گرفتار عمرانڈو تیس دن جیل کاٹیں گے یا تین مہینے؟

تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک کے پہلے روز لاہور کی لگ بھگ سوا کروڑ آبادی میں سے صرف اکیاسی افراد نے گرفتاری پیش کی.حکومت کے پاس گرفتار پی ٹی آئی رہنماوں  اور کارکنوں  کو نوے روز تک حراست میں رکھنے کی آپشن  موجود ہے .قانون کے مطابق 90روز تک حراست میں لئے گئے شخص کو عدالتی ریلیف بھی نہیں مل سکتا۔  یاد رہے کہ  پی ٹی آئی نے بائیس فروری سے قبل دو سو افراد کی گرفتاری پیش کرنے کا ڈھنڈورا پیٹا تھا مگر  پہلے روز گرفتاری پیش کرنے والے بیشتر پی ٹی آئی رہنماؤں  اور کارکنوں نے  پولیس کی قیدیوں والی گاڑی میں تصویریں اور سلفیاں لے کر انہیں سوشل میڈیا پر ڈالا اور واپس گھروں کو چلتے بنے اور ریکارڈ  کے مطابق  صرف 80 کے قریب افراد گرفتاری ہوئی ہے جنہیں کوٹ لکھ پت جیل منتقل کیا گیا . بتایا گیا ہے ہے کہ  گرفتار پی ٹی آئی قائدین اور کارکنوں  کو ڈپٹی کمشنر لاہور کی طرف سے جاری 3ایم پی او کے تحت حراست میں لینے کا فیصلہ کیا گیا تو پھر لاہور سے باہر کسی شہر کی جیل میں انہیں منتقل کرنے کے لئے پنجاب حکومتPunjab Maintenance of Public Order , کے سیکشن 37 کی شق 4 کا استعمال کرے گی ۔ ایم پی او  قانون کو لاگو کئے بغیر ان گرفتار افراد کو لاہور سے باہر کسی دوسری جیل میں منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ  پی ٹی آئی قائدین کو 3 ایم پی او کے تحت حراست میں لینے کا فیصلے میں تاخیر کی  وجہ یہ تھی کہ حکومت فیصلہ نہیں کر پارہی تھی کہ گرفتار قائدین کو کس کس شہر کی جیلوں میں منتقل کیا جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ 3ایم پی او کے احکامات میں یہ بتانا پڑتا ہے کہ حراست میں لئے گئے افراد کو کونسی جیل میں رکھا جائیگا ۔ محکمہ داخلہ ن ے3 ایم پی او کے تحت ایک ماہ تک حراست میں رکھنے کے اختیارات ڈپٹی کمشنروں کو تفویض کر رکھے ہیں ۔ سب سے پہلے ڈپٹی کمشنر نقص امن کا باعث بننے والے کسی فرد کو 30تک حراست میں رکھنے کے احکامات جار ی کرتا ہے جس کے بعد اگلے 60 دن تک حراست میں رکھنے کے احکامات محکمہ داخلہ جاری کرتا ہے۔ قانون کے مطابق 90روز تک حراست میں لئے گئے شخص کو عدالتی ریلیف بھی نہیں مل سکتا۔

محکمہ داخلہ کے 3ایم پی او کے تحت حراست میں لینے کے فیصلے کو عدالت میں 90 روز بعد ہی چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب پنجاب کی نگران حکومت کے وزیر اطلاعات عامر میر نے گزشتہ روز میڈیا سے بات کرتے ہوۓ بتایا کہ  گرفتاریوں کے حوالے سے پنجاب حکومت اور پولیس کے انتظامات اور ہماری توقع کے برعکس بہت کم افراد نے گرفتاری کیلئے خود کو پیش کیا ہے ۔ دفعہ 144 اس لئے نافذ کی گئی تھی کہ پی ایس ایل کی ٹیموں نے لاہور پہنچنا تھا اور عین اسی روز انہوں نے حسب روایت یہ کام شروع کر دیا۔ گرفتاریاں مینٹی ننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت ہوئی ہیں کیونکہ مال روڈ پر دفعہ 144 لگائی گئی تھی۔ حالیہ دنوں میں بلوچستان، کے پی ، سندھ میں دہشتگردی واقعات ہوئے ، اب خدشات ہیں کہ پنجاب کی باری ہے اس لئے مال روڈ پہ لوگوں کے اجتماع کی حوصلہ شکنی اور پی ایس ایل ٹیموں کو فول پروف سکیورٹی کیلئے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب پر عامر میر نے کہا کہ حکومت کی رٹ قائم ہے اور 100 کے قریب افراد نے گرفتاریاں دیں جبکہ قیدی وین میں بیٹھنے کے بعد بھی کچھ لوگ وین سے اتر گئے۔ صوبائی وزیر نے کہا اطلاع کے مطابق پولیس کے پاس لاہور کی جیلوں میں جگہ نہیں ہے اب جہاں جگہ ملے کی وہاں ان قیدیوں کو پہنچا دیں گے۔ اگر مزید لوگ گرفتاریاں دیں گے تو انکو گرفتار کر لیں گے لیکن بدھ کو  پولیس کی کافی گاڑیاں خالی واپس گئی ہیں۔ انکے دو چار لیڈروں میں سے دو تو گلہ کر رہے ہیں۔ اگر ان کا خیال تھا کہ ان کو سی سی پی او آفس لے جا کر چائے اور بسکٹ کھلائے جائیں گے تو ایسا تو نہیں ہوگا۔ مال روڈ سے گرفتاریاں 3 ایم پی او کے تحت کی گئی ہیں جس کے مطابق ان افراد کو ایک ماہ سے تین ماہ تک ڈپٹی کمشنر کے آرڈر پر حراست میں رکھا جا سکتاہے۔ علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے رہنما میاں عابد بدھ کے روز احتجاج کے دوران پولیس وین پر چڑھ گئے اور موبائل پر لاتیں ماریں جس سے موبائل کا شیشہ ٹوٹ گیا۔

واقعے کے بعد رہنما میاں عابد نے فرارکی کوشش کی لیکن پولیس نے پیچھا کرکے حراست میں لے لیا۔پولیس نے بتایا کہ سول لائنز پولیس کی گاڑی پر حملہ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جا رہا ہے، مقدمے میں انسداد  دہشت گردی کی دفعات شامل ہوں گی۔

اداکارہ انعم فیاض نے شوبز کی دنیا کو ہمیشہ کیلئے خیرآباد کہہ دیا

Back to top button