عملی میں واضح تضاد نظر آتا ہے۔
وسعت اللہ خان نے آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز پر پابندیوں، اطلاعات تک محدود رسائی اور میڈیا کی مشکلات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق عوام سے کہا جا رہا ہے کہ صرف سرکاری بیانات پر یقین کریں، جبکہ زمینی حقائق تک رسائی مسلسل محدود کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ماضی میں ریاست کے پاس تشدد پر اجارہ داری تھی تو اب اطلاعات پر بھی اسی نوعیت کی اجارہ داری قائم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

وسعت اللہ خان نے کہا کہ جس طرح بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی بھارتی کشمیر سے متعلق رپورٹس کو پاکستان میں معتبر سمجھا جاتا رہا ہے، اب انہی اداروں کی آزاد کشمیر کے بارے میں تشویش کو یکسر مسترد کرنا دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے بحران کو سنجیدگی، شفافیت اور سیاسی بصیرت کے ساتھ حل نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ پاکستان کے لیے ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ داخلی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

Back to top button