امیر جماعت اسلامی نےمعیشت کی بحالی کیلئےتجاویز پیش کردیں

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ملکی سیاسی، معاشی اور آئینی صورتحال پر قومی مکالمے، انتخابی اصلاحات اور معاشی پالیسیوں پر جامع تجاویز پیش کردیں۔
اپنے اہم ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ نظام چلانے والوں نے اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا،دل بڑا کر کے نیشنل ڈائیلاگ کا آغاز کریں،بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے،عوام کی رائے پر آئندہ کوئی ڈاکا نہ ڈالنے کا عزم ضروری ہے۔آئندہ جس کو لوگ چاہیں ووٹ دیں، جس کو چاہیں مسترد کر دیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ترامیم کے ذریعے یرغمال بنائی گئی عدلیہ کو آزاد ، ججزکی تعیناتی میرٹ پر کی جائے،انتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر کرائے جائیں، ووٹرز افراد کے بجائے پارٹی منشور اور لسٹ دیکھ کر ووٹ دیں۔
موروثی سیاسی نظام کا خاتمہ ہونا چاہیے،جماعتوں میں بھی حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے،بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنایا جائے اور بروقت انتخابات کرائے جائیں،آئین میں بلدیاتی حکومتوں کے لیے واضح چیپٹر شامل کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس اور صوبوں کی تشکیل پر اتفاق رائے قائم کیا جا سکتا ہے، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے بڑا جرگہ یا قومی کمیشن تشکیل دیا جائے،تمام سیاسی جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز پر مشتمل کانفرنس بلائی جائے۔
معدنیات اور قدرتی وسائل کے لیے جامع قومی پالیسی بنائی جائے،پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر فوری کام شروع کیا جائے،انڈسٹری کی ترقی کے لیے بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات سستی کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں غریب، مڈل کلاس اور امیر سب کے لیے یکساں نظام قائم کیا جائے،آئندہ اے آئی کا انقلاب ہے،آئی ٹی میں بھی بنیادی مواقع دئیے جائیں،پاکستان کے پاس اضافی بجلی ہے، جس کا بوجھ عوام پر کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں ڈالا جاتا ہے،بجلی کے لیے کوئی پالیسی نہیں ہے،عوام کی جیب سے چند افراد کوپالا جا رہا ہے۔
