بلوچ اور پشتون قبائل نے سی پیک پر کام کیوں رکوا دیا؟

سی پیک کے مغربی روٹ کے رہائشی بلوچ اور پشتون قبائل نے حکومت کی جانب سے اپنی زمینوں کا کم معاوضہ دینے کے خلاف بوستان کے علاقے میں سی پیک پراجیکٹ پر کام رکوا دیا ہے جس سے پاک چین تعلقات اور سے پیک منصوبے دونوں کے مستقبل پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سی پیک مغربی روٹ پر ترقیاتی منصوبوں کے لئے قبائل کی زمینیں اونے پونے داموں خریدنے کی ھکومتی کوشش پر مشتعل ہونے والے پشتون قبائل نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے اہم حصے سے منسلک بوستان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں کام رکوا دیا ہے۔ قبائلی عمائدین کا الزام ہے کہ سی پیک نامی منصوبے کی آڑ میں ترقی کے بجائے حکومت ان کی زمینوں کو اونے پونے داموں خرید کر انہیں مزید معاشی بدحالی سے دوچار کر رہی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق سی پیک کا مغربی روٹ 293 کلومیٹر سے زائد طویل علاقے پر محیط ہے۔ اس منصوبے کے حوالے سے بلوچ اور پشتون قوم پسند سیاسی جماعتوں نے بھی کئی تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ واضح رہے کہ اس مغربی روٹ میں مجموعی طور پر 441 کلومیٹر پر پھیلے ہوئے بلوچ اکثریتی علاقے خضدار سے چمن تک کی وہ سڑک بھی شامل ہے، جسے اب دو لین سے چار لین ہائے وے میں بدلا جا رہا ہے۔ بوستان میں مغربی روٹ کا ایک بڑا حصہ جس زمین سے گزر رہا ہے، اس کے مالک فرمان خان کہتے ہیں کہ بوستان اور ملحقہ علاقے سی پیک منصوبے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں اسپیشل اکنامک زون بھی بنایا جا رہا ہے۔ مغربی روٹ پر قبائل کی اربوں روپے مالیت کی زمینیں ہتھیانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے ہم کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ہم ترقی کے خلاف نہیں ہیں لیکن ترقی کے نام پر علاقائی مفادات کو قربان نہیں کر سکتے۔
سی پیک کمیٹی کے ممبر اور قبائلی سربراہ ملک سرور خان پانیزئی کہتے ہیں کہ سی پیک منصوبہ اگر واقعی معاشی استحکام کا منصوبہ ہے، توحکومت پشتون قبائل کو دیوار سے لگانے کی کوشش کیوں کر رہی ہے؟انہوں نے کہا کہ یہ بڑا اہم منصوبہ ہے لیکن اس کی اہمیت ہمارے مفادات سے زیادہ نہیں ہے۔ حکومت ایک طرف سی پیک کو اقتصادی استحکام کے لیے اہم قرار دے رہی ہے تو دوسری طرف مقامی باشندوں کو معاشی طور پر مزید عدم استحکام کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ ملک سرور خان پانیزئی کا کہنا تھا کہ مغربی روٹ پر جاری احتجاج کے حوالے سے حکومت نے اگر طاقت کا استعمال کیا، تو پہلے سے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں حالات اور خراب ہوسکتے ہیں۔ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ کا بھی دعویٰ ہے کہ چین کے ساتھ سی پیک کے معاہدے کے موقع پر ن لیگ کی مرکزی حکومت نے بطور وزیر اعلیٰ انہیں بھی اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ بلوچستان میں چینی اور دیگر غیر ملکی سرمایہ کاری پر بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں نے کئی بار تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ صوبے کے سیاسی قائدین کہتے ہیں کہ بلوچستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ہونے والے معاہدوں میں ماضی کی طرح موجودہ حکومت صوبے کے مفادات کو نظر انداز کر رہی ہے۔ اسی دوران 18 جنوری کے روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بھی اراکین صوبائی اسمبلی نے صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری پرکئی سوالات اٹھائے۔ اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مفادات کے برعکس ہونے والے کسی بھی معاہدے کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
