زلفی بخاری کو عمان میں وزیر کا پروٹوکول کیوں ملا

پچھلے برس راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں لگنے والے الزامات کے بعد عمران خان کے دست راست زلفی بخاری بطور وزیر اعظم کے معاون خصوصی فارغ ہو جانے کے باوجود اپنے غیر ملکی دوروں کے دوران سفارت خانوں میں وزیر کا پروٹوکول حاصل کر رہے ہیں جو کہ انکا استحقاق نہیں۔ وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز زلفی بخاری ان دنوں قطر کے دورے پر ہیں جہاں وہ پاکستانی سفارت خانے کے توسط سے عمانی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

عمان کے ایئرپورٹ پر بھی پاکستانی سفیر نے انکا استقبال کیا۔ اب انکے اس دورے کے بارے میں بھی عمان میں پاکستانی سفارت خانہ سرکاری طور پر سوشل میڈیا اکاونٹس سے معلومات شیئر کر رہا ہے۔ ایسی ہی ایک پریس ریلیز کے مطابق پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے اپنے دورے کے دوران عمان کے وزیر برائے افرادی قوت اور وزیر صحت سے ملاقاتیں کی ہیں۔ زلفی بخاری نے ویژن 2040 کیلئے سلطنت عمان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان حکومت عمان کے ویژن 2040 میں اہم ترین کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔

لہٰذا سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ زلفی کس حیثیت میں ایسی ملاقاتیں کر رہے ہیں اور حکومت کے ایما پر یقین دہانیاں کروا رہے ہیں جبکہ ان کے پاس کوئی حکومتی عہدہ بھی نہیں۔ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی سفارت خانہ اس دورے کے دوران اتنا سرگرم کیوں ہے خصوصا جب عمران خان خود زلفی بخاری کی جگہ حال ہی میں سید طارق محمود الحسن کو اپنا معاون خصوصی برائے اوورسیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ تعینات کر چکے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ زلفی کے خاندان کا پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستانیوں کو بیرون ملک بھجوانے کا کاروبار ہے لہذا وہ اسی لئے عمان کے وزیر برائے افرادی قوت سے ملے ہیں۔

عمان کے دورے بارے رابطہ کرنے پر زلفی بخاری نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’یہ میرا ذاتی دورہ ہے۔ میری مصروفیات میں سے کسی ایک کا انتظام بھی سفارت خانے کی جانب سے نہیں کیا گیا۔ عمان کے جن چند وزراء سے میں نے ملاقاتیں کی ہیں ان سے میرے ذاتی تعلقات ہیں۔ کرونا میں جب بہت سے پاکستانی پھنس گئے تھے تو انھوں نے میری اور پاکستانی ورکرز کی بہت مدد کی تھی۔ میں نے خود کال کرکے ذاتی حیثیت میں ملاقاتیں طے کیں۔ تاہم انھوں نے سفیر کو احتراماً ملاقاتوں میں مدعو کیا۔‘

اگلے الیکشن میں PTI کی دھجیاں کیوں اڑنے والی ہیں؟

پاکستانی سفارت خانے کے مطابق زلفی بخاری تین روزہ دورے پر ہیں۔ ہوائی اڈے پر پاکستانی سفیر، سفارت خانے کے حکام اور پاکستان کمیونٹی کے افراد انکا خیر مقدم کیا۔ سفارت خانے نے بتایا کہ زلفی بخاری اپنے دورے کے دوران پاکستانی کمیونٹی کے افراد سے ملاقات کرںی گے اور ان سے خطاب بھی کریں گے۔ سفارت خانے کے حکام کے مطابق زلفی بخاری کے دورے سے قبل ہی نہ صرف تیاریاں شروع کر دی گئی تھیں بلکہ سوشل میڈیا پر اس دورے کی بہتر تشہیر کے احکامات بھی ملے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سفارت خانے کے ٹویٹر اور فیس بک پیج پر اس دورے کی کوریج کی جا رہی ہے۔

اس معاملے پر اردو نیوز نے پاکستان کے سفارت خانے سے رابطہ کیا اور دوسرے کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی۔ سفارت خانے کے عملے کی جانب سے بتایا گیا کہ سفیر صاحب زلفی بخاری کے ساتھ مصروف ہیں اور جب وہ دفتر آئیں گے تو آپ کے سوالات ان تک پہنچا دیے جائیں گے۔ اس حوالے سے سابق سفیر عبدالباسط نے بتایا کہ کسی سابق وزیر یا مشیر کے لیے سفارتی پروٹوکول کسی کتاب میں نہیں لکھا ہوا۔

پروٹوکول صرف سابق صدر یا وزیر اعظم کو دیا جا سکتا ہے۔ بیرون ملک دورے پر زلفی بخاری کو سفارت خانے کی جانب سے پروٹوکول دینا بنتا نہیں ہے تاہم یہ ہو سکتا ہے کہ وزیر خارجہ یا دفتر خارجہ سے خصوصی ہدایات دی گئی ہوں۔‘ سابق سفیر آصف درانی نےبتایا کہ ’کسی بھی سابق وزیر یا مشیر کے حوالے سے سفارت خانہ سفارتی پروٹوکول کے لحاظ سے پابند نہیں ہوتا کہ وہ ان کے دورے میں کسی قسم کی معاونت کرے تاہم ذاتی حیثیت میں خیرسگالی کے طور پر تھوڑا بہت کیا ضرور جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بے شک سابق وزیر یا مشیر ہو جب دفتر خارجہ سے ہدایات چلی جائیں کہ ان کو پروٹوکول دینا ہے، ملاقاتیں کروانی ہیں تو پھر سفارت خانہ پابند ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ کرے جس کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ دفتر خارجہ نے ہدایات کتنی واضح دی ہیں۔‘

اس معاملے پر جب ترجمان دفتر خارجہ سے رابطہ کیا تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا تاہم ان کے دفتر نے اردو نیوز سے رابطہ کرکے بتایا کہ زلفی بخاری کے دورہ کے حوالے سے تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ جونہی معلومات جمع ہوں گی تو وہ شیئر کر دی جائیں گی۔

Back to top button