بحرین کا ایران کے ساتھ مذاکرات میں شرکت سے انکار

بحرین نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مجوزہ اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔
رائٹرز کے مطابق ایران نےاعلان کیا تھا کہ وہ پیر کو عمان میں ہونے والی ملاقات میں شریک ہوگا تاہم بحرین نے ہفتے کو واضح کر دیا کہ وہ ایران کے ساتھ ایسے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔
تاحال عمان نے اجلاس کی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں جبکہ دیگر خلیجی ممالک کی شرکت سے متعلق بھی صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں تھی۔
مجوزہ ملاقات عمان کی ایک وسیع تر سفارتی کوشش کا حصہ ہے۔ جس میں آبنائے ہرمز کے علاوہ خطے کے دیگر معاملات پر بھی گفتگو ہوگی۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اسے خلیجی ممالک کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ بہتر بنانے اور علاقائی سلامتی و تعاون کو مضبوط کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
عمان کئی ماہ سے ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے مذاکرات کر رہا ہے۔ دونوں ملک اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ آبنائے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت کس طریقے سے منظم کی جائے اور محفوظ بحری راستے کیسے بحال کیے جائیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران اب بھی ایسے انتظام کا خواہاں ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کی جا سکے۔ تاہم عمان اس تجویز کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ معاملہ مذاکرات میں سب سے حساس نکات میں سے ایک بن گیا ہے، کیونکہ امریکا اور اس کے خلیجی اتحادی آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری گزرگاہ قرار دیتے ہیں اور ایران کی جانب سے ٹول یا فیس عائد کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔
بحرین گزشتہ کئی ماہ سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتا آیا ہے۔ بحرین نے اقوام متحدہ میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے سفارتی کوششوں کی قیادت بھی کی ہے۔
