ایشیا کپ کا فائنل: پاکستان کا انڈیا پر پلڑا بھاری کیوں ہوگا؟

حالیہ برسوں میں عمومی تاثر تو یہی ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم بڑے ٹورنامنٹس میں انڈیا سے نہیں جیت سکتی، لیکن اگر کھیل کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بڑے ٹورنامنٹس کے فائنلز میں پاکستان کا ریکارڈ انڈیا کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔ لہذا یہ کہا جائے تو بےجا نا ہوگا کہ ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی جیت کے امکانات ذیادہ ہیں۔
کرکٹ کی تاریخ بتاتی ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان فائنلز ہمیشہ ہی یادگار رہے ہیں۔یہ دونوں ٹیمیں پانچ بار کسی ملٹی نیشن ٹورنامنٹ میں آمنے سامنے آئیں ہیں، یعنی ایسے ٹورنامنٹ جن میں پانچ سے زیادہ ٹیمیں شریک تھیں۔ ان پانچ فائنلز میں سے انڈیا نے صرف دو بار کامیابی حاصل کی۔ بھارت نے پاکستان کے مقابلے میں 1985 کی Benson & Hedges ورلڈ چیمپئن شپ، اور 2007 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسری جانب پاکستان نے تین مرتبہ انڈیا کو فائنل میں شکست دی، یعنی 1986 اور 1994 کے Austral-Asia کپ، اور پھر 2017 کی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان نے انڈیا کو 180 رنز سے شکست دی تھی۔
اب ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں 41 برس بعد ایشیا کپ کے فائنل میں اتوار کو آمنے سامنے ہوں گی، سوال یہ ہے کہ کیا اس بار بھی پاکستان اپنا ریکارڈ برقرار رکھ پائے گا یا انڈیا پچھلا قرض چکا دے گا؟ یہ ایشیا کپ کی تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب 29 ستمبر کو پاکستان اور انڈیا فائنل کھیلیں گے، اس ٹورنامنٹ میں یہ ان دونوں ٹیموں کا تیسرا میچ ہو گا۔ یاد رہے کہ ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں پاکستان سری لنکا اور بنگلہ دیش کو شکست دے کر فائنل میں پہنچا ہے جبکہ اسے انڈیا سے ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اگرچہ گزشتہ چند برس میں ورلڈ ایونٹس میں انڈین کرکٹ ٹیم کا پلڑا ہمیشہ پاکستان پر بھاری ہی رہا ہے مگر دو دہائیاں پہلے صورتحال ایسی نہیں ہوتی تھی. پاکستان کے کرکٹ کلچر کا خاصہ رہا ہے کہ یہ کبھی بھی لگے بندھے ضابطوں پہ نہیں چلا۔ یہاں انتظامی سطح سے لے کر گراؤنڈ میں کھیلتی ٹیم تک سبھی کچھ ’ناقابلِ پیش گوئی‘ ہوتا ہے اور عموماً پاکستان کا یہ ’وصف‘ اس کے اپنے ہی شائقین پہ بھاری پڑا ہے۔
پاکستانی کرکٹ کلچر ہمیشہ ایسے کوچز کی تلاش میں رہا ہے جو اس کے بے ترتیب ڈھانچے کو ڈسپلن میں لا سکے۔ چنانچہ اس کی نظریں عموماً غیر ملکی کوچز کی طرف رہی ہیں لیکن باب وولمر کے علاوہ پاکستان ٹیم کو کوئی غیر ملکی کوچ راس نہیں آیا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اکثر غیر ملکی کوچز کی اپروچ پاکستانی کلچر سے ہم آہنگ ہونے کے بجائے اسے بدل کر اپنے سانچے میں ڈھالنے پر رہتی ہے۔
پچھلے تین برس میں پاکستانی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے زوال کا ایک نمایاں سبب اس کا اپنے حریفوں کے لیے ’قابلِ پیش گوئی‘ ہونا بھی رہا ہے۔ دنیا بھر کی کرکٹ ٹیمیں جانتی تھیں کہ پاکستان ٹیم پاور پلے میں کس رفتار سے کھیلے گی، مڈل اوورز میں کیا کرے گا اور ڈیتھ اوورز میں کیا کرنا چاہے گی۔
شراب برآمد کیس : علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار
جب کسی کرکٹ ٹیم کے بارے میں اتنا کچھ معلوم ہو تو پھر حریف کیمپ کے لیے سٹریٹیجی بُننا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ اس دور میں حریف بیٹنگ آرڈر کو پاکستان کا پورا بولنگ پلان بھی معلوم ہوا کرتا تھا کہ اٹیک کون کرے گا، سپنر کب آئیں گے اور ڈیتھ اوورز کون نمٹائے گا۔
مگر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی حکمتِ عملی پر چلتے سلمان آغا کے پاکستان بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ بیٹنگ آرڈر کیا ہو گا۔ لمحۂ موجود میں اگر سوریا کمار یادیو جاننا چاہیں کہ ان کے خلاف میچ میں پاکستان کی جانب سے تیسرے نمبر پہ کون کھیلے گا تو پچھلے پندرہ میچز کے سکور کارڈز سے انھیں کچھ واضح نہیں ہو پائے گا۔ ہو سکتا ہے ایک میچ میں شاہین آفریدی کے بجائے محمد نواز اٹیک کر رہے ہوں، ہو سکتا ہے پاور پلے میں چار اوورز سپنر پھینک دیں، ہو سکتا ہے صائم ایوب پاور پلے میں بولنگ کریں، ہو سکتا ہے وہ مڈل اوورز بھی پھینکیں یا ہو سکتا ہے وہ سرے سے بولنگ ہی نہ کریں۔ لہذا اب دیکھنا یہ ہے کہ اتوار کے روز پاکستان بھارت کو ہرا پاتا ہے یا دوبارہ شکست کھا کر ہیٹ ٹرک کا شکار ہو جاتا ہے۔
