گوادر میں 14 ارب ڈالر کے بڑے گیس ٹرمینل کی منظوری

بلوچستان کی کابینہ نے گوادر کے لیے 14 ارب ڈالر کے بڑے گیس ٹرمینل کی منظوری دے دی۔
بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اہم اجلاس میں ترکمانستان کی بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ گوادر کے لیےگیس ٹرمینل کی منظوری دے دی گئی۔
بلوچستان کی تاریخ میں ترکمانستان کی جانب سے انفراسٹرکچر کی تعمیر میں یہ سب سے بڑی سرمایہ کاری میں سے ایک ہے، جس سے بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کو براہ راست گیس فراہم کی جائے گی۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس کے علاوہ سڑکوں، سیکیورٹی، زمینی حقوق، تعلیم اور بچوں کے تحفظ سے متعلق اہم فیصلوں کی بھی منظوری دی گئی۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بلوچستان میں ہمہ جہت ترقی، توانائی کی فراہمی اور عوامی فلاح کے نئے مرحلے کی عکاسی کرتے ہیں۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ گیس ٹرمینل صرف گوادر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس سے پنجگور، چاغی اور واشک سمیت صوبے کے پسماندہ اضلاع کو بھی گیس کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی، جس سے توانائی کے شعبے میں نمایاں بہتری کی توقع ہے۔
اجلاس میں جنوبی بلوچستان پیکج کے تحت 7 ترقیاتی منصوبوں کی سیکیورٹی کے لیے 858 ملین روپے فوری جاری کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ترقیاتی منصوبوں اور ان کے تحفظ کو بیک وقت آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ جاری منصوبے بلا تعطل مکمل کیے جا سکیں۔
اسی اجلاس میں کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ کے سروس معاہدے میں توسیع کی بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد شہری نگرانی اور سیکیورٹی کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
اس کے علاوہ کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ کے معاہدے میں توسیع بھی کی گئی ہے تاکہ نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ وفاقی حکومت کے تعاون سے 15 ارب روپے سے زائد مالیت کی سبی ہرنائی روڈ کی تکمیل اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کی یقین دہانیاں صرف بیانات تک محدود نہیں ہیں۔
