جب بلوچستان جل رہا تھا تو صدر علوی ورڈل گیم کھیل رہے تھے

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے اپنی ٹویٹ ڈلیٹ کردی جس میں انہوں بڑے فخریہ انداز میں ورڈل گیم میں اپنا سکور بتایا تھا، یہ وہ موقع تھا جب بلوچستان میں سیکورٹی فورسز پر دہشت گردوں نے حملہ کرکے پاک فوج کے 12 جوانوں کو شہید کردیا تھا،صدر مملکت کی اس ٹویٹ پر عوام کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار بھی کیا گیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ عارف علوی نے صدارت کے منصب اور اسکے تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کر ایک انتہائی غیر سنجیدہ حرکت کی ہے ، خاص طور پر ایسے اندوہناک موقع پر جب فوجی جوان ملکی دفاع کی خاطر بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں اپنی جانیں قربان کر رہے تھے۔
سوشل میڈیا صارفین نے عارف علوی کے اس عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نازک وقت میں ورڈل گیم کھیلنا اور پھر اپنا اسکور عوام کو بتانا ایک سنگین مذاق سے کم نہیں۔ بجائے کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ لڑائی میں مصروف اپنے فوجی جوانوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کوئی پیغام جاری کرتے، انہوں نے اپنی خود نمائی کے لئے ٹوئٹر پر ہنسی مذاق شروع کردیا جو بطور سربراہ ریاست انہیں زیب نہیں دیتا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ عارف علوی کا یہ عمل ان کے غیر سنجیدہ رویے کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صدر علوی نے اس طرح کی بونگی ماری ہو چونکہ وہ ماضی میں بھی ایسی حرکتیں کرتے رہے ہیں اور تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے 3 فروری کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اپنا ’ورڈل‘ گیم کا سکور شیئر کیا تھا، عین اس وقت پاکستانی فوج کے جوان بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں مصروف تھے اور ایک شہادت بھی یو چکی تھی۔ تاہم عارف علوی اتنے لاعلم اور فارغ تھے کہ وہ گیم کھیلنے میں مصروف رہے۔
جہاں سوشل میڈیا صارفین ان کی ٹویٹ پر طنز و مزاح سے بھرپور تبصرے کرتے ہوئے نظر آئے وہیں بعض صارفین نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا ماننا ہے کہ ملک کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے دوران صدرِ پاکستان کا گیم کھیلنا اور اپنا سکور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر شیئر کرنا انتہائی نامناسب عمل ہے۔ متعدد صارفین کی ناراضی شاید صدر عارف علوی کے گیم کھیلنے پر نہیں بلکہ اس کے لیے وقت کے انتخاب پر تھی۔
فواد مسعود نامی صارف نے لکھا کہ سر مجھے معلوم ہے کہ آپ کے پاس وقت گزاری کے لیے گیمز کھیلنے کے لیے کافی وقت ہے مگر جب ریاست اور حکومت بلوچستان حملوں پر ٹویٹ کر رہی ہو، تو ایسی غیر سنجیدہ حرکت حکومتی بے حسی کا تاثر پیدا کرتی ہے۔ ہمیں آپکا یہ عمل کافی بُرا محسوس ہوا۔
سنیئر صحافی طلعت حسین نے صدر علوی کی ٹویٹ کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے تنقید کی کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات ہورہے ہیں اور صدر گیم کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’یہاں تک کہ ان کے پاس بلوچستان میں جاری دہشتگردی کے واقعات کے حوالے سے بھی کہنے کو کچھ نہیں۔ شانزے نامی صارف نے صدرِ پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’گیم کھیلنے کے بعد بلوچستان کے حالات پر ایک ٹویٹ کر دیجیے گا پلیز۔‘صنم جمالی نامی صارف نے اس ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ جب بلوچستان جل رہا تھا تو علوی ورڈل کھیل رہے تھے۔
ناظم جوکھیو قتل کیس: وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ
شبانہ صادق نامی صارف نے لکھا کہ ’ضرور ان کے پوتے اور پوتیاں ان کے فون سے کھیل رہے ہوں گے۔‘جبکہ چارلی چیپلن نامی صارف نے اس ٹویٹ پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہمارے صدر ہمیں کبھی مایوس نہیں کرتے۔معز نامی صارف نے وہ مشہورِ زمانہ میم پوسٹ کیا جس میں ایک بچی پس منظر میں جلتے ہوئے گھر کے ساتھ ایک ذومعنی مسکراہٹ لیے ہوئے ہے۔
اُنھوں نے لکھا کہ ’صدر صاحب، بلوچستان، مہنگائی اور دیگر تمام خراب حالات کے دوران۔ ڈاکٹر وقاص شبیر نے لکھا کہ ’صدر صاحب، ورڈل کو بھولیں اور بلوچستان کی صورتحال پر اسمبلی کا اجلاس بلائیں۔ وہاں پر دہشتگردی کی بدترین لہر جاری ہے۔ ہمیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے مگر لگتا ہے ہم نے اس سے چشم پوشی کر لی ہے۔
تاہم صدر عارف علوی نے اپنی لترپریڈ کے بعد اس ٹویٹ کو ڈیلیٹ تو کردیا لیکن اپنی اس اوچھی حرکت پر معافی مانگنے سے گریزاں ریے۔ ان کے بیٹے اواب علوی نے اپنی ایک ٹویٹ میں والد کے حوالے سے لکھا کہ ’مجھے پتہ ہے کہ وہ ورڈل گیم سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ ان کے خاندان میں ایک مقابلہ چل رہا ہے اور اس مقابلے میں ان کے کچھ پوتے، پوتیاں، نواسے اور نواسیاں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ ورڈل گیم کو اکتوبر میں ریڈٹ سافٹ وئیر انجئینئر جوش وارڈل نے بنایا تھا۔
تیسری سہ ماہی کے دوران کمپنی نے گیمز، کھانا پکانے اور پراڈکٹس ریوو کے لیےایک لاکھ 35 ہزار نئے اراکین کو شامل کیا ہے۔ورڈل گیم صارفین کو چھ کوششوں میں پانچ حرفی لفظ بوجھنے کا چیلنج دیتی ہے۔ اس گیم کی سادگی اور دن میں ایک بار کھیلنے کی حد کی وجہ سے اس نے سوشل میڈیا صارفین کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور بظاہر صدر پاکستان بھی اس گیم کو کھیلنے میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔
یہ گیم جیتنے کے بعد آپ نتائج سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کرسکتے ہیں، تاہم ایک نازک موقع صدر عارف علوی ایسا کرکے سوشل میڈیا صارفین کے غیض و غضب کا نشانہ بنے جس کے بعد مجبوراً انہیں اپنے ورڈل سکور بارے ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑ گئی۔
