اگلے الیکشن میں PTI کی دھجیاں کیوں اڑنے والی ہیں؟

اپنے انتخابی منشور میں ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کی فراہمی کے علاوہ معاشی خوشحالی اور گڈ گورننس کے جھوٹے وعدے کرنے والے وزیراعظم عمران خان نے ملکی معیشت کا جنازہ نکالتے ہوئے پاکستان کو تاریخی مہنگائی اور عوام کو غربت کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ حکومت کی اس بدترین نااہلی اور ناکامی کے عملی مظاہرے کے پیش نظر سیاسی و معاشی ماہرین سمجھتے ہیں کہ اب عمران خان کا کا دوبارہ برس اقتدار آنا ناممکن ہے۔

2018 میں جب تحریک انصاف اقتدار میں لائی گئی تو عمران خان نے کئی دہائیوں کی بدعنوانی اور اپنوں کو نوازنے کی روایت ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ساڑھے تین برس گزر جانے کے باوجود وہ اپنے دعوے پورے کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے جسکے اثرات خیبرپختونخوا کے حالیہ بلدیاتی الیکشن میں واضح طور پر نظر آئے جہاں انکی جماعت پچھلے آٹھ برس سے برسراقتدار ہے۔

اب حکومت کی جانب سے 2022 میں معیشت کی شرح نمو چار فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، تاہم ایسا ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ پچھلے تین برس سے ملک کے معاشی حالات بڑی حد تک جمود کا شکار رہے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق گذشتہ سال پاکستان میں افراط زر کی شرح تقریباً 10 فیصد تک پہنچ گئی۔ عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے خوردنی تیل کی قیمت میں 130 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ایک سال میں ایندھن کی قیمت 45 فیصد بڑھ کر 145 روپے فی لیٹر ہو چکی ہے۔

ایسے میں اکثر پاکستانیوں کی ناراضی نے عمران خان کے اگلے الیکشن میں دوبارہ انتخاب کے امکانات کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ حکومت اپنی اقتصادی کامیابیوں پر شیخیاں مارنے میں مصروف ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی ساکھ سے محروم ہو چکی ہے۔

عمران خان نے ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی مہم چلائی تھی جس میں کاروباروں اور افراد پر مؤثر ٹیکس لگایا جائے گا جب کہ غریبوں کے لیے سماجی بہبود کے منصوبوں کو فنڈ فراہم کیا جائے گا لیکن سب کچھ الٹ پلٹ ہوچکا ہے اور عوام دو وقت کی روٹی کے لئے خوار ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب عمران خان بار ہا یہی دلیل پیش کرتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل، خاص طور پر افراط زر کوئی نئی بات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کے سستے ترین ممالک میں سے ایک ہے۔

ایمرجنسی اور صدارتی نظام کا نفاذ ممکن کیوں نہیں؟

ناقدین کے مطابق کپتان کا یہ کہنا مشکلات میں گھرے پاکستانی عوام کے زخموں پر نمک چھڑنے کے مترادف ہے۔ خیال رہے کہ عمران حکومت نے 2019 میں چھ ارب ڈالر کے قرضے کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیے لیکن حکومت وعدے کے مطابق اصلاحات پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے آئی ایم ایف نے اب تک صرف ایک تہائی ہی قرضہ دیا ہے۔ مجوزہ اصلاحات میں کئی ضروری سروسز پر سبسڈیز کا خاتمہ شامل ہے۔

ان حالات میں پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے کی تکلیف دہ شرائط قبول کرنی پڑیں جن میں پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا شامل ہے۔ اس ماہ کے آخر میں آئی ایم ایف کے اجلاس میں پاکستان کو قرضے کی اگلی قسط جاری کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس سے پہلے حکومت نے منی بجٹ منظور کروایا جس میں درآمدات، برآمدات اور خدمات پر نئے ٹیکس لگائے گئے یا ان میں اضافہ کیا گیا۔ حکومت کے یہ اقدامات لاکھوں کے شہریوں کے غصے کا سبب بنے۔

ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچی پاکستانی حکومت نے حال ہی میں چین اور سعودی عرب سے تین تین ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر حاصل کیے۔ معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ وہ تمام قرضے جو اب کہیں سے بھی لیے جا رہے ہیں ماضی کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے ہیں لیکن مسئہ یہ ہے کہ بنیادی طور پر معیشت دیوالیہ ہو چکی ہے۔ ایسے میں سیاسی و معاشی ماہرین سمجھتے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں کپتان کا جیتنا تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔

Back to top button