مجید بریگیڈ بلوچستان میں فوج پر حملے کیوں کر رہا ہے؟

بلوچستان کے شہروں نوشکی اور پنجگور میں سکیورٹی فورسز پر حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے پیچھے بلوچستان لبریشن آرمی یا بی ایل اے کے ذیلی گروپ مجید بریگیڈ کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ گروپ خاص طور پر مسلح افواج اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف دہشت گرد کارروائیاں کرتا ہے جس میں بھارت سمیت چند دوسرے ہمسایہ ممالک کی سرپرستی کے اشارے بھی ملے ہیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں کچھ ہفتوں سے حالات زیادہ کشیدہ ہیں اور بلوچ علیحدگی پسند کالعدم تنظیموں کی جانب سے مسلسل سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے علاقے کیچ میں سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر گذشتہ ہفتے ہونے والے حملے میں سیکیورٹی فورسز کے 10 جوان شہید ہو گئے تھے۔

اب 2 اور 3 فروری کی درمیانی رات بلوچستان کے علاقے نوشکی اور پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کے دو کیمپوں پر عسکریت پسندوں کے حملوں میں سیکیورٹی فورسز کے 12 جوان شہید ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں 9 دہشت گرد مارے گئے۔ اس حملے کی ذمہ داری علیحدگی پسند کالعدم تنظیم بلوچستان لیبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

تنظیم کے ترجمان جنید بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تنظیم سے منسلک مجید بریگیڈ کے مسلح جنگجوئوں نے سیکورٹی فورسز کے جوانوں کو یرغمال بنایا اور اس حملے میں 100 سے زائد سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے۔ تاہم پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے کئے گئے حملوں کو کامیابی سے پسپا کیا گیا۔

بلوچستان ھکومت کے مشیر داخلہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے دو واقعات میں سیکیورٹی فورسز کے 12 جوان شہید ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق جتنے منظم منصوبہ بندی کے ساتھ یہ حملے کئے گئے تھے، اس میں بیرونی طاقتوں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم اب بی ایل اے کے مجید بریگیڈ نے باقاعدہ ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

یاد رہے کہ مجید بریگیڈ اور اس کے فدائین کا نام پہلی بار 30 دسمبر 2011 کو سابق وفاقی وزیر نصیر مینگل کے گھر پر کار بم حملے کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد اس بریگیڈ کا کوئی واضح حملہ نظر نہیں آتا۔ تقریباً سات سال کے بعد اگست 2018 کو بلوچستان کے سونے اور تانبے کے ذخائر والے ضلع چاغی کے صدر مقام دالبندین میں ایک ٹرک سامنے سے آنے والی چینی انجنیئرز کی بس سے ٹکرا دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں تین چینی انجنیئروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔

موجودہ سیاسی سیٹ اپ کا جانا کیوں ٹھہر چکا ہے؟

بی ایل اے کی مجید بریگیڈ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور بتایا کہ حملہ آور نوجوان ریحان تھا جو مجید بریگیڈ کے سربراہ اسلم استاد عرف اسلم اچھو کا بیٹا تھا۔ اسی سال یعنی 2018 کو کراچی میں نومبر میں چین کے سفارتخانے پر حملہ کیا گیا، جس میں چار حملہ آور پولیس مقابلے میں مارے گئے، اس حملے کی ذمہ داری بھی مجید بریگیڈ نے ہی قبول کی۔

2019 میں مجید بریگیڈ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مرکز گوادر شہر میں پی سی ہوٹل پر حملہ کیا، جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے جبکہ 3 حملہ آور مارے گئے۔ مجید بریگیڈ نے اس کارروائی کو فدائی مشن قرار دیا۔ اگلے سال جون 2020 میں کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ کیا گیا جہاں چار حملہ آور مارے گئے، اس کی ذمہ داری بھی مجید بریگیڈ نے ہی قبول کی۔ نوشکی اور پنجگور میں بھی حالیہ حملوں کو مجید بریگیڈ نے فدائی حملے قرار دیا ہے۔ 2018 سے اب تک ایسے سات حملے ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ 1970 کی دہائی میں بلوچستان لبریشن آرمی یا بی ایل اے نامی تنظیم وجود میں آئی تھی جب سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پہلے دور حکومت میں بلوچستان میں ریاست پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت شروع کی گئی تھی۔ تاہم سابق فوجی آمر ضیاءالحق کے اقتدار پر قبضے کے نتیجے میں بلوچ قوم پرست رہنماﺅں سے مذاکرات اور مسلح بغاوت کے خاتمے کے بعد بی ایل اے بھی پس منظر میں چلی گئی تھی۔

بعد ازاں ایک اور فوجی آمر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس نواز مری کے قتل کے الزام میں قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری کی گرفتاری کے بعد سال 2000 سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سرکاری تنصیات اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔

سال 2006 میں نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد حکومتِ پاکستان نے بلوچ لبریشن آرمی کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔ حکام کی جانب سے بلوچ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری کے بیٹے نوابزادہ بالاچ مری کو بی ایل اے کا سربراہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔

Back to top button