کیا ڈالر 6 سے 8 روپے مزید مہنگا ہونے والا ہے؟

حکومت کی جانب سے منی ایکسچینجرز پر ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے پر ڈالر کے 6 سے 8 روپے مزید مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا، جبکہ وزیر خزانہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر منی ایکسچینجرز کو ود ہولڈنگ ٹیکس پر اعتراض ہے تو ایف بی آر میں اپیل دائر کریں اور اگر وہاں سنوائی نہ ہو تو عدالتوں کا فورم استعمال کریں۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر منی چینجرز کو وِد ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں اربوں روپے کے بھیجے گئے بلز واپس نہ لیے گئے تو ڈالر مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔
منی ایکسچینج کمپنیوں کو جو نوٹس بھیجے گئے ہیں وہ چھ فیصد کے حساب سے ہیں لیکن اگر یہی ٹیکسز 16 فیصد کے حساب سے ہوئے جیسا کہ خبریں گردش کر رہی ہیں تو ڈالر 20 سے 25 روپے تک مہنگا ہو سکتا ہے۔
ظفر پراچہ کے مطابق حکومت نے حال میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، دراصل یہ وِد ہولڈنگ ٹیکس 2016 میں واپس لے لیا گیا تھا لیکن اب جنوری 2022 میں اچانک اربوں کے ٹیکس بلز چند منی چینجرز کو بھیج دیئے گئے ہیں جن کو واپس لینے کے لیے ایف بی آر سے بات چیت چل رہی ہے، اُمید ہے کہ ایف بی آر ان ٹیکس بلز کو واپس لے لے گا۔
مزمل اسلم کے مطابق معاملہ ایف بی آر اور ایکسچینج کمپنیز کے درمیان ہے اور ٹیکس لائبلٹی کا معاملہ ہے، ایکسچینج کمپنیز کا کہنا ہے کہ وہ ود ہولڈنگ ٹیکس صارفین کو منتقل کر دیں گے جس سے ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوگا، ڈالر کی قدر ایکسچینج کمپنیز طے نہیں کرتیں، جس ادارے پر ٹیکس کی لائبلٹی ہے وہ ڈالر مہنگا بیچ لے جس پر نہیں وہ سستا بیچ لے، گاہک کو اس کے پاس سے سستا ملے گا وہ اس کے پاس جائے گا۔
مزمل کے مطابق ود ہولڈنگ ٹیکس کے معاملے پر دو تین دن سے خبریں گردش کر رہی ہیں لیکن ڈالر 20 سے 25 روپے مہنگا نہیں ہوا کیوںکہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی بھی اپنی مرضی سے ڈالر کا ریٹ طے کرے، اسٹیٹ بینک کے اس معاملے میں کردار کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے قانون یا ضابطے سے ہٹ کر ڈالر کی قدر میں اضافے کی کوشش کی تو پھر سٹیٹ بینک اس معاملے کو اپنے طریقے سے دیکھے گا اور قانون حرکت میں آئے گا۔
پاکستان میں چند بڑے منی چینجرز نے اپنی ایسوسی ایشن کو بتایا کہ ایف بی آر نے انہیں کروڑوں روپے کے ود ہولڈنگ ٹیکس کے بلز بھیجے جو انہیں ادا کرنے ہیں، یہ بلز اتنی بڑی رقم کے ہیں کیونکہ نگراں ادارے نے انہیں 2014 سے 2021 تک کے حساب سے بھیجا ہے، ظفر پراچہ نے بتایا کہ حال ہی میں بھیجے جانے ٹیکس بلز کے بعد پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
یہ معاملہ 2010 سے چل رہا تھا لیکن 2016 میں یہ ٹیکس واپس لے لیا گیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ڈبل ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا، یہ ٹیکس صرف پاکستان سے باہر بھیجے جانے والے ترسیلات زر (رمیٹینسز) پر لگایا گیا تھا جو منی چینجرز کو گاہکوں سے وصول کرنا تھا۔
روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں معمولی کمی
اس وقت بھی ہمارا موقف تھا کہ یہ ٹیکس ہم پر نہیں لگتا کیوںکہ دیگر ممالک سے ٹیکس سے متعلق ایک معاہدہ ہے اور ڈبل ٹیکس نہیں لگ سکتا، ایف بی آر سے بات کی ہے وہ اسے دیکھ رہے ہیں، امید ہے یہ بلز واپس ہوجائیں گے لیکن اگر واپس نہیں ہوئے تو پاکستانی روپے پر برا اثر پڑے گا اگر 16 فیصد کے حساب سے ٹیکس کے بلز بھیجے گئے ہیں تو روپے پر 25 سے 28 فیصد فرق آئے گا۔
