انارکلی دھماکے کی تحقیقات میں نیاموڑ، گرفتار افراد مزدور نکلے

انار کلی دھماکے کی تحقیقات میں نیا موڑ، سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں کی مدد سے گرفتار مشتبہ افراد مزدور نکلے، مزدور انارکلی تھانے کے قریب 6 جنوری سے بلڈنگ میں کام کر رہے تھے، پولیس نے 3 افراد کو حراست میں لے لیا تھا جن سے مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری تھی۔
تحقیقات کے دوران تینوں افراد کا کسی قسم کا کوئی کردار سامنے نہیں آیا، فراد سردی سے بچنے کیلئے گرم کپڑے خریدنے کے لیے وہاں پر موجود تھے، علاوہ ازیں انارکلی دھماکے کے تناظر میں پولیس کی جانب سے سرچ آپریشن میں 18 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر عابد نے کہا ہے کہ ہوٹل، گیسٹ ہائوس یا سرائے میں بغیر اندراج کسی کو ٹھہرانے کی اجازت نہیں، خلاف ورزی پر فوری مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا جائے گا۔
ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر عابد کے مطابق پولیس نے حساس مقامات پر واقع ہوٹلوں، سرائوں اور گیسٹ ہاوسز میں رات کے آخری پہر سے صبح تک چیکنگ کی، سرچ آپریشن کے دوران ہوٹلز، ہاسٹلز اور بس اڈوں کو بھی چیک کیا گیا، 82 دکانیں، 764 کرایہ دار اور1064گھروں کی چیکنگ کی گئی، سرچ آپریشن کے دوران 6383 افراد کو چیک کیا گیا اور18مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔
کرونا سے مزید 12 اموات، 6 ہزار سے زائد نئے کیس
پولیس کی بھاری نفری نے داتا دربار کے اردگرد تمام ہوٹلوں اور صحرائوں کو خالی کروا کر چیک کیا، دربار کے ارد گرد لگے ٹھیلے بھی ہٹائے گئے، دوسری جانب انارکلی دھماکے کے بعد لوٹ مار کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، پولیس کے مطابق انار کلی دھماکے کے بعد لوٹ مار کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ انعامی بانڈز فروخت کرنے والے حافظ عاصم کی مدعیت میں درج کیا گیا ۔
انارکلی میں دھماکے کے بعد بھگڈر مچ گئی، 2 ملازم بھی زخمی ہوئے ،دھماکے کے مقام پر کائونٹر کے شیشے ٹوٹنے سے نوٹ زمین پر گر گئے تھے اور 7 لاکھ کے کرنسی نوٹ لوٹ لیے گئے۔
