کیا عدالتی فیصلے کے بعد ججوں سے پلاٹس واپس لیے جائیں گے

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو الاٹ کیے گے پلاٹ غیر قانونی قرار دیے جانے کے فیصلے سے درجنوں جج متاثر ہوں گے جن میں نئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور سابق چیف جسٹس گلزار احمد بھی شامل ہیں۔

لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا عدالتی فیصلے کے بعد جج حضرات سے پلاٹ واپس لے جائیں گے یا نہیں؟
یاد رہے کہ 4 فروری 2022 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور بیوروکریٹس کے لیے خصوصی سیکٹرز میں پلاٹس کی سکیم کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ایف 12، جی 12، ایف 14 اور ایف 15 کی سکیموں کو غیر آئینی قرار دینے کے ساتھ ساتھ اسے مفاد عامہ کے بھی خلاف قرار دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ریاست کی زمین اشرافیہ کے لیے نہیں بلکہ یہ صرف عوامی مفاد کے لیے ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جج، بیورکریٹس اور پبلک آفس ہولڈرز مفاد عامہ کے خلاف ذاتی فائدے کی پالیسی نہیں بنا سکتے۔

واضح رہے کہ ان سیکٹرز میں سابق چیف جسٹس گلزار احمد اور نئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ سپریم کورٹ کے موجود دیگر جسٹس صاحبان کے بھی پلاٹ ہیں۔ اس سے پہلے ماضی قریب میں نئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ماتحت عدلیہ کے ججز کے پلاٹ منسوخ کرنے سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیے تھے کہ اگر حکومت کی پالیسی کے تحت ججز کو پلاٹ دیے جاتے ہیں تو یہ مفاد کے ٹکراؤ کے زمرے میں نہیں آتا۔

لیکن سپریم کورٹ کے تین ججز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحیٰ آفریدی نے یہ کہہ کر پلاٹ لینے سے انکار کر دیا تھا کہ انھیں بطور جج پہلے بہت زیادہ مراعات ملتی ہیں اس لیے انھیں پلاٹ نہیں لینا چاہیے۔

چیف جسسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جج اور بیوروکریٹس اصل سٹیک ہولڈر یعنی عوام کی خدمت کے لیے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی آئین کے خلاف کوئی سکیم نہیں بنا سکتی۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اعلیٰ عدلیہ اور ماتحت عدلیہ کے ججز کو پلاٹس کے بینفشری بنانے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہاؤسنگ اتھارٹی سپریم کورٹ سمیت دیگر عدالتوں میں زیر التوا کیسز میں بنیادی فریق ہوتی ہے اور کیا ایسے حالات میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹس کے ججز کو وفاقی حکومت کا بینیفشری بنا دینا مناسب تھا؟

عدالت نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور ماتحت عدلیہ نے کبھی بھی پلاٹس پالیسی میں شمولیت کی درخواست نہیں دی۔ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواستوں کی سماعت کے دوران کوئی وضاحت نہیں دی گئی کہ بغیر درخواست کے ججز کو اس پالیسی میں کیوں شامل کیا گیا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ حیران کن طور پر پلاٹس حاصل کرنے والوں میں اعلیٰ عدلیہ کے موجودہ اور ریٹائر ججز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس فیصلے میں سنہ 2019 میں برطرف کیے گئے ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی کا نام لیے بغیر کہا گیا ہے کہ کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کیس میں سزا یافتہ جج بھی پلاٹ لینے والوں میں شامل ہے۔

اس کے علاوہ اس فیصلے میں اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پرویز القادر میمن کا نام لیے بغیر کہا گیا ہے کہ رشوت وصولی کے اعتراف پر برطرف جج بھی پلاٹس لینے والوں میں شامل تھے۔ اس جج کو ایک نیوز چینل کے مالک کو ضمانت منظور کرنے کے بدلے پچاس لاکھ روپے بطور رشوت لینے کی پاداش میں برطرف کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں کا ہر جج پلاٹس سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہے اس کے علاوہ جو ججز نااہل تھے اور خراب ساکھ رکھتے تھے اور جن کی نگرانی کی جا رہی تھی وہ بھی پلاٹس لینے والوں میں شامل ہیں۔ عدالت نے کہا کہ انضباطی کارروائی پر برطرف کیے گئے جج بھی پلاٹس لینے والوں میں شامل ہیں۔ عدالت نے سیکریٹری ہاؤسنگ کو دو ہفتے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم بھی دیا ہے۔

ثاقب نثارآڈیو ٹیپ:اٹارنی جنرل انکوائری کمیشن بنانے کے مخالفت

یاد رہے کہ پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت سمجھے جانے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین اچھی ساکھ والے جج حضرات ایسے ہیں جن کو وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں اپنے دیگر ساتھی ججوں کی طرح ایک بھی رہائشی پلاٹ نہیں ملا حالانکہ اکثر پلاٹس قرعہ اندازی میں نکلے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ قرعہ اندازی کرنے والے جانتے تھے کہ یہ جج پلاٹ وصول نہیں کریں گے لہٰذا انہیں نام نہاد قرعہ اندازی سے باہر رکھا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے 17 ججوں میں سے جن جج حضرات کو پلاٹ نہیں دیے گے وہ اصولا بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ججوں کا حکومت سے پلاٹس لینا غیر اخلاقی اور غیر آئینی عمل ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تو اپنے ایک فیصلے میں قرار دیا تھا کہ آئین اور قانون کے تحت کوئی جج یا مسلح افواج کا کوئی عہدیدار سرکاری پلاٹ یا زمین کا ٹکڑا لینے کا حقدار نہیں ہے۔ تاہم حکومت اس فیصلے کی خلاف ورزی میں ججوں کو مسلسل پلاٹس دیے چلے جا رہی تھی اور وہ بھی انہیں قبول کئے چلے جارہے تھے جو کہ عدالت عظمی کے اپنے فیصلے کی روشنی میں غیر قانونی عمل ہے۔

سپریم کورٹ کے جن معزز ججوں نے حکومت وقت سے رہائشی پلاٹس وصول کیے ہیں ان کا مؤقف ہے کہ ان کا یہ فعل اس لیے آئینی ہے کہ پرویز مشرف نے اپنے دور میں بنائی گئی ایک پالیسی کے تحت سپریم کورٹ کے ہر جج کو اسلام آباد میں دو رہائشی پلاٹس کا حقدار قرار دیا تھا جبکہ ہائی کورٹ کے جج کیلئے ایک پلاٹ طے پایا تھا۔

تاہم معزز جج حضرات شاید بھول گئے کہ پرویز مشرف وہی شخص تھا جسے دو بار پاکستان کا آئین پامال کرنے کے جرم میں پاکستان کی سب سے بڑی فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ ججوں کی جانب سے پلاٹس وصولی کے ناقدین کہتے ہیں کہ اگر مشرف نے کوئی ایسا فیصلہ کیا بھی تھا تو وہ عدلیہ کو کرپٹ کرنے کے لیے تھا اسی لیے اسے آئین کا حصہ نہیں بننے دیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کی ججوں کے لیے پلاٹ الاٹمنٹ انکی بھرتی کی شرائط میں شامل نہیں جو صدارتی آرڈر میں لکھی ہیں اور جنکے تحت آئین میں ججوں کیلئے تنخواہ، پنشن اور سہولتوں کا ذکر ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ججوں کو پلاٹ الاٹ کرنے کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا ان لوگوں سے پلاٹ واپس لے جائیں گے یا نہیں؟

Back to top button