وقار ذکا کرپٹو کرنسی بزنس کے دفاع میں کیوں ڈٹ گئے؟

معروف سوشل میڈیا انفلوئنسرز وقار زکا نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کرپٹو کرنسی کے فراڈ میں ملوث ہونے کے الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہر سال 20 سے 22 لاکھ روپے ٹیکس ادا کرتے ہیں، انکی ساری دولت قانونی اور ظاہر شدہ ہے، اور اگر پھر بھی کوئی ان پر منی لانڈرنگ کا الزام عائد کرتا ہے تو بتائے کہ میں نے کیسے منی لانڈرنگ کی؟
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بنوانے اور اس بزنس کو لیگل بنانے کے لیے سرگرم ٹی وی میزبان وقار ذکا نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ انہوں نے نجی نیوز چینل ’دنیا نیوز‘ پر ایک ارب روپے کا نوٹس بھجوایا ہے کیونکہ اس نے مطالبہ کیا تھا کہ مجھے کرپٹو کرنسی کو پروموٹ کرنے پر گرفتار کیا جائے۔

وقار نے کہا کہ میرے خلاف من گھڑٹ خبریں چلائی گئیں کہ وقار تین سال سے منی لانڈرنگ کر رہا ہئ اور اسے گرفتار نہیں کیا جا رہا۔ چنانچہ میں نے انہیں ایک ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔ اب ان کے خلاف عدالت سے رجوع کروں گا کہ وہ ثابت کریں کہ میں نے کیسے منی لانڈرنگ کی؟‘

یاد رہے کہ سٹیٹ بیک آف پاکستان نے 2018 میں بینکوں کو ایڈوائس دی تھی کہ کرپٹو کرنسی اور اس کے ایکسچینز سے ٹرانزیکشن نہ کی جائیں۔ تاہم وقار زکا اس کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں چلے گئے اور کیس ابھی زیر سماعت ہے۔ تاہم کرپٹو کرنسی بارے پاکستانی صارفین کے ساتھ 18 ارب روپے کے فراڈ کا کیس سامنے آنے کے بعد اب مرکزی بینک اور حکومت کرپٹو بزنس پر مکمل پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے۔

اس سے پہلے وقار زکا کی درخواست پرسندھ ہائیکورٹ نے اکتوبر 2021 میں وفاقی حکومت کو تین ماہ میں کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کرنے کی پالیسی تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس پر رپورٹ پیش کرنے کے لیے سٹیٹ بینک کی نائب گونر کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی۔ اس کمیٹی نے 12 جنوری 2022 کو اپنی رپورٹ پیش کی کہ کرپٹو کرنسی کو غیر قانونی قرار دے دیا جانا چاہیے اور ملک میں اس میں تجارت پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ تاہم عدالت نے مکمل پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے رپورٹ وزارت خزانہ اور وزارت قانون کو بھیجنے کی ہدایت کی۔

تاہم دوسری جانب وقار ذکاء نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے ایما پر انہیں حکام کی جانب سے دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ وہ سندھ ہائی کورٹ میں دائر کردہ اپنی پٹیشن واپس لے لیں لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے۔ خیال رہے کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سربراہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا ادارہ کرپٹو کرنسی کی ویب سائٹس کو بند کرنے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیش اتھارٹی سے رابطہ کر چکا ہے تاکہ فراڈ اور ممکنہ منی لانڈرنگ کو روکا جا سکے۔

کیا ڈالر 6 سے 8 روپے مزید مہنگا ہونے والا ہے؟

اسی طرح وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز کہہ چکے ہیں کہ حکومت کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کرنا چاہتی ہے۔
کرپٹو کرنسی کے استعمال کے حامی وقار ذکا نے بتایا کہ صدر عارف علوی کئی بار پاکستان میں بلاک چین ٹیکنالوجی بنانے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں، مگر دوسری جانب حکومت کہتی ہے کہ کرپٹو کرنسی نہیں چلنے دیں گے۔ وقار کے بقول اگر وزیر اعظم عمران خان انہیں سات منٹ دے دیں تو وہ کرپٹو کرنسی کا پورا نظام انہیں سمجھا دیں گے اور پاکستان کا قرض اتارنے کا فارمولا دے سکتے ہیں۔

وقار ذکا نے دعویٰ کیا: ’مجھے 10 جنوری کو ایک نجی نمبر سے آنے والی کال میں کہا گیا کہ عدالت میں جو سٹیٹ بینک کہے اس کی حمایت کریں۔ ’12 جنوری کو عدالت میں جب سٹیٹ بینک نے کہا کہ ہم کرپٹو کرنسی پر پابندی لگانا چاہتے ہیں تو میں نے جواب دیا یہ تو آرٹیکل 18کی خلاف ورزی ہے۔ ’اس پر جسٹس کریم خان آغا نے کہا کہ سو فیصد کیسے بند کر سکتے ہیں تین ماہ میں واضع پالیسی بنا کر لائیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے اہلکاروں کو کرپٹو کرنسی کی کوئی سمجھ نہیں۔ ’ایف آئی اے ایک ڈیمو کر کے دکھائے کہ بائنانس یعنی کرپٹو کرنسی کا ڈیجیٹل ایکسچیج اور کرپٹو سے فراڈ کیسے ہوتا ہے، انہیں معلوم ہوجائے گا کہ ایف آئی اے اہلکار کتنے ماہر ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کرپٹو کرنسی چلتی کیسے ہے۔‘

Back to top button