متحدہ کےمرکز بہادر آباد میں تصادم، فائرنگ،متعدد رہنمازخمی

ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد میں اندرونی اختلافات پر تصادم، فائرنگ اور پتھراؤ، متعدد رہنما اور کارکنان زخمی ہوگئے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے بہادر آباد مرکز پر پارٹی کے اہم رہنماؤں اور کارکنان کے دو گروہوں کے درمیان شدید جھگڑا اور تصادم کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے دوران کرسیاں چل گئیں، شدید فائرنگ اور پتھراؤ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

ذرائع اور پولیس کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے بہادر آباد مرکز میں اہم پارٹی اجلاس کے بعد رہنماؤں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ تلخ کلامی ہاتھا پائی اور تشدد میں تبدیل ہوگئی۔

تصادم کے نتیجے میں بہادر آباد مرکز کے ایڈمنسٹریٹر ذاکر حسین اور عامر نامی ایک شخص فائرنگ سے زخمی ہوگئے، جبکہ رکن سندھ اسمبلی اعجاز الحق اور دیگر سینیئر اراکین کو بھی زدوکوب کیا گیا اور دھکے دیے گئے۔

واقعے کے حوالے سے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے تصدیق کی کہ بہادر آباد مرکز میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے گروپس کے مابین اختلافات نے شدت اختیار کرلی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے اختتام پر دوسرے گروپ کے کارکنان نے ایم پی اے اعجاز الحق اور ذاکر حسین کے ساتھ ہاتھا پائی کی، جبکہ خاتون رہنماؤں منگلا شرما اور سبین غوری کے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی۔

تصادم کے کچھ ہی دیر بعد مرکز کے اطراف میں شدید ہوائی فائرنگ اور پتھراؤ شروع ہوگیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور اردگرد کی دکانیں اور مارکیٹیں بند ہو گئیں۔ دونوں گروہوں کے مشتعل افراد گلیوں میں منتشر ہو کر ایک دوسرے پر تشدد کرتے رہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔

پولیس حکام کے مطابق علاقے میں کشیدگی برقرار ہے جس پر قابو پانے کے لیے مزید نفری طلب کرلی گئی ہے۔ پولیس نے تصادم کو روکنے اور صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں، جبکہ قیادت نے مشتعل کارکنان کو بہادر آباد سے متصل پارک میں جمع ہونے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب خبر پھیلتے ہی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور کارکنان کی بڑی تعداد بہادر آباد مرکز کے باہر جمع ہونا شروع ہوگئی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان مرکز بہادر آباد پر خالد مقبول صدیقی گروپ کا اجلاس چل رہا تھا، ان کے مطابق اس اجلاس میں انیس قائم خانی گروپ اندر آیا جس کے بعد جھگڑا ہوا اور کرسیاں ایک دوسرے کو ماری گئیں۔

شاہ میر خان کا کہنا ہے اس مارپیٹ کی صورت حال کے بعد معاملے نے شدت اختیار کی، اتنے میں انیس قائم خانی گروپ کے مزید لوگ آئے اور فائرنگ ہوئی، اب یہ واضح نہیں کہ فائرنگ کس نے کی لیکن فیڈرل بی ایریا کے ٹاؤن ممبر کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ان کے مطابق اس وقت حالات کشیدہ ہیں، اور پولیس کی نفری موقع پر پہنچ چکی ہے۔

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی حسان صابر کے مطابق انہیں اجلاس کا علم نہیں تھا لیکن وہ وہاں پہنچ کر واضح بات کر سکیں گے۔

Back to top button